--> اللہ جل جلالہ

اللہ جل جلالہ

اللہ جل جلالہ

اللہ جل جلالہ

اللہ جل شانہ ۔ ۔ قابلِ تعریف و لائقِ عبادت ہے

آسمان اور زمین اور ان میں موجود ساری چیزیں اس کی تسبیح و پاکی بیان کرتی ہیں۔

جس کو اللہ کی زیادہ معرفت ہو، وہ اللہ سے زیادہ خوف رکھتا ہے

رات اور اس میں موجود ساری پوشیدہ چیزیں، دن اور اس میں موجود ساری ظاہری چیزیں ۔ ۔ خشکی و سمندر ۔ ۔ ۔ یہ سب اللہ کی تعریف اور اس کی پاکی کرتے ہیں اللہ تعالی فرماتے ہیں: {ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو، ہاں یہ صحیح ہے کہ تم ان کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ } (الإسراء: 44)

&"اللہ&" کی ذات ساری معلومات میں سے زیادہ واضح چیز ہے ۔ ۔ ۔ دل اس کو جانتے ہیں اور روح اس کی معرفت کے سامنے سرتسلیم خم کرتی ہے۔

&"اللہ&" کی ذات کو دل پروردگار مانتے ہیں، اس کی معافی کی امید رکھتے ہیں، اور اس کے ذکر سے ساری مخلوقات مانوس ہے۔

&"اللہ&" نے اپنے مکلف بندوں کے دلوں میں خوف و امید اور ایک فطری حاجت پیدا کردی ہے، جس کی برآری اسی وقت ممکن ہے، جب بندہ اللہ کے دربار کی طرف رجوع ہوجائے

لفظِ &"اللہ&" ساری اچھی اچھی صفات رکھنے والی الہی ذات کا نام ہے۔

بندوں کو اللہ کی ضرورت

ایمان کے علاوہ تیار کئے جانے والا ہر توشہ ختم ہوجائے گا، اور اللہ کے علاوہ اختیار کیا جانے والا ہر سہارا ڈھیر ہوجائے گا۔

بندہ اپنی پریشانیوں اور مسائل کے وقت کسی پناہ گاہ کا محتاج ہوتا ہے، اور بندے کی فطرت میں یہ چیز داخل ہے، اسی لئے وہ ہر حال میں اپنے پروردگار کا محتاج ہوتا ہے، اور اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کی کوشش میں لگا رہتا ہے، کیونکہ وہ عنقریب اس سے جا ملنے والا ہے۔

جب بندہ اللہ کا محتاج بن جائے، اپنے تمام فرائض کی ادائیگی پوری کرلے، اللہ کے پاس خود کو ملنے والے بدلے پر یقین کرلے، اور صبر سے کام لے، تو اللہ تعالی اُس کو ساری مخلوق کا امام بنادیتا ہے، اور وہ صاحبِ اقتداء پیشوا بن جاتا ہے:{اور جب ان لوگوں نے صبر کیا، تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ }(سجدہ: 24)

اسی لئے اللہ تعالی نے صبر اور یقین کو دینِ اسلام میں امامت کا سبب مانا ہے۔

فطری طور پر مخلوق اپنے خالق سے مربوط رہنے پر مجبور ہے، نیز اپنے محسن و کرم فرما سے محبت کرنا بھی مخلوق کا فطری شیوہ ہے، اور وہ محسن و کرم فرما اللہ تعالی کی ذاتِ گرامی ہے۔

اللہ کی معرفت کا مقام

اللہ تعالی کا یہ فضل و کرم ہوا کہ اس نے بندے کے لئے اپنی معرفت کے راستےآسان بنادئے۔

کسی بھی علم کا مقام اس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کے مقام سے مربوط ہوتا ہے، اور اللہ تعالی کی ذات، اس کے اسماء و صفات کی معرفت، اس کی حکمت و دانائی اور مخلوق پر اس کے حقوق کی معرفت سے بڑھ کر کسی اور چیز کا مقام نہیں ہے، اسی لئے عقیدہ توحید دین کا خلاصہ ہے، اور تقریبا قرآن کریم کا دو تہائی حصہ عقیدہ توحید کی صاف الفاظ میں وضاحت کرتا ہے۔

ہر چیز میں اللہ کی نشانیاں پنہاں ہیں:

اللہ تعالی نے اپنی مخلوقات میں سے ہر چیز میں اپنے وجود، وحدانیت، عزت و کمال اور اپنی عظمت و جلال کی نشانی رکھی ہے، بلکہ اس نے تو ان نشانیوں میں غور کرنے اور سوچنے کا حکم بھی دیا، اور ہمیں اس بات سے آگاہ کیا کہ غور و فکر کرنے والوں، علم و معرفت رکھنے والوں اور اپنے عقلوں کو کام میں لانے والوں کے لئے یہ ساری چیزیں نشانیاں ہیں۔

اللہ کی کتاب قرآن کریم میں عقلمندوں کے لئے جن نشانیوں کا ذکر کیا ہے، اور جو انہیں ایک بے نیاز اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتی ہیں، ان نشانیوں پر ہم ایک تیزی سے نظر پھیرلیتے ہیں، اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ }(الذاریات: 20- 21)

اللہ تعالی فرماتے ہیں:{آپ کہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ } (یونس: 101)

اللہ تعالی فرماتے ہیں:{بلا شبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کردیا، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے پاس سفارش کرنے والا نہیں۔ ایسا اللہ تمہارا رب ہے، سو تم اس کی عبادت کرو، کیا تم پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، اللہ نے سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے انصاف کے ساتھ جزاء دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کَھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے۔ وہ اللہ تعالی ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں، تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ اللہ تعالی نے یہ چیزیں بے فائدہ نہیں پیدا کیں۔ وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلارہا ہے جو دانش رکھتے ہیں۔ بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور اللہ تعالی نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے، ان میں ان لوگوں کے واسطے دلائل ہیں جو اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔ }(یونس: 3 – 6)

اللہ تعالی فرماتے ہیں:{آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو اللہ تعالی کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹّوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں و زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا، تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔} (آل عمران: 190 - 191)

اللہ تعالی یہ بھی فرماتے ہیں:{اور خود تمہاری پیدائش میں اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ پھیلاتا ہے یقین رکھنے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔} (جاثیۃ: 4)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے۔} (الحج: 46)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے، اور زنیت دی ہے، اور اس میں کوئی شگاف نہیں۔ }(ق: 6)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{یہ ہے صنعت اللہ کی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے۔ } (النمل: 88)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ } (طٰہٰ: 54)



متعلقہ: