ہوم /میرا پروردگار اللہ ہے /اس اللہ تعالی کو پہچانو جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے /محبت

محبت


<h2> face=Arial>محبت</

h2>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی سے محبت کا مفہوم:</

h3>
 <p> face=Arial>اللہ تعالی سے محبت: اس کا مطلب اللہ تعالی کی ذات سے دلی لگاؤ، اس سے انسیت،

  face=Arial>اس کے احکامات کے مطابق عمل، اور دل پر اللہ تعالی کا ذکر غالب ہونا ہے۔</

p>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی کی ذات سے محبت کی حقیقت: </

h3>
 <span> face=Arial>جو اللہ تعالی کو پہچان لے، وہ اس سے محبت کرنے لگے۔</

span>
 <p> face=Arial>اللہ تعالی کی ذات سے محبت کا مفہوم اس کی عبادت و بندگی سے محبت، اس کے سامنے

  face=Arial>عاجزی و انکساری، اور اس کی تعظیم ہے، یعنی محبت رکھنے والے کے دل میں اللہ تعالی

  >کی عظمت و ہیبت ہو، جو اس کو اللہ تعالی کے احکامات پرعمل کرنے اور اس کی منع کی

  >ہوئی چیزوں سے اجتناب کرنے کے متقاضی ہو۔ یہی محبت ایمان اور توحید کی اصل جڑ ہے،

  face=Arial>اور اس کے ضمن میں لامحدود فضائل و خوبیاں آتی ہیں۔ اللہ تعالی کی ذات سے محبت

  >کے مفہوم میں اس مقام، وقت، اشخاص، اعمال، اقوال، اور ان جیسی ساری ان چیزوں سے

  face=Arial>محبت کرنا بھی شامل ہے، جن کو اللہ تعالی پسند کرتے ہیں۔</

p>
 <p> face=Arial>نیز یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالی کی محبت صرف اسی ایک کے لئے خالص و سچی محبت

  >ہو، اور فطری محبت، جیسے بیٹے کی اپنے باپ سے محبت، باپ کی اپنے بیٹے سے محبت،

  face=Arial>شاگرد کی اپنے استاذ سے محبت، اسی طرح کھانے پینے، شادی کرنے، کپڑے پہننے کی محبت،

  face=Arial>دوستوں سے محبت وغیرہ اللہ تعالی کی ذات سے محبت کے منافی نہیں ہے۔</

p>
 <p> face=Arial>حرام و ناجائز محبت اللہ تعالی کی محبت کے باب میں شرک کے مماثل ہے، جیسے مشرکوں

  >کی اپنے بُت و آقاؤں سے محبت، یا اپنی محبوب چیزوں کو اللہ تعالی کی پسند کردہ

  >چیزوں پر فوقیت دینا، یا اس مقام، وقت، شخص، عمل اور قول کی محبت جس کو اللہ تعالی

  face=Arial>ناپسند کرتے ہوں، یہ سب امور انحطاط و تنزلی کا سبب ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ face=Arial>بعض

  face=Arial>لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھراکر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں،

  face=Arial>جیسے محبت اللہ سے ہونی چاہئے، اور ایمان والے اللہ کی محبت میں سخت ہوتے ہیں۔

 }</strong><small>( face=Arial>البقرۃ: 165)</

small></p>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی کی ذات سے محبت رکھنے کے چند فضائل:</

h3>
 <span> face=Arial>اللہ تعالی کی عبادت محبت، خوف اور امید جیسی چیزوں سے بڑھ کر کسی اور چیز

  face=Arial>سے نہیں کی جاسکتی۔</

span>
 <p>1- face=Arial>محبت دراصل وحدانیت کی جڑ ہے، اور وحدانیت کی روح ایک اللہ کی ذات سے خالص

  face=Arial>محبت رکھنا ہے، بلکہ حقیقت میں محبت تو عبادت کا سرچشمہ ہے، اور وحدانیت اسی وقت

  face=Arial>مکمل ہوسکتی ہے، جبکہ اللہ تعالی سے بندے کی محبت کامل و مکمل ہو، ساری محبوب چیزوں

  >پر یہ محبت غالب ہو، اور محبتِ الہی ساری چیزوں کا محور ہو، اس طور پر کہ بندے

  >کی ساری محبوب چیزیں اسی محبت کے تابع ہو، جو بندے کی سعادت و فلاح کی ضامن ہے۔</

p>
 <span> face=Arial>اللہ تعالی سے لگاؤ اور اس سے ملنے کا شوق ایک نسیمِ سحر ہے، جس کے دل پر

  >پڑنے والے جھونکوں سے دنیا کی پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں۔</

span>
 <p>2- >پریشانیوں میں بندے کا پُرسکون ہونا؛ چنانچہ محبت رکھنے والا بندہ اپنے آپ

  face=Arial>میں محبت کی وہ لذت محسوس کرتا ہے، جس کے سامنے ساری پریشانیاں ہیچ ہوجاتی ہیں،

  face=Arial>بلکہ وہ ان پریشانیوں کو بھول ہی جاتا ہے۔ </

p>
 <span> face=Arial>روئے زمین پر اس انسان سے زیادہ بد بخت کوئی اور نہیں ہے، جو اللہ تعالی

  >کی ذات سے انسیت اور اس کے ذکر سے طمانینت کی نعمت سے محروم ہو۔</

span>
 <p>3- face=Arial>نعمتوں کی معراج اور خوشیوں کی انتہاء: صرف اللہ تعالی کی محبت سے ہی اس کا

  face=Arial>حصول ممکن ہے، دل کو بے نیازی، اس میں موجودہ فراغ کی تکمیل، اور اس کی بھوک سے

  face=Arial>سیرابی صرف اللہ تعالی کی محبت اور اس کی طرف رجوع کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اگر

  face=Arial>بندے کو لذتوں کے سارے اسباب فراہم ہوجائیں، تو بھی وہ ان سے اس وقت تک مطمئن و

  face=Arial>مانوس نہیں ہوتا ہے، جب تک کہ اس کو اللہ تعالی کی محبت میسر نہ ہوجائے؛ اس لئے

  >کہ اللہ تعالی کی محبت دلوں کے لئے باعثِ نعمت و سعادت ہے۔ پاک دل، صاف نفس، اور

  face=Arial>روشن عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالی کی ذات سے محبت و انسیت، اور اس کی

  face=Arial>ملاقات کے شوق سے زیادہ کوئی چیز زیادہ خوشی، زیادہ اچھی، زیادہ لذیذ، اور زیادہ

  face=Arial>میٹھی نہیں ہے۔ جو مٹھاس مومن اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، وہ ہر قسم کی مٹھاس سے

  face=Arial>زیادہ بلند ہے۔ محبتِ الہی سے جو سعادت و خوشی مومن محسوس کرتا ہے، وہ ساری نعمتوں

  face=Arial>سے زیادہ کامل ومکمل ہے، اور جو لذت مومن کو میسر ہے، وہ ساری لذتوں سے زیادہ عمدہ

  >ہے۔<

b>&" face=Arial>تین خصلتیں جس کسی شخص میں پائی جائیں گی، وہ ضرور ایمان کی مٹھاس محسوس

  >کرلے گا:اس کے دل میں اللہ تعالی اور اس کا رسول ان دونوں کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ

  face=Arial>محبوب ہوں۔ انسان اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے، اور

  face=Arial>ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اسی طرح ناپسند کرے، جس طرح کہ وہ آگ میں گرنا

  >پسند نہیں کرتا ہے&

"</b><small>( face=Arial>اس حدیث کو امام بخاری، امام مسلم اور امام نسائی

  face=Arial>نے روایت کیا)</

small></p>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنے والے اسباب:</

h3>
 <p> >ہمارا پروردگار اُس سے محبت کرنے والوں اور اس سے قربت حاصل کرنے والوں کو پسند

  >کرتا ہے، اور اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنے والا سب سے پہلا سبب یہ ہے کہ بندہ

  face=Arial>اپنے پروردگار سے ساری مخلوق سے زیادہ محبت کرے۔ اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنے

  face=Arial>والے اسباب کی تفصیل درجِ ذیل ہے:</

p>
 <p>1- face=Arial>قرآن کریم کی غور و فکر، سمجھ بوجھ اور اس کی مراد کو سمجھتے ہوئے تلاوت کرنا۔

  face=Arial>جو شخص اللہ کی کتاب کی تلاوت کو اپنا شغلِ شاغل بنالے اور اس پر عمل کرے، تو اس

  >کا دل اللہ کی محبت سے آباد ہوجاتا ہے۔</

p>
 <p>2- face=Arial>فرائض کی ادائیگی کی بعد نوافل کے ذریعے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا:<

b>&" face=Arial>میرا

  face=Arial>بندہ نفلی عبادتوں کے ذریعے مجھ سے قربت حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس

  face=Arial>سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، تو میں اس کا وہ

  >کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، وہ آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے،

  face=Arial>وہ ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اور وہ پاؤں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا

  >ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اس کو عطا کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے پناہ

  face=Arial>مانگتا ہے، تو میں اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں&

"</b><small>( face=Arial>حدیثِ قدسی۔ اس

  face=Arial>حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p>3- face=Arial>زبان و دل، اور عمل و کردار سے ہر حال میں اللہ تعالی کا دائمی طور پر ذکر

  >کرنا۔</

p>
 <span><strong>{ face=Arial>جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی۔

}</strong><small>( face=Arial>المائدۃ:

 54)</small></span>
 <p>4- face=Arial>اپنی نفسانی خواہشات اور رغبتوں کے سامنے اللہ تعالی کی محبوب چیزوں کو فوقیت

  face=Arial>دینا۔</

p>
 <p>5- face=Arial>اللہ تعالی کے اسماء و صفات اور اس کی معرفت کو ہمیشہ دل میں مستحضر رکھنا۔</

p>
 <p>6- face=Arial>اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والی ظاہری و باطنی نعمتوں، اس کے احسانوں اور

  face=Arial>اس کے خیر کو ہمیشہ مدِ نظر رکھنا۔</

p>
 <p>7- face=Arial>اللہ تعالی کے روبرو دل کی گہرائیوں کے ساتھ عاجزی اختیار کرنا۔</

p>
 <p>8- face=Arial>رات کے آخری تہائی حصے میں، جبکہ اللہ تعالی آسمانِ دنیا پر اتر آتے ہیں،

  face=Arial>اللہ تعالی کے ساتھ تنہائی میں مناجات کرنا۔ تنہائی میں اللہ تعالی کے روبرو گڑگڑانا،

  face=Arial>قرآن کریم کی تلاوت کرنا، حالتِ نماز میں کھڑے ہوکر اس کا ادب و احترام کرنا، پھر

  face=Arial>توبہ و استغفار سے اپنی عبادت کو ختم کرنا۔</

p>
 <p>9- face=Arial>سچے و مخلص لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا، ان کی اچھی اچھی باتوں سے عبرت حاصل

  >کرنا، جس طرح سے کہ اچھے اچھے پھلوں کو توڑا جاتا ہے۔ اسی وقت بات کرنا، جب اپنی

  face=Arial>بات حالات کے لئے مزید وضاحت، اور دوسروں کے لئے باعثِ منفعت ہو۔</

p>
 <p>10- >ہر اس چیز سے دور رہنا جو اللہ تعالی اور دل کے درمیان حائل و مانع بنتی

  >ہو۔</

p>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی کی محبت سے بندے کو ملنے والے بعض فوائد:</

h3>
 <p>- face=Arial>اللہ تعالی جس سے محبت کرتے ہیں، اس کو راہِ راست پر چلاتے ہیں، اور اس کو

  face=Arial>اپنے دربار کا قریبی بناتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<

b>&" face=Arial>اللہ

  face=Arial>تعالی فرماتے ہیں: میں بندے کے ساتھ میرے بارے میں اس کے گمان کے مطابق معاملہ

  >کرتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اس کے ساتھ ہوجاتا ہوں۔ اگر وہ مجھے

  face=Arial>اپنے دل دل میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اس کو اپنے دل دل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر

  face=Arial>وہ بھری جماعت میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کا تذکرہ

  >کرتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے بالشت بھر قریب ہوتا ہے، تو میں اس سے ایک ہاتھ برابر

  face=Arial>قریب ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے ہاتھ برابر قریب ہوتا ہے، تو میں اس سے میٹر برابر

  face=Arial>قریب ہوتا ہو، اور اگر وہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے، تو میں اس کی پاس دوڑتے ہوئے

  >چلا آتا ہوں&

"</b> <small>( face=Arial>صحیح بخاری)</

small></p>
 <p> face=Arial>بندہ جتنا اپنے پروردگار کا خوف رکھتا ہے، اسی قدر وہ اخروی ہدایت کے درجات

  >چڑھتا جائے گا۔ اللہ تعالی بندے سے جتنی زیادہ محبت کرتا ہے، اسی قدر وہ اس کو

  face=Arial>راہِ راست پر چلاتا ہے، اور بندہ جس قدر راہِ راست پرگامزن رہتا ہے، اسی قدر اس

  >کے اندر تقوی پیدا ہوگا۔</

p>
 <p>- face=Arial>اللہ تعالی جس بندے سے محبت کرتا ہے، اس کے لئے زمین پر قبولیت مقدر کردیتا

  >ہے:اللہ کے محبوب بندے کے لئے قبولیت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اس کی طرف جھکے چلے

  face=Arial>آئیں گے، اس سے خوش رہیں گے، اس کی مدح سرائی کریں گے، اور ہر چیز اس سے محبت کرنے

  face=Arial>لگے گی، ہاں کافر اس سے محبت نہیں کرے گا، اس لئے کہ کافر نے تو اللہ تعالی کی

  face=Arial>محبت ہی کو دھتکارا ہے، تو پھر کیسے وہ اللہ کے محبوب بندوں سے محبت کرے گا؟ اللہ

  >کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<

b>&" >یقیناً اللہ تعالی جب کسی بندے سے محبت

  >کرتا ہے، تو جبرئیل سے یہ کہتا ہے کہ میں اپنے فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تم

  >بھی اس سے محبت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل اس

  >سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ آسمانوں میں صدا دیتے ہیں کہ سن لو، اللہ تعالی

  >فلاں بندے سے محبت کرتے ہیں، لہذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی

  >اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر اس بندے

  >کے لئے زمین میں قبولیت مقدر کردی جاتی ہے&

"</b><small>( >اس حدیث کو امام مسلم نے

  >روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p> >نیز جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں، تو اپنی خاص عنایت و کرم

  >سے اس کو ڈھانک لیتے ہیں، ہر چیز کو اس کے لئے فرمانبردار بنادیتے ہیں، ہر مشکل

  >کو آسان بنادیتے ہیں، ہر مسافت قریب کردیتے ہیں، اور دنیوی معاملات آسان کردیتے

  >ہیں، چنانچہ وہ اپنے معاملات میں کوئی پریشانی یا تکلیف کا احساس نہیں کرتا ہے۔

  >اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >بیشک جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے شائستہ اعمال

  >کئے ہیں ان کے لئے اللہ رحمن محبت پیدا کردے گا۔

}</strong><small>( >مریم: 96)</

small>
 </p>
 <span> >سچا ایمان روح کی غذاء اور خوشیوں کا محور ہے، اور اللہ تعالی کی ذات کا

  >انکار کرنا روح کے لئے موت سے پہلے موت اور غموں کا مرکز ہے۔</

span>
 <p>- >جب اللہ تعالی کسی کو اپنا محبوب بناتے ہیں، تو ہمیشہ وہ اس کے ساتھ رہتے ہیں:

  >جب اللہ تعالی کسی بندے کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو وہ ہمیشہ اپنی عنایت و کرم

  >سے اس کو گھیرے رکھتے ہیں، اور اس بندے پر کسی ایسے شخص کو مسلط ہونے نہیں دیتے

  >ہیں، جو اس کو تکلیف یا اذیت پہنچائے۔ حدیثِ قدسی میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی

  >اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<

b>&" >بیشک اللہ تعالی نے کہا: جو میرے محبوب سے دشمنی

  >کرے، میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ فرائض سے ہٹ کر میری محبوب چیزوں میں

  >سے کسی ایک کے ذریعہ جب بندہ میرا قرب حاصل کرتا ہے، تو اس سے زیادہ میرے لئے کوئی

  >چیز محبوب نہیں ہے۔ میرا بندے نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرنے کی سعی میں لگا

  >رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ اور جب میں اس سے محبت کرنے

  >لگتا ہوں، تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، وہ آنکھ بن جاتا

  >ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، وہ ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اور وہ پاؤں

  >بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اس کو عطا کرتا

  >ہوں، اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے، تو میں اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں۔

  >اور میں اپنے فیصلوں میں سے کسی بھی چیز کے کرنے میں اس قدر پس و پیش کا شکار نہیں

  >ہوتا ہوں، جس قدر کہ مومن بندے کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہوں، کیونکہ وہ موت کو

  >ناپسند کرتا ہے، اور مجھے اس کو تکلیف پہنچانا ناپسند ہے&

"</b><small>( >اس حدیث کو

  >امام بخاری نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p>- >اللہ تعالی جس کو اپنا محبوب بنالیتا ہے، اس کی دعائیں قبول کرتا ہے:مومن بندوں

  >سے اللہ تعالی کی محبت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالی ان کی دعائیں قبول کرتا

  >ہے، اور محض ہاتھ اٹھاکر اس سے مانگنے اور &

" >یا رب&

" >کہنے پر ہی ان پر اپنی نعمتوں

  >کی بارش برسا دیتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >جب میرے بندے میرے بارے

  >میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں۔ ہر پکارنے والے کی

  >پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں، اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ میری

  >بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔

}</strong><small>( >البقرۃ:

 186)</small></p>
 <p> >حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ

  >علیہ وسلم نے فرمایا:<

b>&" >یقینا اللہ تعالی زندہ اور سخی ہے، اس کو اس بات سے حیاء

  >محسوس ہوتی ہے کہ کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ اٹھائے اور وہ اس کو خالی ہاتھ لوٹادے۔&

"</b>
 <small>( >اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p> >جب اللہ تعالی کسی بندے کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو فرشتوں کو ان کے لئے

  >مغفرت کا طلب گار بنادیتا ہے: فرشتے اس شخص کے لئے مغفرت کے طالب رہتے ہیں جس سے

  >اللہ تعالی محبت کرتے ہیں، اور اس کے لئے اللہ تعالی سے نزولِ رحمت کی دعائیں مانگتے

  >ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس کے (فرشتے)

  >اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان

  >والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہر چیز کو

  >اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری

  >راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچالے۔

}</strong><small>( >غافر:

 7)</small></p>
 <p> >نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >قریب ہے آسمان ان کے اوپر سے پھٹ پڑیں۔

  >اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں، زمین والوں کے

  >لیے استغفار کر رہے ہیں۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالی ہی معاف فرمانے والا رحمت

  >والا ہے۔

} </strong><small>( >الشوریٰ: 5)</

small></p>
 <p> >جب اللہ تعالی کسی کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو خاتمہ بالخیر کی نعمت سے اس

  >کو نوازتے ہیں: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:<

b>&" >جب اللہ تعالی

  >کسی بندے سے بھلائی کا اردہ رکھتے ہیں، تو اس کی زندگی میں مٹھاس پیدا کردیتا ہے۔

  >پوچھاگیا کہ مٹھاس پیدا کرنے کا کیا مطلب؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا

  >کہ: اللہ تعالی اس کے لئے موت سے پہلے نیک اعمال کے دروازے کھول دیتا ہے، اور اسی

  >پر اس کو موت ہوتی ہے&

"</b><small>( >اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p>- >جب اللہ تعالی کسی کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو موت کے وقت اس کو مامون رکھتے

  >ہیں: جب اللہ تعالی کسی کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو دنیا میں اس کو امن و امان،

  >اور موت کے وقت اس کو ثابت قدمی و راحت کی دولت سے نوازتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی

  >فرشتوں کو اس کے پاس بھیجتے ہیں، جو بسہولت و آسانی اس کی روح قبض کرتے ہیں، موت

  >کے وقت اس کو استقرار عطاء کرتے ہیں، اور جنت کا مژدہ اسے سناتے ہیں۔ اللہ تعالی

  >فرماتے ہیں:<

strong>{( >واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروروگار اللہ ہے پھر اسی

  >پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے(یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم

  >نہ کرو۔ اس جنت کی بشارت سن لو جس کاتم وعدہ دئے گتے ہو۔

}</strong><small>( >فصلت:

 30)</small></p>
 <p>- >جب اللہ تعالی کسی بندے کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو ہمیشہ کے لئے اس کا

  >ٹھکانہ جنت بنادیتے ہیں: جو اللہ کا محبوب بن جائے، آخرت میں اس کا ٹھکانہ جنت

  >ہوگا۔ آخرت میں اللہ تعالی کا جو لطف و کرم اپنے محبوب بندوں پر ہوگا، اس کا خیال

  >نہ کسی بشر کے دل میں کبھی پیدا ہوا ہے، اور نہ کبھی ہوگا؛ کیونکہ اللہ تعالی نے

  >اپنے محبوب بندوں کے لئے ایسی جنت کا وعدہ کیا ہے، جس میں انسانی چاہت کے مطابق

  >ہر چیز ہوگی، جیساکہ حدیثِ قدسی میں آیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

  >کہ:<

b>&" >اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں رکھی

  >ہیں، جن کو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے، اور نہ کبھی کسی

  >انسان کے دل میں اس کا خیال پیدا ہوا ہے۔ اگر تم چاہو تو قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت

  >کرلو: <

strong>{ >کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے

  >لئے پوشیدہ رکھی ہے۔

}</strong>&"</b><small>( >اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا

  >ہے)</

small></p>
 <span> >دنیا کی خوبصورتی صرف اللہ تعالی کی محبت و اطاعت میں پنہاں ہے، اور جنت

  >کا جمال اللہ تعالی کے دیدار میں مضمر ہے۔</

span>
 <p> >اللہ تعالی کا محبوب بندہ بننے کا ایک ثمرہ یہ ملتا ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے

  >دیدار سے بہرہ ور ہوتا ہے:اللہ تعالی اپنے محبوب بندوں کے لئے اپنے نور کے ساتھ

  >تجلی فرمائیں گے، چنانچہ یہ لوگ اس سے زیادہ محبوب چیز کبھی نہیں دیکھیں گے، اس

  >لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی گئی کہ آپ نے ایک چاندنی رات میں

  >چاند کی طرف دیکھا، پھر فرمایا:<

b>&" >یقیناً تم اپنے پروردگار کو اسی طرح دیکھوگے،

  >جس طرح سے کہ آج تم یہ چاند دیکھ رہے ہو۔ اگر تم طلوعِ شمس اور غروبِ شمس سے پہلے

  >والی نمازوں کو فوت ہونے نہ دے سکو، تو ضرور ایسے ہی کرو، یعنی فوت ہونے نہ دو،

  >پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی: <

strong>{ >اور اپنے

  >رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے

  >سے پہلے بھی۔

}</strong>&"</b><small>( >صحیح بخاری)</

small></p>
 <h3> >محبت کے باب میں کچھ ہدایات و احکام:</

h3>
 <p>1- >بندے کا اللہ تعالی کے محبوب بن جانے سے بلائیں و آزمائش اس سے دور نہیں ہوتی

  >ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<

b>&" >بیشک آزمائش جتنی زیادہ بڑی ہوگی، اسی

  >قدر بدلہ بھی بڑا ملے گا۔ یقیناً جب اللہ تعالی کسی قوم کو اپنا محبوب بناتا ہے،

  >تو اس کو آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے، اب جو ان آزمائشوں سے راضی و خوش رہے، تو

  >اس کو اللہ کی رضامندی حاصل ہوگی، اور جو ناراض رہے، اس کے مقدر میں اللہ کی ناراضگی

  >ہوگی&

"</b><small>( >س حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p> >اللہ تعالی بندے کو طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے، یہاں تک کہ گناہوں

  >سے اس کو پاک کردیتا ہے، اور اس دنیا کی محبت سے اس کے دل کو خالی کردیتا ہے، اللہ

  >تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >یقیناً ہم تمہارا امتحان کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد

  >کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ظاہر کردیں اور ہم تمہاری حالتوں کی بھی جانچ

  >کرلیں۔

}</strong><small>( >محمد: 31)</

small> </p>
 <p> >نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور

  >کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ان

  >صبر کرنے والوں کو خو شخبری دے دیجئے، جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ

  >دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالی کی ملیکت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے

  >ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

}</strong><small>( >البقرۃ:

 155-157)</small></p>
 <span> >آزادی کا مطلب دل کا شرک، شبہات اور شہوتوں سے آزاد ہونا، اور بندگی کا مطلب

  >دل کی غلامی ہے، یعنی دل اللہ تعالی کے علاوہ کسی کی غلامی نہ کرے</

span>
 <p>2- >بندے کا اپنے پروردگار کی نافرمانی کرنا محبت کی کمی اور زوال کا سبب ہے۔

  >محبت کے لئے بھی بالکل ایمان کی طرح کچھ اصول اور کچھ کمالات ہیں۔ چنانچہ گناہوں

  >کے بقدر ان کمالات میں کمی آجاتی ہے، اور جب انسان شک اور نفاقِ اکبر کے مرحلے

  >میں داخل ہوجائے، تو محبت کی جڑ ہی اکھڑ آتی ہے، اور محبت ناپید ہوجاتی ہے۔ جس

  >شخص کے دل میں اللہ تعالی کی محبت نہ ہو، وہ کافر، مرتد اور منافق ہے، دین میں

  >اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ جہاں تک گنہگار لوگوں کی بات ہے، تو ان کے بارے میں یہ

  >کہنا ناممکن ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالی کی محبت نہیں ہے، البتہ یہ کہا جاسکتا

  >ہے کہ اللہ تعالی سے ان کی محبت ناقص ہے، اور اسی نقص و کمی کے بنیاد پر ان کے

  >ساتھ معاملہ کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<

b>&" >اگر تم لوگ گناہ

  >نہ کرتے، تو اللہ تعالی کسی دوسری قوم کو پیدا کرتے، جو گناہ کرتی، اور اللہ تعالی

  >ان کی مغفرت کرتے&

"</b><small>( >اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p>3- >اللہ تعالی کی محبت اس فطری محبت کے منافی نہیں ہے، جس کی طرف انسانی نفس

  >مائل ہوتا ہے، جیسے کھانے، پینے اور عورتوں وغیرہ کی محبت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم

  >نے فرمایا:<

b>&" >میرے لئے دنیا کی چیزوں میں عورت اور حلال و پاک مال کو محبوب بنایا

  >گیا&

"</b><small>( >اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p> >تو معلوم یہ ہوا کہ دنیا میں کچھ ایسی چیزیں ہیں، جن سے محبت کرنا شرک نہیں

  >ہے، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے محبت کی ہے، اور اسی لئے انسان کے

  >لئے یہ جائز ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں سے محبت کرے، بشرطیکہ وہ حرام نہ ہوں۔</

p>
 <span> >آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<

b>&" >بیشک اللہ تعالی کا سب سے زیادہ پسندیدہ

  >عمل یہ ہے کہ اللہ تعالی کے لئے کسی سے محبت کی جائے ،اور اسی کے لئے کسی سے نفرت

  >کی جائے&

" >۔</

b><small>( >اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔) </

small></span>
 <p>4- >جو شخص کسی انسان سے اس قدر محبت کرے، جیساکہ اللہ تعالی سے محبت کی جاتی

  >ہے، تو وہ مشرک ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ

  >کے شریک اوروں کو ٹھراکر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہئے۔

  >اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں، کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ

  >اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالی

  >سخت عذاب دینے والا ہے(تو ہرگز شرک نہ کرتے)

}</strong><small>( >البقرۃ: 165)</

small></p>
 <p> >اس آیت کریمہ میں اس شخص کے حق میں سخت وعید آئی ہے، جو عبادت و عظمت کے باب

  >میں کسی انسان کو اللہ تعالی کے مساوی مانے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >آپ

  >کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں

  >اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم

  >ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے

  >رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ

  >تعالی اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

}</strong><small>( >التوبۃ:

 24)</small></p>
 <p> >اس آیت میں اس شخص کے حق میں سخت وعید آئی ہے، جس کی نظر میں یہ آٹھ امور اللہ

  >تعالی کی محبت سے زیادہ عزیز ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں

  >کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:<

b>&" >کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں

  >ہوسکتا، جب تک کہ وہ مجھے اپنی اولاد، والدین اور سارے لوگوں سے زیادہ اپنا محبوب

  >نہ بنالے&

"</b> <small>( >اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p>5- >مومنوں کے بجائے مشرکوں سے محبت اور ان سے دوستی کرنا اللہ تعالی کی ذات سے

  >محبت کے منافی ہے، کیونکہ مشرک شرک میں مبتلا ہے، اور اس کا مذہب اسلام نہیں ہے۔

  >چنانچہ اللہ کے لئے محبت کرنا اور اسی کے لئے نفرت رکھنا ایمان کے اصولوں میں سب

  >سے زیادہ اہم اصول ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >مومنوں کو چاہئے کہ ایمان

  >والوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں، اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالی

  >کی کسی بھی حمایت میں نہیں، مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو، اور

  >اللہ تعالی ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔

}</strong><small>( >آلِ عمران: 28)</

small></p>
 <p> >اللہ تعالی نے مومنوں کو کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کیا، اوربڑی تاکید

  >کے ساتھ یہ بیان کیا کہ جو ان سے دوستی کرتا ہے، تو وہ کسی بھی طرح سے اللہ تعالی

  >کی ولایت و ذمہ داری سے خارج ہے؛ کیونکہ محبوب سے دوستی کرنا اور اس کے دشمن سے

  >بھی دوستی کرنا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے منافی ہیں:<

strong>{ >مگر یہ کہ ان کے

  >شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو۔

}</strong><small>( >آلِ عمران: 28)</

small></p>
 <p> >اللہ تعالی نے کافروں سے دوستی کرنے کی اس وقت چھوٹ دی ہے، جبکہ مومن کو اس

  >بات کا خوف ہو کہ کافر دوستی کے بنا ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کریں گے، تو اس

  >جیسی حالت میں ظاہری طور پر ان کے ساتھ میل ملاپ رکھنا جائز ہوگا، لیکن شرط یہ

  >ہوگی کہ دل ایمان سے مطمئن ہو، اور دل میں کفر سے کراہت پائی جاتی ہو، جیساکہ اللہ

  >تعالی فرماتے ہیں:<

strong>{ >بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر

  >برقرار ہو۔

}</strong><small>( >النحل: 106)</

small></p>
 <h3> >محبت کی روشنی اور چمک:</

h3>
 <span> >اللہ تعالی کی ذات سے محبت کی علامت یہ ہے کہ زبان ہمیشہ اس کے ذکر سے تَر

  >رہے، اور دل میں ہمیشہ اس سے ملنے کی رغبت ہو، کیونکہ اصول ہے کہ جو جس چیز سے

  >محبت کرتا ہے، اس کو وہ بکثرت یاد کرتا ہے، اور اس سے ملاقات کا شوقین رہتا ہے۔

 <h4> >ربیع بن انس</

h4></span>
 <p> >جب ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیوی زندگی اور اللہ تعالی سے ملاقات

  >کے درمیان اختیار دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<

b>&" >بلکہ مجھے تو

  >رفیقِ اعلی سے ملنا ہے&

"</b> <small>( >اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</

small></p>
 <p> >چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی محبت، اور اس سے ملاقات

  >کی چاہت کو پسند فرمایا، بلکہ دنیا کی لذتوں، خواہشوں اور ساز و سامان پر محبتِ

  >الہی کو ترحیح و فوقیت دی۔</

p>