خوف

خوف
<h2> face=Tahoma>خوف</h2>
 <span><strong>{ face=Tahoma>اللہ تعالی تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے۔}</strong><small> [ face=Tahoma>آلِ
  face=Tahoma>عمران]</small></span>
 <h3> face=Tahoma>خوف کا مطلب:</h3>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی سے خوف رکھنے کا تعلق دل کی بڑی بڑی عبادتوں سے ہے۔ اللہ تعالی فرماتے
  face=Tahoma>ہیں:<strong>{ face=Tahoma>یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، تم
  face=Tahoma>ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو۔ }</strong> <small>( face=Tahoma>آلِ
  face=Tahoma>عمران: 175)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ صرف ایک اللہ سے ڈرنا ضروری ہے۔ اور اس
  face=Tahoma>بات پر زور دیا گیا کہ اللہ کی ذات سے خوف رکھنا ایمان کے لئے لازمہ ہے؛ چنانچہ
  face=Tahoma>بندے کے اندر پائے جانے والے ایمان کے بقدر ہی اس کے اندر اللہ تعالی کا خوف پیدا
  face=Tahoma>ہوتا ہے۔</p>
 <p> face=Tahoma>ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے، فرماتی ہیں کہ:<b>&" face=Tahoma>میں نے
  face=Tahoma>اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت: <strong>{ face=Tahoma>اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ
  face=Tahoma>دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں۔} </strong> face=Tahoma>کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا اس
  face=Tahoma>آیت سے وہ لوگ مراد ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ
  face=Tahoma>وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں اے ابوبکر کی بیٹی، اس آیت سے وہ لوگ مراد ہیں جو روزہ
  face=Tahoma>رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، صدقہ خیرات کرتے ہیں، اور اس سب کے باوجود ان کے دلوں
  face=Tahoma>میں یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں ہماری یہ عبادتیں قبول نہ کی جائیں&"</b><small>( face=Tahoma>اس
  face=Tahoma>حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <h3> face=Tahoma>اللہ تعالی کا خوف پیدا کرنے والی چیزیں:</h3>
 <p>1- face=Tahoma>اللہ تعالی کی ذات، اور اس کے اسماء و صفات کا علم رکھتے ہوئے اللہ تعالی
  face=Tahoma>کا عظمت و احترام کرنا۔ <strong>{ face=Tahoma>اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے کپکپاتے رہتے
  face=Tahoma>ہیں۔ }</strong><small>( face=Tahoma>النحل: 50)</small></p>
 <p>2- face=Tahoma>اس بات کا خوف رکھنا کہ کہیں اس کا آخری ٹھکانہ اس کے پسند کے مطابق نہ ہو،
  face=Tahoma>جیسے دوزخ کا دردناک عذاب ہو۔ اور دوزخ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔</p>
 <p>3- face=Tahoma>اپنے فرائض کے تئیں کوتاہی کا احساس، نیز اللہ تعالی کے اس کے حالات پر مطلع
  face=Tahoma>ہونے اور اس کے معاملات پر قدرت رکھنے والا ہونے کا یقین رکھیں، اور کسی بھی گناہ
  face=Tahoma>یا نافرمانی کو چھوٹا نہ سمجھیں، بلکہ یہ دیکھیں کی جس کی نافرمانی کی جارہی ہے
  face=Tahoma>وہ کتنی عظمت و ہیبت والی ذات ہے۔</p>
 <p>4- face=Tahoma>اللہ تعالی کے کلام قرآن کریم میں غور و فکر کیا جائے۔ قرآن کریم میں اللہ
  face=Tahoma>تعالی کی نافرمانی کرنے والوں کے لئے کئی دھمکیاں اور وعید سنائی گئی ہے، نیز اس
  face=Tahoma>شخص کے لئے جو اس کی شریعت سے روگردانی کرتا ہے، اور اللہ کی طرف سے اپنے پاس پہنچنے
  face=Tahoma>والے نور ہدایت کو پسِ پشت ڈالتا ہے۔</p>
 <p>5- face=Tahoma>اللہ تعالی کے کلام قرآن کریم، اس کے رسول کی حدیث میں غور و فکر سے کام لیا
  face=Tahoma>جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنا نصب العین بنائے۔</p>
 <span> face=Tahoma>اللہ تعالی کا خوف یقینی طور پر اس کی ذات کا علم پیدا کرتا ہے، اور یہ علم
  face=Tahoma>اللہ تعالی کی خشیت کا لازمی سبب بنتا ہے، اور خشیت اللہ تعالی کی اطاعت کا اہم
  face=Tahoma>ذریعہ ہے۔</span>
 <p>6- face=Tahoma>اللہ تعالی کی عظمت و احترام کا پاس رکھا جائے؛ کیونکہ جو انسان اس بارے میں
  face=Tahoma>سوچ و فکر سے کام لیتا ہے، اس کو اللہ تعالی کی صفات سے تعلق پیدا ہوجاتا ہے، اور
  face=Tahoma>جس انسان کے دل میں اللہ تعالی کی عظمت پیدا ہوجاتی ہے، تو اس کو اللہ تعالی سے
  face=Tahoma>ڈرنے کی حقیقت کا کماحقہ علم ہوجاتا ہے، پھر وہ یقینی طور پر اس سے ڈرنے لگتا ہے۔
  face=Tahoma>اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اللہ تعالی تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>آلِ
  face=Tahoma>عمران: 28)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالی کی
  face=Tahoma>کرنی چاہئے تھی نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان
  face=Tahoma>اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے
  face=Tahoma>لوگ اس کا شریک بنائیں۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الزمر: 67)</small></p>
 <p>7- face=Tahoma>موت اور اس کی شدت کو یاد رکھا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ موت سے چھٹکارہ
  face=Tahoma>نہیں ہے۔ <strong>{ face=Tahoma>کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ تو تمہیں پہنچ
  face=Tahoma>کر رہے گی۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الجمعۃ: 8)</small></p>
 <p> face=Tahoma>یہ سب مذکورہ بالا چیزیں اللہ تعالی کا خوف پیدا کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ
  face=Tahoma>وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>لذتوں کو ختم کرنے والی چیز موت کو بکثرت یاد کرو؛ کیونکہ جو
  face=Tahoma>بھی زندگی کی تنگدستیوں میں اس کو یاد کرتا ہے، تو اس کے لئے کشادگیوں کے راستے
  face=Tahoma>پیدا ہوجاتے ہیں، اور جو شخص خوشحالیوں میں موت کو یاد کرتا ہے، تو موت اس کی زندگی
  face=Tahoma>کو تنگ کردیتی ہے&"</b> <small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>8- face=Tahoma>موت کے بعد والی زندگی، قبر اور اس کے دردناک عذاب کے بارے میں سوچا جائے۔
  face=Tahoma>آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:<b>&" face=Tahoma>میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع
  face=Tahoma>کیا تھا، لیکن اب تم قبروں کی زیارت کرو، کیونکہ قبروں کی زیارت دنیا سے بے رغبتی
  face=Tahoma>پیدا کرتی ہے، اور آخرت کو یاد دلاتی ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ابن ماجہ
  face=Tahoma>نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، فرماتے ہیں کہ:<b>&" face=Tahoma>ہم آپ صلی اللہ علیہ
  face=Tahoma>وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے پر تشریف
  face=Tahoma>فرما ہوئے، اور رونے لگے، یہاں تک کہ زمین تَر ہوگئی، پھر فرمایا: اے میرے بھائیو
  face=Tahoma>اس جیسی چیز کے لئے تم اپنے آپ کو تیار رکھو&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ابن ماجہ
  face=Tahoma>نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اور اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو
  face=Tahoma>جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچاسکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا
  face=Tahoma>بھی نفع کرنے والا ہوگا (یاد رکھو) اللہ کا وعدہ سچا ہے، (دیکھو) تمہیں دنیا کی
  face=Tahoma>زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>لقمان:
 33)</small></p>
 <p>9- face=Tahoma>لوگ جن گناہوں کو معمولی سمجھ بیٹھے ہیں، اس کے بارے میں غور و فکر کریں۔
  face=Tahoma>اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جیسے گناہوں کی ایسی قوم کے ساتھ تشبیہ دی ہے،
  face=Tahoma>جس نے کسی گھاٹی میں پڑاؤ ڈالا ہو، پھر ان میں سے ہر ایک شخص لکڑیاں لانے لگے،
  face=Tahoma>یہاں تک کہ ان کے پاس اتنی لکڑی اکٹھا ہوجائے جس سے کہ وہ اپنی روٹیاں سیکنے لگیں۔
  face=Tahoma>یاد رہے کہ لکڑیاں اکٹھا کرنے و آگ جلانے، اور گناہ و گنہگاروں کی چمڑیاں جلنے
  face=Tahoma>کے درمیان گہرا تعلق ہے:<strong>{ face=Tahoma>جب ان کی کھالیں پک جائیں گی۔ }</strong>
 <small>( face=Tahoma>النساء: 56)</small></p>
 <p>10- face=Tahoma>بندہ یہ یقین رکھے کہ اس کے درمیان اور توبہ کے درمیان اچانک آنے والی موت
  face=Tahoma>آڑے ہوگی، اور اس وقت حسرت و افسوس بے سود ہوگا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>یہاں
  face=Tahoma>تک کہ ان میں سے جب کسی کو موت آنے لگتی ہے، تو کہتا ہے اے میرے پروردگار مجھے
  face=Tahoma>واپس لوٹادے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>المومنون: 99)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن کا ڈر سنادے۔
 }</strong><small>( face=Tahoma>مریم: 39)</small> </p>
 <p>11- face=Tahoma>برے انجام کے بارے میں سوچیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>فرشتے ان کے
  face=Tahoma>منہ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں۔ } </strong><small>( face=Tahoma>الانفال: 50)</small></p>
 <p>12- face=Tahoma>ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں، جن سے آپ کے اندر اللہ کا خوف و خشیت پیدا ہو،
  face=Tahoma>اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے
  face=Tahoma>پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے
  face=Tahoma>ہیں)}</strong><small> ( face=Tahoma>الکھف:)</small></p>
 <h3> face=Tahoma>اللہ تعالی کی ذات سے کیا جانے والا خوف دو چیزوں سے مربوط ہے:</h3>
 <p> face=Tahoma>الف: اللہ تعالی کے عذاب کا خوف:وہ عذاب جس سے اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک بنانے
  face=Tahoma>والوں، اس کی نافرمانی کرنے والوں اور اللہ تعالی کی اطاعت و بندگی سے دور رہنے
  face=Tahoma>والوں کو دھمکایا گیا ہے۔</p>
 <p> face=Tahoma>ب: اللہ تعالی کی ذات کا خوف:یہ خوف علماء اور اللہ تعالی کی ذات کی معرفت رکھنے
  face=Tahoma>والوں کے اندر پایا جاتا ہے: <strong>{ face=Tahoma>اور اللہ انہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>آلِ
  face=Tahoma>عمران: 28)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی کی معرفت جس قدر زیادہ ہوگی، اسی قدر اللہ کا خوف بھی زیادہ ہوگا۔
  face=Tahoma>اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے
  face=Tahoma>ہیں۔ }</strong><small>( face=Tahoma>فاطر: 28)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اس لئے کہ جب ان کے اندر اللہ کی ذات، اس کے اسماء و صفات کی معرفت کمال تک
  face=Tahoma>پہنچ گئی، تو انہوں نے خوفِ الہی کو ترجیح دی، پھر اس کے اثر سے ان کے دل امڈ پڑے،
  face=Tahoma>اور یہی اثر ان کے اعضاء و جوارح سے ظاہر ہونے لگا۔</p>
 <h3> face=Tahoma>اللہ تعالی کی ذات سے خوف رکھنے پر ملنے والے فوائد:</h3>
 <p> face=Tahoma>الف: دنیا میں:</p>
 <span> face=Tahoma>جب اللہ تعالی کی ذات کا خوف دل میں گھر کرجائے، تو وہ دل میں پائے جانے
  face=Tahoma>والی شہوتوں کی دنیا جلادیتا ہے، اور خواہشات کو دور رکھتا ہے۔ </span>
 <p>1- face=Tahoma>زمین پر قدرت و غلبہ پیدا کرنے، اور ایمان و سکون میں زیادتی کا ایک سبب ہے،
  face=Tahoma>اس لئے کہ جب تمہیں وعدے کے مطابق کوئی چیز مل جائے، تو تمہارا اعتماد اور بڑھ
  face=Tahoma>جاتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں
  face=Tahoma>ملک بدر کردیں گے یا تم پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ، تو ان کے پروردگار نے ان
  face=Tahoma>کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہی غارت کردیں گے۔ اور ان کے بعد ہم خود تمہیں
  face=Tahoma>اس زمین میں بسائیں گے۔ یہ ہے ان کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور
  face=Tahoma>میری وعید سے خوفزدہ رہیں۔}</strong><small>( face=Tahoma>ابراھیم: 13-14)</small></p>
 <p>2- face=Tahoma>خوف نیکی کرنے، اخلاص پیدا کرنے، اور دنیا میں کسی بدلے کا طلبگار نہ بننے
  face=Tahoma>پر ابھارتا ہے، کیونکہ آخرت میں ملنے والے بدلے میں تو کوئی کمی ہونے والی نہیں
  face=Tahoma>ہے۔<strong>{ face=Tahoma>ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالی کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں، نہ تم سے
  face=Tahoma>بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکرگذاری۔}</strong><small>( face=Tahoma>الانسان: 9-10)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں
  face=Tahoma>اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے، وہاں صبح و شام اللہ تعالی کی تسبیح
  face=Tahoma>بیان کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز
  face=Tahoma>کے قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت
  face=Tahoma>سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔ }</strong><small>( face=Tahoma>النور: 36-37)</small></p>
 <p> face=Tahoma>یعنی بے چین و بے قرار ہوجاتے ہیں، اور یہی وہ چیز ہے، جس پر عمل ابھارتا ہے۔
  face=Tahoma>یہ لوگ نجات کے امیدوار ہیں، ہلاکت و بربادی کا انہیں خدشہ ہے، اور یہ خوف لاحق
  face=Tahoma>ہے کہ کہیں انہیں اپنا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں نہ دے دیا جائے۔</p>
 <p> face=Tahoma>ب- آخرت میں:</p>
 <span> face=Tahoma>جو اللہ تعالی کا خوف رکھتا ہے، تو خوف ہر بھلائی کی طرف اس کی رہبری کرتا
  face=Tahoma>ہے۔</span>
 <p>1- face=Tahoma>بندہ قیامت کے دن عرش کے سائے تلے ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
  face=Tahoma>کہ:<b>&" face=Tahoma>۔ ۔ ۔اور وہ انسان جس کو کسی صاحبِ منصب و خوبصورت خاتون نے زنا کی دعوت
  face=Tahoma>دی، اور وہ یہ کہے کہ میں اللہ تعالی کا خوف رکھتا ہوں ۔ ۔ ۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث
  face=Tahoma>کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے یہ جملہ کہتا ہے، تاکہ وہ خاتون
  face=Tahoma>کو اس کے برے ارادے سے دور رکھے، اپنے آپ کو بھی یہ یاد دلائے، اپنے فیصلے پر اٹل
  face=Tahoma>رہے، اور اپنے اصولوں سے رجوع نہ کرے۔ <b>&" face=Tahoma>۔ ۔ ۔ اور وہ انسان جو تنہائی میں اللہ
  face=Tahoma>تعالی کو یاد کرے، اور اس کی آنکھیں بَھ نکلی ہوں ۔ ۔ ۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو
  face=Tahoma>امام بخاری نے روایت کیا ہے)</small> face=Tahoma>، آنسو بہانے والا خوف اس بات کا متقاضی ہے
  face=Tahoma>کہ قیامت کے دن اس آنکھ کو آگ نہ چھوئے۔</p>
 <p>2- face=Tahoma>خوف مغفرت کا سبب ہے، اس کی دلیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے:<b>&" face=Tahoma>آپ
  face=Tahoma>سے پہلی والی اقوام میں ایک شخص تھا، جس کو اللہ تعالی نے مال کی نعمت سے نوازا
  face=Tahoma>تھا، جب وہ حالتِ نزع میں تھا، اس وقت اس شخص نے اپنی اولاد سے یہ کہا: میں تمہارے
  face=Tahoma>لئے کیسا باپ رہا؟ تو بچوں نے کہا: آپ ہمارے بہت اچھے باپ تھے۔ اس نے کہا: یقیناً
  face=Tahoma>میں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ہے، لہذا جب میں مرجاؤں، تو میری نعش کو جلادو،
  face=Tahoma>پھر اس کی راخ کو اکٹھا کرکے تیز ہواؤں میں اس کو اڑادو۔ چنانچہ بچوں نے ایسے ہی
  face=Tahoma>کیا۔ پھر اللہ تعالی نے اس شخص کی راخ کو اکٹھا کیا، پھر اس سے کہا: کس بناء پر
  face=Tahoma>تم نے ایسا کیا تھا؟ تو وہ شخص جواب دیتا ہے: آپ کے خوف کی بناء پر، تو اللہ تعالی
  face=Tahoma>اس کو اپنے آغوشِ رحمت میں لے لیتے ہیں&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بخاری نے روایت
  face=Tahoma>کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی نے جہالت کی وجہ سے اس کو معذور سمجھا، اور اس شخص کے دل میں اپنے
  face=Tahoma>پروردگار سے پائے جانے والے خوف نے اس کو شفاعت کا مستحق بنادیا، ورنہ جو شخص موت
  face=Tahoma>کے بعد جِلائے جانے کا انکار کرے وہ کافر ہے۔</p>
 <p>3- face=Tahoma>خوف انسان کو جنت کی طرف لے جاتا ہے؛ اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
  face=Tahoma>فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>جس میں خوف پیدا ہوگیا، وہ داخل ہوگیا، اور جو داخل ہوگیا، وہ اپنے
  face=Tahoma>منزلِ مقصود کو پالیا۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالی کی پونجی بہت قیمتی ہے۔ یاد رکھو
  face=Tahoma>کہ اللہ تعالی کی پونجی جنت ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا
  face=Tahoma>ہے)</small></p>
 <p>4- face=Tahoma>قیامت کے دن ملنے والا امن و امان۔ اللہ تعالی حدیثِ قدسی میں فرماتے ہیں:<b>&" face=Tahoma>میری
  face=Tahoma>عزت و جلال کی قسم میں میرے بندے کے حق میں دو خوف اور دو سکون اکٹھا کرنے کا فیصلہ
  face=Tahoma>نہیں کرتا ہوں۔ چنانچہ جب وہ دنیا میں مجھ سے خوف کرنے والا ہوگا، تو میں قیامت
  face=Tahoma>میں اس کو بے خوف رکھوں گا۔ اور جب وہ دنیا میں میرے عذاب سے بے خوف تھا، تو قیامت
  face=Tahoma>کے دن میں اس کے دل میں خوف ڈال دوں گا۔ &"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بیہقی نے
  face=Tahoma>روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>5- face=Tahoma>خوف سے بندہ ان صفات کا حامل ہوجاتا ہے ، جس کا ذکر اللہ تعالی نے اپنے مومن
  face=Tahoma>بندوں کے بارے میں کیا ہے، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>بیشک مسلمان
  face=Tahoma>مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں برداری کرنے والے مرد
  face=Tahoma>اور فرماں برداری کرنے والی عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے
  face=Tahoma>والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں،
  face=Tahoma>خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے
  face=Tahoma>رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں،
  face=Tahoma>بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالی نے
 ( face=Tahoma>وسیع) مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الاحزاب: 35)</small> face=Tahoma>،
  face=Tahoma>یہ سب بڑے مرتبے والی صفات ہیں، جس کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے۔</p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں۔
  face=Tahoma>اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے
  face=Tahoma>وہ خرچ کرتے ہیں۔ کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے
  face=Tahoma>لئے پوشیدہ کر رکھی ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>السجدۃ: 16 - 17)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام
  face=Tahoma>کی حالت میں [ face=Tahoma>عبادت میں] face=Tahoma>گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید
  face=Tahoma>رکھتا ہو، [ face=Tahoma>اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہوسکتے ہیں] face=Tahoma>بتاؤ تو علم والے اور بے علم
  face=Tahoma>کیا برابر ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ [ face=Tahoma>اپنے رب کی طرف
  face=Tahoma>سے] face=Tahoma>۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الزمر: 9)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی یہ بھی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے
  face=Tahoma>ہیں، بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں۔ }</strong><small>( face=Tahoma>المعارج:
 27-28)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی نے اپنے مقرب بندوں، یعنی انبیاء کی تعریف کی؛ کیونکہ وہ سب اپنے
  face=Tahoma>دلوں میں اللہ تعالی کا خوف رکھتے تھے:<strong>{ face=Tahoma>یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی
  face=Tahoma>کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور خوف سے پکارتے تھے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الانبیاء:
 90)</small></p>
 <p> face=Tahoma>بلکہ فرشتے بھی اپنے پروردگار کا خوف رکھتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور اپنے رب سے جو
  face=Tahoma>ان کے اوپر ہے کپکپاتے رہتے ہیں، اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ }</strong><small>( face=Tahoma>النحل:
 50)</small></p>
 <p>6- face=Tahoma>اللہ تعالی کی خوشنودی:<strong>{ face=Tahoma>اللہ تعالی ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی
  face=Tahoma>ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>البینۃ: 8)</small></p>
 <h3> face=Tahoma>معرفتِ الہی رکھنے والوں کے دلوں میں پایا جانے والا خوف:</h3>
 <p> face=Tahoma>معرفتِ الہی رکھنے والے لوگ اپنے نیک اعمال اور اللہ تعالی کی ذات سے امید باندھے
  face=Tahoma>رکھنے کے باوجود اللہ تعالی کا خوف رکھتے ہیں، اور سب سے زیادہ اس کی خشیت اپنے
  face=Tahoma>اندر رکھتے ہیں؛ اس کی چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:</p>
 <p>- face=Tahoma>حالتِ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہ و زاری، یہاں تک کہ رونے کی وجہ
  face=Tahoma>سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سینے سے ایک آواز سنی جاتی تھی، جس طرح کہ ہانڈی کے
  face=Tahoma>ابلنے سے آواز آتی ہے۔<small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد، ابوداود اور نسائی نے روایت
  face=Tahoma>کیا ہے۔)</small></p>
 <p>- face=Tahoma>حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی زبان پکڑتے تھے، اور کہتے تھے: &" face=Tahoma>اسی نے مجھے
  face=Tahoma>ہلاکت و بربادی میں ڈال رکھا ہے&" face=Tahoma>، نیز کہا کرتے تھے: &" face=Tahoma>کاش کہ میں کوئی ایسا درخت
  face=Tahoma>ہوتا، جس کو کھالیا جاتا&"</p>
 <p>- face=Tahoma>حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے تھے: &" face=Tahoma>کاش کہ میں کوئی قابلِ ذکر چیز ہی
  face=Tahoma>نہ ہوتا۔ کاش کہ میری ماں مجھے جنی ہی نہ ہوتی&" face=Tahoma>، حضرت عمر کہتے تھے: &" face=Tahoma>اگر بھولا
  face=Tahoma>بھٹکا جانور نہرِ فرات کے کنارے مرجائے، تو بھی مجھے یہ خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں
  face=Tahoma>اللہ تعالی مجھ سے اس کے بارے میں سوال نہ کرلے&" face=Tahoma>، نیز کہا کرتے تھے: &" face=Tahoma>اگر آسمان
  face=Tahoma>سے منادی یہ صدا لگائے کہ: اے لوگو تم سب جنت میں داخل ہونے والے ہو، سوائے ایک
  face=Tahoma>شخص کے، تو ضرور مجھے یہ خوف لگا رہے گا کہ کہیں وہ ایک شخص میں ہی نہ رہوں&"</p>
 <p>- face=Tahoma>عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:&" face=Tahoma>میری یہ چاہت ہے کہ اگر میں مرجاؤں،
  face=Tahoma>تو دوبارہ اٹھایا نہ جاؤں۔&" face=Tahoma>، یہی وہ حضرت عثمان ہیں جو ساری رات تسبیح و تلاوت
  face=Tahoma>اور نمازوں میں گذار دیا کرتے تھے۔</p>
 <p>- face=Tahoma>ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قرآن کریم کی یہ آیت اپنی نمازوں میں
  face=Tahoma>پڑھتی تھیں:<strong>{ face=Tahoma>پس اللہ تعالی نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز و تند
  face=Tahoma>گرم ہواؤں کے عذاب سے بچالیا۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الطور: 27)</small> face=Tahoma>، پھر زار
  face=Tahoma>و قطار رونے لگتی تھیں ۔ ۔ ۔<strong>{ face=Tahoma>اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں
  face=Tahoma>اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو تو زبردست حکمت والا ہے۔}</strong><small>( face=Tahoma>المائدۃ:
 118)</small></p>
 <h3> face=Tahoma>خوف کے احکام اور کچھ ہدایات:</h3>
 <p>1- face=Tahoma>خشیت خوف سے بڑی چیز ہے؛ کیونکہ خشیت اس شخص میں ہوتی ہے، جو اللہ کی زیادہ
  face=Tahoma>معرفت رکھتا ہے:<strong>{ face=Tahoma>اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں، واقعی
  face=Tahoma>اللہ تعالی زبردست بڑا بخشنے والا ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>فاطر: 28)</small></p>
 <p> face=Tahoma>یعنی خشیت اس خوف کا نام ہے، جو معرفتِ الہی سے مربوط ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ
  face=Tahoma>وسلم کا ارشاد ہے:<b>&" face=Tahoma>جہاں تک میری بات ہے، تو میں تم سب میں سب سے زیادہ اللہ
  face=Tahoma>تعالی سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کی ذات سے خشیت رکھنے والا ہوں&"</b><small>( face=Tahoma>اس
  face=Tahoma>حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی کی ذات، اس کے اسماء و صفات، اس کے جلال وکمال کی معرفت کے مطابق
  face=Tahoma>خوف و خشیت پیدا ہوتی ہے۔</p>
 <span><strong>{ face=Tahoma>اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں، واقعی اللہ
  face=Tahoma>تعالی زبردست بڑا بخشنے والا ہے} </strong><small>( face=Tahoma>فاطر: 28)</small></span>
 <p>2- face=Tahoma>خوف اس وقت سودمند ہوتا ہے، جبکہ عمل کا جذبہ پیدا کرے، اور گناہوں پر شرمندگی
  face=Tahoma>اور دور رکھتے ہوئے توبہ کرنے کا راغب بنائے، چنانچہ خوف گناہ کی قباحت، اللہ تعالی
  face=Tahoma>کی طرف سے سنائی ہوئی وعید کو سچ سمجھنے، اور بلند و بالا عظمت والے پروردگار کی
  face=Tahoma>معرفت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالی کی ذات سے ایسے کسی خوف کا تصور محال ہے،
  face=Tahoma>جو عمل اور توبہ کے بغیر پیدا ہو۔</p>
 <span> face=Tahoma>جو شخص اللہ تعالی کا خوف رکھتا ہے، اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی
  face=Tahoma>ہے، اور جو اللہ کے علاوہ کسی اور کا خوف اپنے اندر رکھتا ہے، اس کے لئے کوئی چیز
  face=Tahoma>سودمند ثابت نہیں ہوگی۔
 <h4> face=Tahoma>فضیل بن عیاض</h4>
 </span>
 <p>3- face=Tahoma>اللہ تعالی کی ذات سے خوف رکھنا ایک فرض ہے، اور ایمان کے تقاضوں میں اس کا
  face=Tahoma>شمار ہوتا ہے۔ خوف طریقت و معرفت سے اونچا مقام اور دل کی پاکیزگی کے لئے سب سے
  face=Tahoma>زیادہ نافع ہے۔ خوف رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ خوف انسان کو گناہوں سے، دنیا سے،
  face=Tahoma>بری صحبتوں سے، غفلت و لاپرواہی سے، اور احساسِ نعمت کے ناپید ہونے سے دور رکھتا
  face=Tahoma>ہے۔</p>


متعلقہ: