ہوم /خالص و سچے ایمان کی دعوت /آپ کیسے مخلص بن سکتے ہیں؟

آپ کیسے مخلص بن سکتے ہیں؟


آپ کیسے مخلص بن سکتے ہیں؟

ہر وہ باطنی چیز جو ظاہری شکل کے مخالف ہو، وہ غلط ہے۔

پہلی چیز: اللہ تعالی کی وحدانیت کا تیقن پیدا کریں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے، خبردار؛ اللہ تعالی ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے۔ }(الزمر: 2- 3)

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:{انہیں اس کے سواء کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں صرف اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ }(البینۃ: 5)

دوسری چیز: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا ثبوت پیش کریں۔ آپ نے جن چیزوں کا حکم دیا ہے، ان پر عمل کریں۔ آپ نے جن چیزوں سے منع کیا ہے، ان سے باز رہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ساری باتوں و خبروں کو سچا مانیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اے ایمان والو فرمانبرداری کرو اللہ کی اور رسول [صلی اللہ علیہ وسلم] کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ اللہ تعالی کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ }(النساء: 59)

تیسری چیز: جب آپ مخلص بننا چاہتے ہوں، تو نیک اعمال کرنے پر راغب بنیں، اور ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ وہ سات شخص جن کو اللہ تعالی اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن کوئی سایہ نہ ہوگا، ان میں سے وہ شخص بھی ہے:&"۔ ۔ ۔ جس نے صدقہ کیا ہو، اور لوگوں سے اپنے اس عمل کو چھپائے رکھا ہو۔ ۔ ۔&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

اور یہ بھی یاد رکھیں کہ:&"۔ ۔ ۔ سارے اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ۔ ۔&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

اخلاص یہ ہے کہ آپ اپنے اعمال پر اللہ تعالی کے علاوہ کسی کی گواہی کے طالب نہ رہیں، اور نہ اس کے علاوہ کسی سے کسی بدلے کی امید لگائے بیٹھیں۔

چوتھی چیز: دل سے لوگوں کی تعریف و ثناء کرنے سے محبت کرو، لوگوں کو ملی ہوئی نعمتوں سے لاتعلقی کا اظہار کرو، اور اپنا تعلق اپنے خالق و مالک سے بنائے رکھو؛ کیونکہ مخلص انسان دنیا کو حاصل کرنے، یا کسی خاتون سے نکاح کرنے کا راغب نہیں ہوتا ہے، بلکہ وہ تو اللہ کی رحمت سے آس لگائے بیٹھتا ہے۔

پانچویں چیز: آپ اپنے آپ کو پروردگار کے دربار میں جھونک دیں، اور اس کے بابِ رحمت پر ذلت و خواری کی چوکھٹ تھامے رہیں، یہ دعاء کرتے رہیں کہ اللہ تعالی آپ کو اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے، آپ کو ریاکاری سے بچائے، اور آپ کے پچھلے گناہ و معاصی کو معاف کردے۔

چھٹی چیز: ریاکاری سے پرہیز کریں، اور اس سے ڈرتے رہیں؛ چنانچہ جب بندہ ریاکاری اور اس کے راستوں پر چلنے لگتا ہے، تو وہ اخلاص کے راستے سے دور ہوجاتا ہے۔ ریاکاری میں یہ بھی شامل ہے کہ بعض لوگ اپنے آپ کو اللہ کا ولی کہتے ہیں، یا انہیں پسند ہوتا ہے کہ ان کو اللہ کا ولی کہا جائے، یا وہ اپنے اعمال و اقوال لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو تو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال [کا بدلہ] یہیں بھرپور پہنچادیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کے اعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں۔ } (ھود: 15- 16)

ریاکاری شرکِ اصغر ہے، اور اس کے برے انجاموں میں سے ایک یہ انجام کافی ہے کہ اعمال قبول نہیں کئے جاتے ہیں، چاہے وہ ظاہری طور پر اچھے ہی اعمال کیوں نہ ہوں، اور ان اعمال کو صاحبِ عمل کے منہ پر مار دیا جائےگا۔

انسان کے دل میں اخلاص اور مدح و تعریف کی محبت اکٹھا نہیں ہوسکتی ہے، مگر جس طرح سے کہ آگ اور پانی اکٹھا ہوتے ہیں۔

ساتویں چیز: مخلص لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&"انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔&"(اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے)

آٹھویں چیز: عبادت کو پوشیدہ رکھیں، اور چپکے چپکے اللہ تعالی سے لَو لگائیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیدہ پوشیدہ مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ }(البقرۃ: 271)

نویں چیز: اپنے نفس کا سخت سے سخت ترین محاسبہ کرتے رہیں، اور ہر حال اور ہر وقت میں اپنا محاسبہ کریں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھادیں گے۔ } (العنکبوت: 69)

اللہ تعالی کے فرمان میں اس لفظ پر غور کریں:{&"ہماری راہ میں&"}

دسویں چیز: اللہ تعالی سے ہمیشہ اور بار بار مانگتے رہیں، کیونکہ محتاج بندہ جب اپنے آقا کا دروازہ پکڑا رہتا ہے، تو آقا اس پر رحم کھانے لگتا ہے، اس کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، اور اس کی حاجت کی برآری کرتا ہے۔ ۔ ۔ دعاء تو وہ ہے جو خالص اللہ تعالی کے لئے ہو۔