اعمال و اخلاقیات پر پڑنے والے بندگی کے اثرات : فرد پر پڑنے والے خصوصی اثرات

اعمال و اخلاقیات پر پڑنے والے بندگی کے اثرات : فرد پر پڑنے والے خصوصی اثرات
<h2> face=Tahoma>اعمال و اخلاقیات پر پڑنے والے بندگی کے اثرات : فرد پر پڑنے والے خصوصی اثرات</h2>
<h3> face=Tahoma>پاکی:</h3>
<span> face=Tahoma>آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>پاکی ایمان کا ایک حصہ ہے۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس
face=Tahoma>حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔)</small></span>
<p> face=Tahoma>اللہ تعالی کی وحدانیت وہ سب سے بڑی چیز ہے، جس سے مومن پاک ہوجاتا ہے؛ اسی
face=Tahoma>لئے اللہ تعالی اس کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں: اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اللہ
face=Tahoma>توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ:
222)</small></p>
<p> face=Tahoma>آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>پاکی ایمان کا حصہ ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث
face=Tahoma>کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small> </p>
<p> face=Tahoma>پاکی ایمان کا حصہ ہے، اس لئے کہ پاکی ایمان ہی کی ایک اہم قسم ہے، اور اللہ
face=Tahoma>تعالی ہر ہر قسم کی پاکی کو پسند کرتے ہیں، چاہے وہ:</p>
<p>1- face=Tahoma>باطنی پاکی ہو:باطنی پاکی سے مراد یہ ہے کہ نفس کو گناہ و نافرمانیوں کے اثرات
face=Tahoma>سے، نیز اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانے سے پاک کریں، اور اس کا ذریعہ توبہ ہے،
face=Tahoma>نیز اسی طرح دل کو شرک، شک، حسد، بغض، کینہ اور گھمنڈ سے پاک کریں، اور یہ پاکی
face=Tahoma>اس وقت مقدر ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالی کے ساتھ اخلاص کا معاملہ کیا جائے، بھلائیوں
face=Tahoma>سے محبت رکھی جائے، حلم و بردباری، عاجزی و انکساری، سچائی، اور اپنے اعمال سے
face=Tahoma>اللہ کی خوشنودی ڈھونڈنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔</p>
<p>2- face=Tahoma>ظاہری پاکی: اس سے مراد جسم پر لگی ہوئی گندگی دور کرنا، اور حَدَث کو ختم
face=Tahoma>کرنا ہے:</p>
<p>- face=Tahoma>گندگی دور کرنا:یعنی پاک پانی کے ذریعے اپنے لباس، جسم اور جگہ سے نجاست یا
face=Tahoma>اس کے حکم میں شامل دیگر چیزوں کو دور کیا جائے۔</p>
<p>- face=Tahoma>حَدَث ختم کرنا:اس سے مراد نماز، تلاوتِ قرآن، یا اللہ تعالی کے گھر کا طواف
face=Tahoma>کرنے، یا اس کا ذکر کرنے کے لئے وضوء، غسل اور تیمم کرنا ہے۔</p>
<h3> face=Tahoma>نماز:</h3>
<p> face=Tahoma>نماز جوکہ بندے کا اپنے رب سے تعلق پیدا کرنے والی چیز ہے۔ نماز کے ذریعے بندہ
face=Tahoma>یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کی اطاعت کرتا ہے، اس سے محبت رکھتا ہے،
face=Tahoma>اس کے لئے عاجزی و انکساری کرتا ہے۔ اسی لئے نماز کلمہ توحید کے اقرار کے بعد اسلام
face=Tahoma>کا سب سے بڑا و اہم رکن ہے؛ چنانچہ نماز دین کا ستون اور یقین کے لئے نور ہے، نماز
face=Tahoma>سے نفوس میں پاکی، سینوں میں سکون اور دلوں میں قرار آتا ہے۔ نماز برائی کرنے سے
face=Tahoma>روکنے والی، اور گناہوں کا کفارہ کرنے والی چیز ہے۔ نماز ایک خاص عبات ہے، جو متعین
face=Tahoma>اوقات میں ادا کی جاتی ہے۔ نماز کی ابتداء تکبیر سے، اور اختتام سلام سے ہوتا ہے۔</p>
<span> face=Tahoma>آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: <b>&" face=Tahoma>نماز نور ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث
face=Tahoma>کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے)</small></span>
<p> face=Tahoma>نماز کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے اس کو چھوڑنے والا شخص اللہ اور اس کے رسول
face=Tahoma>کو جھٹلانے والا اور قرآن کریم کا منکر ہے۔ اور یہ اس طرح کا انکار ایمان کے تقاضوں
face=Tahoma>کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو نماز کی فرضیت کا تو یقین رکھتا ہے، لیکن سستی و کاہلی کی
face=Tahoma>وجہ سے نماز ترک کرتا ہے، تو یقیناً ایسا شخص اپنے آپ کو بڑے خطرے اور شدید وعید
face=Tahoma>سے دوچار کررہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:<b>&" face=Tahoma>یقیناً انسان اور کفر
face=Tahoma>و شرک کے درمیان حائل چیز نماز کو ترک کرنا ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم
face=Tahoma>نے روایت کیا ہے)</small></p>
<p> face=Tahoma>بعض دیگر علماء نے یہ کہا کہ: نماز کا چھوڑنا کفر ہے، لیکن کفرِ اکبر
face=Tahoma>نہیں ہے۔ بہرحال نماز یا تو دینِ اسلام سے خارج کرنے والا کفر ہے، یا گناہِ کبیرہ
face=Tahoma>اور سب سے زیادہ ہلاک کرنے والا عمل ہے۔ </p>
<h3> face=Tahoma>نماز کے کئی بڑے بڑے اثرات ہیں، ان میں سے بعض درجِ ذیل ہیں:</h3>
<p>1- face=Tahoma>نماز برائیوں اور فحش کاریوں سے روکتی ہے؛ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>جو
face=Tahoma>کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی
face=Tahoma>اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کررہے ہو اس
face=Tahoma>سے اللہ خبردار ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>العنکبوت: 45)</small></p>
<p>2- face=Tahoma>نماز کلمہ توحید کے اقرار کے بعد سب سے افضل عمل ہے، اس لئے حضرت عبداللہ
face=Tahoma>بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، فرماتے ہیں کہ:<b>&" face=Tahoma>میں نے آپ صلی اللہ علیہ
face=Tahoma>وسلم سے دریافت کیا کہ: کونسا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وقت پر
face=Tahoma>پڑھی جانے والی نماز۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پھر کہا: اس کے بعد کونسا عمل افضل
face=Tahoma>ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کی فرمانبرداری۔ راوی کہتے ہیں
face=Tahoma>کہ میں نے پھر کہا: اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
face=Tahoma>اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small>
face=Tahoma>، بندہ جن جن عبادتوں سے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرتا ہے، ان سب میں نماز سب سے
face=Tahoma>افضل عبادت ہے۔</p>
<p>3- face=Tahoma>نماز گناہوں کو دھوڈالتی ہے، اس لئے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
face=Tahoma>کی حدیث ہے، کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>پانچ نمازوں کی مثال
face=Tahoma>تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے پائی جانے والی اس جاری نہر کی طرح ہے، جس میں وہ
face=Tahoma>ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small></p>
<p>4- face=Tahoma>نماز نمازی کے لئے دنیا اور آخرت میں نور ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز
face=Tahoma>کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>جو نماز کی پابندی کرلے، تو نماز اس کے لئے
face=Tahoma>قیامت کے دن، نور، برھان، اور نجات ہوگی۔ اور جو اس کی پابندی نہ کرے، تو اس کے
face=Tahoma>لئے نہ کوئی نور ہوگا، نہ برھان اور نہ اس کو نجات ملے گی، اور یہ شخص قیامت کے
face=Tahoma>دن قارون، فرعون، ہامان، اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو
face=Tahoma>امام احمد نے روایت کیا ہے)</small> face=Tahoma>،نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>نماز
face=Tahoma>نور ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے)</small></p>
<p>5- face=Tahoma>نماز کے ذریعے اللہ تعالی بندے کے درجات بلند کرتا ہے، اور گناہوں کو مٹاتا
face=Tahoma>ہے؛ اس لئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی
face=Tahoma>اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>تم کثرت سے
face=Tahoma>سجدہ کرو یعنی نماز پڑھو، کیونکہ تم اللہ تعالی کے سامنے ایک بھی سجدہ کرتے ہو،
face=Tahoma>تو اللہ تعالی اس سجدے کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور تمہارے ایک گناہ
face=Tahoma>کو مٹاتا ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small></p>
<p>6- face=Tahoma>نماز اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں جنت میں داخلہ ملنے کا سب
face=Tahoma>سے اہم ذریعہ ہے؛ اس لئے کہ حضرت ربیعۃ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے،
face=Tahoma>کہتے ہیں کہ:<b>&" face=Tahoma>میں ایک شب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے آپ کے لئے
face=Tahoma>وضوء اور قضاء حاجت کے لئے پانی لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگو،
face=Tahoma>تو میں نے کہا: میں جنت میں آپ کی صحبت مانگتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
face=Tahoma>کیا اس کے علاوہ کوئی اور چیز؟ تو میں نے کہا: بس یہی کافی ہے میرے لئے، تو آپ
face=Tahoma>صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کثرت سجود سے میری مدد کرو۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث
face=Tahoma>کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small></p>
<p>7- face=Tahoma>نماز طاقت و غلبہ رکھنے والے اللہ اور کمزور بندے کے درمیان ایک ربط ہے، تاکہ
face=Tahoma>کمزور انسان طاقتور و مضبوط ذات کی قوت سے اپنے آپ کو طاقتور بنالے، کثرت سے اس
face=Tahoma>کا ذکر کرے، اور اپنے دل کو اس کی یاد سے مربوط رکھے؛ کیونکہ نماز کے مقاصد میں
face=Tahoma>یہی سب سے بڑا مقصد ہے؛ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور میری یاد کے لئے نماز
face=Tahoma>قائم کر۔ }</strong> <small>( face=Tahoma>طٰہٰ: 14)</small></p>
<h3> face=Tahoma>زکاۃ :</h3>
<span> face=Tahoma>زکاۃ پاک کرنے والی، انسان، اس کے مال اور معاشرے کو بلندی عطا کرنے والی
face=Tahoma>عبادت ہے۔</span>
<p> face=Tahoma>پاکی و بلندئ نفس سے زکاۃ کا تعلق ہے۔ پاکئی نفس توحید پرست بندے کو اپنا مال
face=Tahoma>زکاۃ کے ذریعے پاک رکھنے کا خُوگر بناتی ہے۔ زکاۃ مالداروں کے مال میں ایک لازمی
face=Tahoma>حق ہے، جو غریبوں اور ان جیسے دیگر لوگوں میں تقسیم کی جاتی ہے، تاکہ اللہ تعالی
face=Tahoma>کی خوشنودی حاصل کی جائے، نفوس کو پاک کیا جائے، اور ضرورت مند و محتاجوں کے ساتھ
face=Tahoma>احسان کا معاملہ کیا جائے۔</p>
<p> face=Tahoma>زکاۃ کی اسلام میں بہت بڑی اہمیت ہے، اور زکاۃ کی شرعی حیثیت اس کی اہمیت و
face=Tahoma>مقام کی کھلی دلیل ہے، اور اس شرعی حکم میں غور و فکر کرنے والا انسان اسلام کے
face=Tahoma>اس عظیم رکن کی اہمیت اور اس سے پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگالے گا۔ ان ہی اثرات
face=Tahoma>میں سے بعض یہ ہیں:</p>
<p>1- face=Tahoma>انسانی نفس کو کنجوسی، لالچ، اور حرص جیسی قبیح عادتوں سے پاک رکھنا۔</p>
<p>2- face=Tahoma>غریبوں کے ساتھ ہمدردی، محتاج، ضرورتمند اور محروم لوگوں کی ضرورتوں کی تکمیل۔</p>
<p>3- face=Tahoma>ایسے مفادِ عامہ کی تکمیل جس پر امت کی زندگی اور خوشی موقوف ہوتی ہے۔</p>
<p>4- face=Tahoma>مالداروں اور تاجروں کے ہاتھوں میں مال کی بھرمار کو محدود رکھنا، تاکہ مال
face=Tahoma>کسی ایک متعین گروہ پر منحصر نہ ہو، یا مالداروں کی ہی جاگیر بن کر نہ رہ جائے۔</p>
<p>5- face=Tahoma>زکاۃ اسلامی معاشرے کو گویا ایک خاندان بنادیتی ہے، جس میں صاحبِ حیثیت نادار
face=Tahoma>پر، اور صاحبِ وسعت تنگدست پر رحم کھاتا ہے۔</p>
<p>6- face=Tahoma>زکاۃ سے مالداروں کے تئیں دلوں میں پائے جانے والے غصے اور کراہت کو، نیز
face=Tahoma>اللہ تعالی کی طرف سے مالداروں کو 6-ملنے والی نعمتوں پر لوگوں کے دلوں میں موجود
face=Tahoma>کینہ یا حسد کا ازالہ کرتی ہے۔</p>
<p>7- face=Tahoma>زکاۃ مالی جرائم، جیسے چوری، لوٹ مار اور ڈکیتی کے وقوع پذیر ہونے میں آڑ
face=Tahoma>بنتی ہے۔</p>
<p>8- face=Tahoma>زکاۃ مال کو پروان چڑھاتی ہے، یعنی بڑھاتی ہے۔</p>
<p> face=Tahoma>قرآن و حدیث میں کئی ایسی واضح دلائل موجود ہیں، جو زکاۃ کی فرضیت کا ثبوت دیتے
face=Tahoma>ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زکاۃ اسلام کے ان مضبوط ستونوں
face=Tahoma>میں سے ایک ہے، جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے، اور اسی وجہ سے زکاۃ کو اس دین کے
face=Tahoma>اہم ارکان میں تیسرا رکن قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور
face=Tahoma>نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ }</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ:
43)</small></p>
<p> face=Tahoma>نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>تم نمازیں قائم رکھو، اور زکوٰۃ دیتے رہا
face=Tahoma>کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجوگے، سب کچھ اللہ کے پاس پا لوگے، بے
face=Tahoma>شک اللہ تعالی تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ: 110)</small></p>
<p> face=Tahoma>حضرت جبرئیل کی مشہور و معروف حدیث میں آیا ہے کہ:<b>&" face=Tahoma>اسلام یہ ہے کہ تم اللہ
face=Tahoma>کے سواء کسی کے معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے
face=Tahoma>کی گواہی دو، نماز کی پابندی کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور اگر صاحبِ
face=Tahoma>استطاعت ہو، تو حج کرو&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small></p>
<p> face=Tahoma>نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
face=Tahoma>اللہ کے سواء کسی کے معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول
face=Tahoma>ہونے کی گواہی دینا، نماز کی پابندی کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا،
face=Tahoma>اور اگر صاحبِ استطاعت ہو، تو حج کرنا&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بخاری نے روایت
face=Tahoma>کیا ہے۔ )</small></p>
<p> face=Tahoma>اس جیسے بہت سے دلائل موجود ہیں، جو واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہیں کہ زکاۃ
face=Tahoma>اسلام کا اہم رکن اور اہم بنیاد ہے، جس کے بغیر اسلام مکمل ہو نہیں سکتا ہے۔</p>
<h3> face=Tahoma>روزہ:</h3>
<span> face=Tahoma>روزہ دل میں ایمان کے تعمیر کی تربیت گاہ ہے۔</span>
<p> face=Tahoma>اللہ تعالی نے روزے فرض کئے، اس کو اسلام کا رکن قرار دیا۔ روزہ - اللہ تعالی
face=Tahoma>کی بندگی کی نیت سے - طلوعِ آفتاب سے لیکر غروبِ آفتاب تک روزہ توڑنے والی چیزوں
face=Tahoma>سے رُکے رہنے کا نام ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>تم کھاتے پیتے رہو یہاں
face=Tahoma>تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا۔
}</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ: 187)</small></p>
<p> face=Tahoma>بندے کے دل میں ایمان اور اللہ تعالی کی وحدانیت گھر کرجانا، اللہ تعالی کے
face=Tahoma>فرض کئے ہوئے احکامات پر عمل کرنے کا سبب ہے، تاکہ اللہ تعالی کے اس فرمان پر عمل
face=Tahoma>ہوجائے:<strong>{ face=Tahoma>اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے
face=Tahoma>لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ }</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ:
183)</small></p>
<p> face=Tahoma>توحید پرست انسان روزہ رکھ کر خوش ہوتا ہے، اور روزہ رکھنے میں سبقت کرتا ہے۔
face=Tahoma>اللہ تعالی حدیثِ قدسی میں فرماتے ہیں:<b>&" face=Tahoma>بنی آدم کا ہر عمل اس کی اپنی ذات کے
face=Tahoma>لئے ہے، سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ میرے لئے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں
face=Tahoma>۔ ۔ &"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)</small></p>
<h3> face=Tahoma>روزے کی وجہ سے بندے پر پڑنے والے اثرات بہت ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:</h3>
<p>1- face=Tahoma>روزہ بندے اور اس کے پروردگار کے درمیان ایک راز ہے، جس میں مومن کے اندر
face=Tahoma>پائے جانے والے اپنے خدا کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین نمایاں ہوتا ہے؛ کیونکہ کسی
face=Tahoma>بھی صورت میں روزے میں ریاکاری ناممکن ہے۔ چنانچہ روزہ مومن کے دل میں اللہ تعالی
face=Tahoma>کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین اور اس کی خشیت پیدا کرتا ہے؛ اور یہ ایک بلند پایہ
face=Tahoma>مقصود ہے، جس کو پانے میں بہت سے لوگ کوتاہی کے شکار ہیں۔</p>
<p>2- face=Tahoma>روزہ امت کو ترتیب و نظام، اتحاد و اتفاق، انصاف پسندی اور مساوات کی تعلیم
face=Tahoma>دیتا ہے۔ نیز مومنوں کے درمیان رحم و کرم اور اچھے اخلاق کا جذبہ پیدا کرتا ہے،
face=Tahoma>اور اسی طرح روزہ اسلامی معاشرے کو شرور و فتن اور برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>3- face=Tahoma>روزہ مسلمان کو اپنے بھائی کی تکلیف محسوس کرنے کا عادی بناتا ہے، چنانچہ
face=Tahoma>اسی احساس کے نتیجے میں مسلمان غریبوں اور محتاجوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے،
face=Tahoma>اور ان پر اپنا مال خرچ کرتا ہے؛ اور اس طرح مسلمانوں کے درمیان محبت و بھائی چارگی
face=Tahoma>پیدا ہوجاتی ہے۔</p>
<p>4- face=Tahoma>روزہ نفس کو کنٹرول میں رکھنے، ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے، اور تکالیف برادشت
face=Tahoma>کرنے کی عملی مشق ہے۔</p>
<p>5- face=Tahoma>روزہ گناہوں میں پڑنے سے انسان کے لئے ڈھال ہے، اور روزے کے بدلے میں انسان
face=Tahoma>کو خیرِ کثیر سے نوازا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>روزہ
face=Tahoma>ڈھال ہے، روزے دار گالی گلوج نہ کرے، جہالت پر نہ اتر آئے، اور اگر کوئی شخص اس
face=Tahoma>سے جھگڑا کرے، یا گالی دے، تو وہ اس سے کہہ دے کہ میں تو روزے سے ہوں، دو بار اس
face=Tahoma>طرح کہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، روزے دار کے منہ کی بُو
face=Tahoma>اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزے دار نے میرے لئے کھانا،
face=Tahoma>پینا اور اپنی خواہشات کو چھوڑ رکھا ہے۔ روزہ میرے لئے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ
face=Tahoma>دینے والا ہوں، اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہوگا۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام
face=Tahoma>بخاری نے روایت کیا ہے)</small></p>
<h3> face=Tahoma>حج:</h3>
<p> face=Tahoma>اللہ تعالی کی وحدانیت حج میں عیاں ہوتی ہے۔ حج وہ عبادت ہے جس سے توحید پرست
face=Tahoma>بندے کی وحدانیت میں اور اضافہ ہوتا ہے، اور وہ کمالِ ایمان سے آراستہ ہوجاتا ہے۔
face=Tahoma>عبادتِ حج میں بندہ اپنے حج کی شروعات میں &" face=Tahoma>لبيك اللَّهم لبَيك لبيكَ لا شَريكَ
face=Tahoma>لكَ لبيك&" face=Tahoma>کی صدا لگاتے ہوئے توحید کا اعلان کرتا ہے، بلکہ وہ حج کے ہر عمل میں
face=Tahoma>اسی کا ثبوت پیش کرتا ہے، تاکہ وہ گناہوں سے دور رہتے ہوئے، اور توحید کا اعلان
face=Tahoma>کرتے ہوئے اس دن کی طرح واپس اپنے گھر لوٹتا ہے، جس دن کہ اس کی ماں نے اس کو جنا
face=Tahoma>تھا۔ حج ایامِ حج میں اللہ تعالی کی طرف سے نازل شدہ تعلیمات، اور اس کے رسول صلی
face=Tahoma>اللہ علیہ وسلم کے حج کو اسوہ بناتے ہوئے مناسکِ حج کی ادائیگی کی نیت سے اللہ
face=Tahoma>کے گھر کو پہنچنے کا نام ہے۔ قرآن و حدیث اور اجماعِ امت کی روشنی میں اللہ تعالی
face=Tahoma>کی طرف سے اپنے بندوں پر حج فرض ہے۔</p>
<span> face=Tahoma>نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>کعبۃ اللہ کا طواف، صفا و
face=Tahoma>مروۃ کے درمیان سعی، اور رمئ جمرات کو اللہ تعالی کے ذکر کی غرض سے فرض کیا گیا
face=Tahoma>ہے۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</small></span>
<h3> face=Tahoma>بندے کی زندگی پر پڑنے والے حج کے اثرات: </h3>
<p>1- face=Tahoma>حج گناہوں کے کفارے کا سبب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>کیا
face=Tahoma>تمہیں معلوم ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ماضی میں کئے ہوئے تمام اعمال کا شمار
face=Tahoma>نہیں رہتا ہے، ہجرت کرلینے کے بعد ماضی میں کئے ہوئے تمام اعمال کا شمار نہیں رہ
face=Tahoma>جاتا ہے، اور اسی طرح حج سے پہلے کئے ہوئے تمام اعمال حج کرلینے کے بعد لا اعتبار
face=Tahoma>ہوجاتے ہیں۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small></p>
<p>2- face=Tahoma>حج اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کا نام ہے، چنانچہ بندہ اپنے گھر بار، بال
face=Tahoma>بچے چھوڑ آتا ہے، اپنے کپڑے اتار پھینکتا ہے، اوراللہ تعالی کے حکم پر عمل کرتے
face=Tahoma>ہوئے وحدانیت کا اعلان کرتا ہے۔ اور یہ اطاعت و فرمانبرادی کی بہت بڑی مثال ہے۔</p>
<p>3- face=Tahoma>حج اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے اور جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ ہے۔ آپ
face=Tahoma>صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>حجِ مقبول کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں
face=Tahoma>ہے۔ &"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث پر امام بخاری و امام مسلم متفق ہیں)</small></p>
<p>4- face=Tahoma>حج لوگوں کے درمیان مساوات اور انصاف کے اصول کو واضح کرنے کا عملی مظاہرہ
face=Tahoma>ہے؛ چنانچہ جب سارے لوگ عرفات کی چوٹی پر ایک ہی جگہ کھڑے ہوجاتے ہیں، تو ان کے
face=Tahoma>درمیان دنیا کی کسی بھی چیز کے ذریعہ کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں رہتی
face=Tahoma>ہے، بلکہ وحدانیت اور تقوی کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فوقیت دی جاتی ہے۔</p>
<p>5- face=Tahoma>فریضہ حج میں آپسی تعارف و تعاون کے اصول کی توثیق ہوتی ہے، کیونکہ حج میں
face=Tahoma>آپسی تعارف مضبوط ہوتا ہے، ایک دوسرے سے مشورہ لیا جاتا ہے، اور آراء کا آپسی تبادل
face=Tahoma>ہوتا ہے۔ اور اس اصول پر عمل کرنے میں امت کی ترقی اور اس کی قائدانہ حیثیت کو
face=Tahoma>بلند کرنے میں بے حساب فوائد ہیں۔</p>
<p>6- face=Tahoma>حج وحدانیت اور اخلاص کا داعی ہے، جو حج کے بعد انسان کی ساری زندگی پر اثر
face=Tahoma>انداز ہوتا ہے، پھر وہ سوائے ایک اللہ کے کسی کو نہیں مانتا ہے، اور نہ اللہ تعالی
face=Tahoma>کے علاوہ کسی سے مانگتا ہے۔</p>


متعلقہ: