رب (پالنہار) کا مطلب1

رب (پالنہار) کا مطلب1

رب (پالنہار) کا مطلب

اللہ ۔ ۔ ۔ لفظی اعتبار سے میٹھا، معنوی اعتبار سے جاذب نام ہے، اس کا معنی معبودیت، تعلق و لگاؤ، محبت، یکتا، لائقِ پرستار اور اخلاص ہے ۔ ۔ ۔ کیا ہی بڑا نام ہے اللہ!

رب: بے مثال آقا و سردار کا نام ہے، مخلوق پر اپنی نعمتوں کو نچھاور کرتے ہوئے ان کے معاملات کو سدھارنے والے اس مالک کا نام ہے جس کے قبضہ قدرت میں ساری مخلوقات کی تخلیق و تدبیر ہے۔ لفظِ رب مخلوق پر اضافت کے بغیر نہیں بولا جاسکتا، جیسے گھر کا رب، یا مال کا رب، یعنی گھر کا یا مال کا مالک۔

{رہی اللہ ہے پیدا کرنے وجود بخشنے والا، صورت بنانے والا۔}(الحشر: 24)

جہاں تک اضافت کے بغیر استعمال کی بات ہے، تو یہ صرف اللہ تعالی کے لئے ہی بولا جاسکتا ہے۔

وہ اللہ خالق، پروردگار، اور صورتیں ڈھالنے والا ہے، جس نے ساری کائنات کو وجود بخشا، انہیں بے مثال شکل میں پیدا کیا، اپنی حکمت سے انہیں موزوں شکل عطا کی، اور اپنی دانائی و بزرگی سے انہیں اچھی صورت میں پیدا کیا۔ وہ اللہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنے اندر یہ مذکورہ اوصاف رکھتا ہے۔

لوگوں کو جب اپنے لئے ایک معبود کی ضرورت و حاجت کے علم سے پہلے انہیں اپنے لئے ایک رب کے محتاج ہونے کا علم رکھنا، رب کی الوہیت کو ماننے، اس پر بھروسہ رکھنے، اس سے مدد مانگنے، اور اس سے مناجات کرنے سے پہلے ان کے لئے دیرینہ ضرورتوں سے بڑھ کر عاجلانہ ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اللہ کی ربوبیت کو ماننا اللہ کی عبادت کرنے اور اس کی طرف رجوع ہونے سے زیادہ ضروری ہے۔

اللہ رب العالمین وہ ہے جو اپنے سارے بندوں کی حکمت و تدبر اور ہمہ اقسام کی نعمتوں سے پرورش کرتا ہے۔ ان نعمتوں میں سب سے زیادہ خصوصی نعمت اللہ تعالی کا اپنے منتخب بندوں کے دل، روحانیت اور ان کے اخلاق کی تربیت کرنا ہے، اسی لئے اللہ تعالی کے منتخب بندے اسی عظیم نام سے اس سے مناجات کرتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ اللہ سے اسی خصوصی تربیت کے طلبگار ہوتے ہیں۔

رب اور ربوبیت کے کئی مفہوم ہیں، جیسے کائنات میں تصرف کا حق، روزی دینے کا اختیار، صحت و تندرستی، اور صلاح و خیر کی توفیق سب کچھ اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ {وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ اور جب میں بیمار پڑجاؤں تو مجھے شفاء عطا فرماتا ہے۔ }(الشعراء: 79-81)


ب کے موجود ہونے کے ثبوت

مؤمن: وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کو اپنا رب اور قادر مطلق مانتا ہے، اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہی اکیلا معبودِ برحق ہے۔

ساری کائنات اللہ تعالی کے موجود ہونے کا اقرار و تصدیق اور یقین رکھتی ہے، اور زبانِ حال سے اس کی گواہی دیتی ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں:{ان کے رسولوں نے انہیں کہا کہ کیا حق تعالی کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے، وہ تو تمہیں اس لئے بلا رہا ہے کہ تمہارے تمام گناہ معاف فرمادے۔ اور ایک مقرر وقت تک تمہیں مہلت عطا فرمائے، انہوں نے کہا کہ تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان خداؤں کی عبادت سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے۔ اچھا تو ہمارے سامنے کوئی کھلی دلیل پیش کرو۔ }(ابراھیم: 10)، اور کیسے اس چیز پر ثبوت کا مطالبہ کیا جائے، جو ہر چیز کے وجود کا ثبوت ہے۔

آپ اللہ تعالی کی تعریف کرتے ہیں، تو بھی یہ اسی کا فضل و انعام ہے۔ آپ ہر حال میں اللہ تعالی کے محتاج ہیں۔

اگر ہم اس طرف توجہ نہ دیں، اور رب کے موجود ہونے کے ثبوت تلاش کریں، تو ہمیں درجِ ذیل ثبوت مہیا ہوتے ہیں:

فطری ثبوت:

ساری کائنات کو فطری طور پر پرودگارِ عالم پر ایمان رکھنے والا پیدا کیا گیا ہے، اس فطرت سے وہی شخص روگردانی کرتا ہے، جس کے دل و دماغ کو اللہ تعالی نے بجھادیا ہو۔ اور فطرت و طبعیات کے اللہ تعالی کے موجود ہونے کا ثبوت ہونے پر سب سے بڑی دلیل نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:&"ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، لیکن والدین اس بچے کو یہودی، عیسائی، اور مجوسی بنادیتے ہیں، جیساکہ جانور صحیح سالم جانور ہی کو جنم دیتا ہے۔ کیا تم لوگ ان جانوروں میں کوئی نشانی یا علامت دیکھتے ہو؟&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

اللہ ۔۔۔۔ یہ وہ نام ہے جو فطرت میں منقوش ہے۔ اللہ تعالی کو ماننے کے لئے فطرت سے زیادہ کوئی اور بڑے ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

دنیا کی ہر مخلوق اپنی فطرت میں وحدانیت کا اقرار کرتی ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{پس آپ یک سو ہوکر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کردیں۔ اللہ تعالی کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، اللہ تعالی کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ }(الروم: 30) ، رب العالمین کے موجود ہونے پر یہ کچھ فطری ثبوت ہیں۔

اور اللہ تعالی کے موجود ہونے پر فطری ثبوت ہر طرح کے ثبوت سے زیادہ مضبوط و قوی ہے، لیکن صرف اس شخص کے لئے جس کو شیطان نے اپنے شکنجے میں نہ گھیر رکھا ہو، اسی لئے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اللہ تعالی کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔ }(الروم: 30)

اللہ تعالی کے اس فرمان کے بعد کہ:{پس آپ یک سو ہوکر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کردیں۔ } (الروم: 30)

فطرتِ سلیمہ اللہ تعالی کے موجود ہونے کا ثبوت ہے، اور جس شخص کو شیطان نے اپنے شکنجے میں گھیر رکھا ہو، تو وہ اس ثبوت سے کورا رہتا ہے، اور اس کے لئے اس ثبوت کو سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور جب بھی وہ کسی بڑی مصیبت میں پڑجاتا ہے، تو اس کے ہاتھ، آنکھ، اور دل آسمان سے لَو لگانے لگتے ہیں، اور وہ اپنی فطرتِ سلیمہ کی وجہ سے اپنے پروردگار سے براہِ راست مدد کی بھیک مانگتا ہے۔

عقلی دلیل:

خالق و مالک اللہ تعالی کے وجود کے چند ایسے بڑے و مضبوط عقلی دلائل و ثبوت بھی ہیں، جن کا صرف کوئی ہٹ دھرم ہی انکار کرسکتا ہے۔ چند عقلی ثبوت ذیل میں سلسلہ وار ذکر کئے جاتے ہیں:

1-ہر مخلوق کے لئے خالق –پیدا کرنے والی ذات- کی ضرورت ہے، اس لئے کہ ماضی اور مستقبل میں آنے والی ساری کائنات کے لئے کسی ایسے خالق کا ہونا ضروری ہے، جس نے ان کو وجود بخشا ہو، کیونکہ کائنات کی کسی بھی مخلوق کا خود بخود یا اتفاقی طور پر وجود میں آجانا، ناممکن ہے، ایسا اس لئے محال ہے کہ کوئی بھی مخلوق خود بخود وجود میں نہیں آسکتی، کیونکہ کوئی بھی اپنے آپ کو پیدا نہیں کرسکتا ہے، اور اس لئے بھی کہ مخلوق اپنے وجود میں آنے سے پہلے ایک معدوم چیز تھی، اور جو چیز کبھی معدوم رہی ہو، وہ بعد میں کبھی خالق کیسے ہوسکتی ہے؟، اس لئے بھی کہ ہر فناء ہونے والی چیز کے لئے کسی فناء کرنے والی ذات کا ہونا ضروری ہے۔ اور اس لئے بھی کہ کائنات کا یہ انوکھا نظام، اس میں پائی جانے والی چیزوں میں یہ ہم آہنگی، اسباب و مسبّبات کے درمیان یہ بے مثال ربط، اور کائنات کی چیزوں کا آپسی تعلق اس چیز سے انکار کرتا ہے کہ اس کائنات کا وجود یونہی اتفاقاً ہوگیا ہو؛ چنانچہ ہر مخلوق کے لئے ایک خالق ہے، اور جب یہ ناممکن ہے کہ یہ مخلوق خود اپنے آپ کو وجود بخشے، یا اتفاقی طور پر اس کا وجود ہوگیا ہو، تو یہ بات طے ہوگئی کہ اس کائنات کو وجود بخشنے والی کوئی ایک ذات ہے، اور وہ اللہ ہے، جو سارے جہانوں کا پالنہار ہے۔ اللہ تعالی نے اسی عقلی ثبوت کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ:{کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خودبخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ }(الطور: 35)

یعنی یہ لوگ کسی خالق کے بنا پیدا نہیں ہوئے ہیں، اور نہ ان لوگوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے، تو پھر یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ ان کا ایک خالق ہے، اور وہ اللہ تعالی ہے، اسی لئے جب حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ طور پڑھتے ہوئے سنا، اور جب آپ اس آیت پر پہنچے:{کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خودبخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں۔ }(الطور: 35-37)

(اس وقت حضرت جبیر مشرک تھے) تو آپ نے کہا :&"میرا دل اڑھنے لگا&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

2-اللہ تعالی کی کائنات و مخلوقات میں پائی جانے والی ظاہری نشانیاں؛ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں۔ }(یونس: 101)

اس لئے کہ آسمانوں اور زمین میں غور و فکر کرنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالی ہی خالق (پروردگار) ہے، اور اس بات کا یقین پیدا کرتا ہے کہ وہی رب ہے۔ دیہات کے ایک شخص سے یہ پوچھا گیا کہ تم نے اپنے رب کو کیسے پہچانا؟ تو اس نے جواب دیا کہ پاؤں کے نشان راہرَو کے گذرنے کی دلیل ہے، اور اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے لئے شناخت ہے، تو یہ بُرجوں والا آسمان، یہ پھیلی ہوئی زمین، اور یہ موجیں مارنے والے سمندر کیا سننے اور دیکھنے کی کامل قدرت رکھنے والی ذات کے وجود کی دلیل نہیں ہیں؟

ساری انسانیت چاہے وہ اپنے کمتر و مادیات کے علم کی چوٹی پر پہنچ جائے، پھر بھی وہ غیب و پوشیدہ چیزوں کا پردہ فاش کرنے میں عاجز و قاصر ہے، اور اس عاجزی کو دور کرنے کا واحد وسیلہ صرف اللہ تعالی کی ذات پر ایمان و یقین ہے۔

3-کائنات کے نظام کا محکم و مضبوط ہونا: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کے نظام کو سنبھالنے والا ایک اللہ، ایک بادشاہ اور ایک رب ہے۔ مخلوق کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے، اور نہ ان کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور پروردگار ہے۔ جس طرح اس کائنات کے لئے دو ہم پلّہ و متساوی رب اور پروردگار کا ہونا محال ہے، اسی طرح دو معبود یا دو اللہ کا ہونا بھی محال ہے؛ کیونکہ دو متساوی و دو ہم پلّہ پروردگار کے ذریعے اس کائنات کے وجود میں آنے کا علم و یقین خود بخود ناممکن ہے، فطری طور پر محال ہے، اور عقلی طور پر اس علم و یقین کا غلط ہونا بھی واضح امر ہے، اسی طرح دو معبود کے وجود کا علم بھی غلط ہوگا۔

شرعی دلیل:

ساری شریعتیں خالق کے وجود، اس کی کمالِ حکمت و رحمت اور کمالِ علم کا ثبوت ہیں، اس لئے کہ ان شریعتوں کے لئے کسی شریعت بنانے والے کا ہونا ناگزیر ہے، اور وہ اللہ تعالی کی ذات ہے، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:&"اے لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارکر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔ &"(البقرۃ: 21-22)،اور ساری آسمانی کتابیں اسی کی گواہی دیتی ہیں۔

حسّی دلیل

اللہ تعالی کے وجود پر سب سے زیادہ واضح اور کھلا ثبوت ہر بصارت و بصیرت رکھنے والے کے احساس سے تعلق رکھنے والے ظاہری و حسّی ثبوت ہیں۔ اس کی کچھ مثالیں یہاں ذیل میں ذکر کی جارہی ہیں:

1-دعاؤں کی قبولیت: انسان اللہ تعالی سے دعاء مانگتا ہے، کہتا ہے: &"اے میرے پروردگار&"، اور اپنی کسی ضرورت کی برآری کے لئے اس سے التجاء کرتا ہے، پھر اس کی وہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ یہ قبولیتِ دعاء پروردگار کے وجود کا حسّی ثبوت ہے۔ اور انسان خود اللہ ہی کو پکارتا ہے، اور اللہ تعالی اس کی پکار سن لیتا ہے، تو انسان کے لئے یہ ایک آنکھوں دیکھی حقیقت ہے۔ اسی طرح ہم ماضی و حال کے لوگوں کے بارے میں کئی ایسی باتیں سنتے ہیں، جن سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی دعائیں قبول کی تھیں۔ اور یہ ایک واضح حقیقت ہے، جو خالق و پروردگار کے وجود کا واضح ثبوت ہے۔ قرآن کریم میں اس قسم کے کئی ثبوت مہیا کئے گئے ہیں، جیساکہ:{ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے اس کی سن لی۔ }(الانبیاء: 83-84) ،اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

الحاد عقلی بیماری، تفکیری بگاڑ، دل کی تاریکی، اور زندگی میں ناکامی کا نام ہے۔

2-کائنات کی ایسی چیزوں کی طرف رہبری ہونا، جس میں ان کے لئے زندہ رہنے کا راز ہے۔ چنانچہ پیدائش کے بعد بچہ کو کس نے اپنی ماں کی چھاتی سے دودھ پینے کی طرف رہبری کی؟ اور کس نے ھُدھُد نامی پرندے کو زیرِ زمین پائے جانے والے پانی کے کنویں دیکھنے کی قوت بخشی، جبکہ دیگر پرندے زیرِ زمین پائے جانے والے کنویں دیکھنے کی قوت نہیں رکھتے؟ بیشک وہی اللہ ہے، جس نے یہ فرمایا کہ:{ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راہ سجھادی۔ }(طٰہٰ: 50)

الحاد ایک عقلی بیماری و تفکیری بگاڑ کا نام ہے۔

3-رسول اور نبیوں کے ساتھ آنے والی نشانیاں: یہ وہ معجزے ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالی نے اپنے رسولوں اور نبیوں کو تقویت پہنچائی، اور ان معجزات کے ذریعے بنی نوعِ انسانی میں انہیں اپنا منتخب بنایا۔ اللہ تعالی نے ہر نبی کو اپنی قوم کے پاس ایسے معجزے کے ساتھ بھیجا، جو اس بات کا تیقن دلاتا ہے کہ جو پیغام رسول لیکر آئے ہیں، وہ اس ایک خالق و مالک کا پیغام ہے، جس کے سواء کوئی رب اور کوئی معبود نہیں ہے۔


ایک اللہ کو ماننے والے بندے پر توحید کا اثر

1-حیرانی و شک و شبہ سے نجات: جو انسان یہ جانتا ہو کہ اس کا ایک رب ہے، جو ہر چیز کا پروردگار و خالق ہے، اسی نے انسان کو پیدا کیا، اچھی صورت میں ڈھالا، عزت و مقام سے نوازا، زمین پر اس کو اپنا خلیفہ بنایا، آسمانوں اور زمین کی ساری چیزوں کو اس کی خدمت میں لگادیا، اور اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں سے اس کو مالا مال کیا۔ تو جس انسان کا یقین اس جیسا ہو، تو کیسے اس کے اندر حیرانی یا شک و شبہ کا مرض پیدا ہوسکتا ہے؟ وہ تو اپنے پروردگار سے لَو لگائے بیٹھا ہے، اس کی آغوش میں پناہ لے لیا ہے، اور اس کو یہ علم ہوگیا کہ دنیوی زندگی تو چند سالہ ہے، اور اس میں بھلائی کے ساتھ برائی، انصاف کے ساتھ ظلم و زیادتی، اور لذت و راحت کے ساتھ مصیبت و مشقت ملے ہوئے ہیں۔

اور جو لوگ اللہ تعالی کی ربوبیت کا انکار کرتے ہیں، اور اللہ تعالی سے ہونے والی ملاقات میں شک کرتے ہیں، تو ان جیسے لوگوں کی زندگی میں نہ کوئی مزہ ہے، اور نہ اس کا کوئی مفہوم، ان کی زندگی تو سر تا پا حیرانی و پریشانی، اور ایسے سوالوں کے کٹھرے میں کھڑی ہے، جو لاجواب ہیں۔ ان کے لئے نہ کوئی ایسی پناہ گاہ ہے، جس میں وہ خود کو محفوظ سمجھ سکیں، اسی لئے ان کی عقلیں – چاہے وہ مہارت و چالاکی کی انتہاء پر ہوں – سدا حیرانی و پریشانی اور بے چینی و بے قراری کا شکار ہیں۔ یہ در اصل ان لوگوں کے لئے دنیوی عذاب اور جہنم ہے، جس میں صبح و شام ان کے دل جَل رہے ہیں۔

2-نفسیاتی راحت و سکون: راحت کا ایک ہی راستہ ہے، اور وہ راستہ اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان ہے۔ ۔ ۔ وہ سچا اور گہرا ایمان جس میں نہ شک سے کوئی دراڑ پیدا ہو اور نہ نفاق کی چوٹیں اس پر لگی ہوں۔ حقیقتِ حال اسی کی گواہی دیتی ہے، تاریخ کے اوراق اسی کی تائید کرتے ہیں، اور انصاف پسند و صاحبِ بصیرت انسان اپنے آپ میں اور اپنے آس پاس کے ماحول میں یہی سب کچھ محسوس کرتا ہے۔ یقینی طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ لوگوں میں سب سے زیادہ حیران، پریشان، بے قرار اور ناکامی و مایوسی کے احساس کا شکار وہ لوگ ہیں، جو ایمان کی نعمت اور یقین کی مٹھاس سے محروم ہیں۔ یقیناً ان کی زندگی میں نہ کوئی مزہ ہے، اور نہ کوئی لذت، اگرچہ کہ ظاہری طور پر ان کی زندگی میں آسائش و آرائش اور لذتوں کے اسباب کی فراونی ہے؛ اس لئے کہ انہیں ان لذتوں کا حقیقی مفہوم ہی نہیں معلوم اور نہ انہیں اس کے مقصود کا علم ہے، نیز انہیں اس آرائش و آسائش کے حقیقی راز کا پتہ بھی نہیں ہے، تو اس جیسے لوگ کیسے نفسیاتی راحت و سکون یا انشراحِ صدر کی نعمت سے محظوظ ہوں گے؟ بیشک نفسیاتی راحت و سکون ایمان کا ایک پھل ہے، اور توحید ایک بار آور درخت ہے، جو وقتاً فوقتاً اللہ تعالی کے حکم سے اپنے پھل دیتا ہے۔ ایمان ایک آسمانی نسیمِ سحر ہے، جس سے اللہ تعالی اپنے مومن بندوں کو نوازتا ہے، تاکہ وہ اس وقت ثابت قدم رہیں، جب لوگ بے قرار و بے چین ہوںگے۔ اس وقت راضی و خوش رہیں، جب لوگ ناراض ہوں۔ اس وقت یقین کا مظاہرہ کریں جب لوگ شک میں پڑے ہوں۔ اس وقت صبر کا دامن تھام لیں، جب لوگ خوف و فزع کے عالم میں ہوں، اور اس وقت حلم و بردباری سے کام لیں، جب لوگ غصے میں آپے سے باہر ہوں۔ یہی وہ نفسیاتی سکون تھا، جس سے ہجرت کی گھڑی میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دل آباد تھا، چنانچہ آپ کسی غم و رنج یا افسوس کا شکار نہیں ہوئے، نہ خوف و ڈر نے آپ کے قدم لرزائے، اور نہ آپ کے دل میں شک و حیرت کا دور دور تک نام و نشان تھا، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ }(التوبۃ: 40)

ایمان نجات کی کشتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی و رفیقِ غار پر افسوس و رنج کا پہاڑ ٹوٹ رہا تھا۔ انہیں اپنی جان یا اپنی زندگی کی ہلاکت کا خوف نہیں تھا، بلکہ رسول کی جان اور پیغامِ توحید کا انہیں دکھ کھارہا تھا، چنانچہ اس وقت جبکہ غارِ ثور کو دشمنوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا، اس وقت حضرت ابوبکر نے کہا:&"اے اللہ کے رسول اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے پاؤں دیکھے (یعنی اپنا سر جھکائے) تو وہ ہمیں اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دلی سکون پہنچاتے ہوئے یہ کہا: اے ابوبکر تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے، جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالی ہو؟&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا)

جو اللہ تعالی کو چھوڑکر دوسروں سے بے نیاز ہوجاتا ہے، سارے لوگ اس کے محتاج ہوجاتے ہیں۔

یہ راحت و سکون اللہ کی طرف سے ملنے والی ایسی روحانیت اور نور ہے، جس سے ڈرنے والے کو سکون، پریشان شخص کو راحت، غمگین کو دلاسہ، تھکے ماندے کو آرام، کمزور کو قوت، اور گمراہ کو رہبری مل جاتی ہے۔ یہ راحت و سکون جنت کی ایک کھڑکی ہے، جو اللہ تعالی اپنے مومن بندوں کے لئے کھول دیتا ہے۔ اس کھڑکی سے انہیں جنت کی ٹھنڈی ہوائیں آنے لگتی ہیں، جنت کے انوار ان کے لئے روشنی کا ساماں فراہم کرتے ہیں، اور اس کی خوشبو سے وہ مست مگن ہوجاتے ہیں، تاکہ اللہ تعالی ان مومن بندوں کو اپنے سابقہ نیک اعمال کا کچھ مزہ چکھوائے، اور اُن نعمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے، جن کے یہ لوگ منتظر ہیں، چنانچہ مومن بندے جنت سے آنے والی ان ہواؤں کی وجہ سے روحانیت و سکون، امن و امان، اور سلامتی کی نعمت سے بہرہ ور ہوں گے۔

جس قدر آپ اللہ تعالی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں کمزور رہیں گے، اسی قدر آپ پریشانیوں اور مسائل کے شکار رہیں گے۔

3-اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ: ہر چیز اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے، ان چیزوں میں نفع و نقصان بھی شامل ہے۔ اللہ تعالی ہی خالق و پروردگار ہے، وہی رزق دینے والا مالک اور کائنات کے نظام کو سنبھالنے والا ہے، اس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں، اسی لئے جب مومن بندے کا یہ یقین ہو کہ اس کو ہرگز کوئی اچھائی و برائی، اور نفع و نقصان نہیں پہنچ سکتا، سوائے اس کے جو اللہ تعالی نے اس کے مقدر میں لکھ دیا ہے، اور ساری مخلوق اگر اللہ تعالی کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہٹ کر کسی اور چیز پر متفق ہوجائے، تو بھی اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے، تو اس جیسے ایمان کے پیدا ہوجانے کے بعد وہ ضرور یہ جان جائے گا کہ اللہ تعالی کی ہی وہ واحد ذات ہے، جو نفع و نقصان کی مالک، اور عطا کرنے یا محروم رکھنے کی قدرت رکھتی ہے۔ اس جیسے یقین سے اللہ تعالی کی ذات پر زیادہ بھروسہ اور اس کی وحدانیت کی مزید تعظیم دل میں پیدا ہوجاتی ہے، اور اسی لئے اللہ تعالی نے نفع و نقصان پہنچانے کی قدرت نہ رکھنے والے، اور اپنے عابد کو کسی قسم کا فائدہ نہ پہنچانے والے معبود کی عبادت کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ:{آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا مالک وہی ہے، جن جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی خسارہ پانے والے ہیں۔ }(الزمر: 63)

انسانی دل میں ایک بکھراؤ ہے، جو اللہ تعالی کی ذات کی طرف متوجہ ہوجانے پر ختم ہوجاتا ہے، ایک وحشت و خوف ہے، جو تنہائیوں میں اللہ تعالی سے لَو لگانے پر دور ہوجاتاہے، اور ایک غم ہے، جو اللہ تعالی کی معرفت اور اس کے ساتھ صدقِ معاملہ پر ناپید ہوجاتا ہے۔

4-اللہ تعالی کی عظمت: اللہ تعالی کی ذات پر ایمان رکھنے والے، اسی کی عبادت کرنے والے، اور اسی سے اپنی حاجتیں مانگنے والے بندے کی زندگی میں اللہ تعالی کی عظمت کا پہلو ظاہر و عیاں ہے۔ جب مومن بندہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالی کو حاصل قدرت و طاقت میں غور و فکر کرتا ہے، تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ:{میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے۔}(الانعام: 80)

اور وہ کہنے لگتا ہے کہ:{اے ہمارے پروردگار تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا۔ }(آل عمران: 191)

یہ سب امور اس بات کا ثبوت ہیں کہ دل کا رب و خالق کے ساتھ ذاتی تعلق ہے، جو اُس پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کی راہ میں کوشش کرنے، اس کی شریعت و احکام کی عظمت کرنے، اور کسی ایسی ذات کو اس کا شریک نہ ٹہرانے کی تعلیم دیتا ہے، جو اس زمین و آسمان میں ذرّہ برابر بھی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی ہے۔ یہ سب امور اللہ تعالی کی عظمت میں شمار ہیں، اور یہ عظمت ایک رب کو ماننے والے مومن بندے پر پڑنے والا ایک اثر ہے۔


الحاد اور اس کے خطرات

اس اللہ پر ایمان رکھنا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اعمال میں سب سے اونچے درجے والا عمل، سب سے اونچے مقام والا عقیدہ، اور سب سے زیادہ نصیب والا کام ہے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ

الحاد کا مطلب فکری مرض اور نظری کوتاہی، یا صرف ہٹ دھرمی اور عناد و تکبر کی بنیاد پر خالق و مالک کی موجودگی کا انکار کرنا ہے۔ الحاد عقلی مرض، فکری بگاڑ، اور قلبی تاریکی کا نام ہے، جو مُلحِد کو کم عقل اور کم ظرف بنادیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ سوائے محسوسات میں آنے والے مادیات کے کسی اور چیز کے احساس یا ادراک کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے، چنانچہ وہ مادیات پر مبنی افکار کو انسان اور اس کے عقائد پر لاگو کرنے پر اٹل رہتا ہے، لیکن وہ ناکام و نامراد رہ جاتا ہے، اور اس جیسے شخص کا یہ یقین ہوتا ہے کہ انسان تو صرف ایک مادی چیز ہے، جس پر مادیات سے متعلقہ سارے قانون لاگو کئے جاسکتے ہیں۔

اس جیسے ملحدانہ افکار محض مادّیت اور روحانیت سے عاری افکار پر منحصر عقلیات کی طرف انسانی جھکاؤ کی وجہ سے ساری انسانیت کے لئے باعثِ خطرہ ہیں؛ ملحد انسان چونکہ وہ کسی معبود و خالق کی موجودگی کا یقین ہی نہیں رکھتا ہے، اس لئے وہ جس وقت چاہے، اور جو چاہے بلاخوف و خطر کرلے گا، کیونکہ اس کے اندر کسی معبود کا ڈر ہی نہیں رہتا ہے، اور اس کی وجہ سے انسانی فطرت میں بگاڑ اور اس کے ہلاک و برباد ہونے کا خطرہ رہتا ہے، علاوہ اس کے الحاد اللہ تعالی کی ذات کا انکار، اور اس کے حق کو کسی دوسرے کے لئے استعمال کرنے کا نام ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے الحاد پرست مفکرین، شعراء اور تعلیم یافتہ لوگوں کی تاریخ میں خودکشی کے واقعات بہت زیادہ ملتے ہیں، ان کی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے، اور تحقیقاتی رپورٹس بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔ عالمی منظمہ صحت (WHO) کی ایک تحقیقاتی رپورٹ(جس کو ماہر ڈاکٹر جوز مانویل اور اسکالر الیساندر ولیشمان نے تیار کیا ہے) سے دین اور خودکشی کے درمیان کا تعلق ظاہر ہوتا ہے، اور نیز یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات ملحدوں میں رونما ہوئے ہیں، اس رپورٹ کی تفصیل ذیل میں درج کی جارہی ہے