محبت

محبت
<h2> face=Arial>محبت</h2>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی سے محبت کا مفہوم:</h3>
 <p> face=Arial>اللہ تعالی سے محبت: اس کا مطلب اللہ تعالی کی ذات سے دلی لگاؤ، اس سے انسیت،
  face=Arial>اس کے احکامات کے مطابق عمل، اور دل پر اللہ تعالی کا ذکر غالب ہونا ہے۔</p>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی کی ذات سے محبت کی حقیقت: </h3>
 <span> face=Arial>جو اللہ تعالی کو پہچان لے، وہ اس سے محبت کرنے لگے۔</span>
 <p> face=Arial>اللہ تعالی کی ذات سے محبت کا مفہوم اس کی عبادت و بندگی سے محبت، اس کے سامنے
  face=Arial>عاجزی و انکساری، اور اس کی تعظیم ہے، یعنی محبت رکھنے والے کے دل میں اللہ تعالی
  face=Tahoma>کی عظمت و ہیبت ہو، جو اس کو اللہ تعالی کے احکامات پرعمل کرنے اور اس کی منع کی
  face=Tahoma>ہوئی چیزوں سے اجتناب کرنے کے متقاضی ہو۔ یہی محبت ایمان اور توحید کی اصل جڑ ہے،
  face=Arial>اور اس کے ضمن میں لامحدود فضائل و خوبیاں آتی ہیں۔ اللہ تعالی کی ذات سے محبت
  face=Tahoma>کے مفہوم میں اس مقام، وقت، اشخاص، اعمال، اقوال، اور ان جیسی ساری ان چیزوں سے
  face=Arial>محبت کرنا بھی شامل ہے، جن کو اللہ تعالی پسند کرتے ہیں۔</p>
 <p> face=Arial>نیز یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالی کی محبت صرف اسی ایک کے لئے خالص و سچی محبت
  face=Tahoma>ہو، اور فطری محبت، جیسے بیٹے کی اپنے باپ سے محبت، باپ کی اپنے بیٹے سے محبت،
  face=Arial>شاگرد کی اپنے استاذ سے محبت، اسی طرح کھانے پینے، شادی کرنے، کپڑے پہننے کی محبت،
  face=Arial>دوستوں سے محبت وغیرہ اللہ تعالی کی ذات سے محبت کے منافی نہیں ہے۔</p>
 <p> face=Arial>حرام و ناجائز محبت اللہ تعالی کی محبت کے باب میں شرک کے مماثل ہے، جیسے مشرکوں
  face=Tahoma>کی اپنے بُت و آقاؤں سے محبت، یا اپنی محبوب چیزوں کو اللہ تعالی کی پسند کردہ
  face=Tahoma>چیزوں پر فوقیت دینا، یا اس مقام، وقت، شخص، عمل اور قول کی محبت جس کو اللہ تعالی
  face=Arial>ناپسند کرتے ہوں، یہ سب امور انحطاط و تنزلی کا سبب ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Arial>بعض
  face=Arial>لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھراکر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں،
  face=Arial>جیسے محبت اللہ سے ہونی چاہئے، اور ایمان والے اللہ کی محبت میں سخت ہوتے ہیں۔
 }</strong><small>( face=Arial>البقرۃ: 165)</small></p>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی کی ذات سے محبت رکھنے کے چند فضائل:</h3>
 <span> face=Arial>اللہ تعالی کی عبادت محبت، خوف اور امید جیسی چیزوں سے بڑھ کر کسی اور چیز
  face=Arial>سے نہیں کی جاسکتی۔</span>
 <p>1- face=Arial>محبت دراصل وحدانیت کی جڑ ہے، اور وحدانیت کی روح ایک اللہ کی ذات سے خالص
  face=Arial>محبت رکھنا ہے، بلکہ حقیقت میں محبت تو عبادت کا سرچشمہ ہے، اور وحدانیت اسی وقت
  face=Arial>مکمل ہوسکتی ہے، جبکہ اللہ تعالی سے بندے کی محبت کامل و مکمل ہو، ساری محبوب چیزوں
  face=Tahoma>پر یہ محبت غالب ہو، اور محبتِ الہی ساری چیزوں کا محور ہو، اس طور پر کہ بندے
  face=Tahoma>کی ساری محبوب چیزیں اسی محبت کے تابع ہو، جو بندے کی سعادت و فلاح کی ضامن ہے۔</p>
 <span> face=Arial>اللہ تعالی سے لگاؤ اور اس سے ملنے کا شوق ایک نسیمِ سحر ہے، جس کے دل پر
  face=Tahoma>پڑنے والے جھونکوں سے دنیا کی پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں۔</span>
 <p>2- face=Tahoma>پریشانیوں میں بندے کا پُرسکون ہونا؛ چنانچہ محبت رکھنے والا بندہ اپنے آپ
  face=Arial>میں محبت کی وہ لذت محسوس کرتا ہے، جس کے سامنے ساری پریشانیاں ہیچ ہوجاتی ہیں،
  face=Arial>بلکہ وہ ان پریشانیوں کو بھول ہی جاتا ہے۔ </p>
 <span> face=Arial>روئے زمین پر اس انسان سے زیادہ بد بخت کوئی اور نہیں ہے، جو اللہ تعالی
  face=Tahoma>کی ذات سے انسیت اور اس کے ذکر سے طمانینت کی نعمت سے محروم ہو۔</span>
 <p>3- face=Arial>نعمتوں کی معراج اور خوشیوں کی انتہاء: صرف اللہ تعالی کی محبت سے ہی اس کا
  face=Arial>حصول ممکن ہے، دل کو بے نیازی، اس میں موجودہ فراغ کی تکمیل، اور اس کی بھوک سے
  face=Arial>سیرابی صرف اللہ تعالی کی محبت اور اس کی طرف رجوع کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اگر
  face=Arial>بندے کو لذتوں کے سارے اسباب فراہم ہوجائیں، تو بھی وہ ان سے اس وقت تک مطمئن و
  face=Arial>مانوس نہیں ہوتا ہے، جب تک کہ اس کو اللہ تعالی کی محبت میسر نہ ہوجائے؛ اس لئے
  face=Tahoma>کہ اللہ تعالی کی محبت دلوں کے لئے باعثِ نعمت و سعادت ہے۔ پاک دل، صاف نفس، اور
  face=Arial>روشن عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالی کی ذات سے محبت و انسیت، اور اس کی
  face=Arial>ملاقات کے شوق سے زیادہ کوئی چیز زیادہ خوشی، زیادہ اچھی، زیادہ لذیذ، اور زیادہ
  face=Arial>میٹھی نہیں ہے۔ جو مٹھاس مومن اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، وہ ہر قسم کی مٹھاس سے
  face=Arial>زیادہ بلند ہے۔ محبتِ الہی سے جو سعادت و خوشی مومن محسوس کرتا ہے، وہ ساری نعمتوں
  face=Arial>سے زیادہ کامل ومکمل ہے، اور جو لذت مومن کو میسر ہے، وہ ساری لذتوں سے زیادہ عمدہ
  face=Tahoma>ہے۔<b>&" face=Arial>تین خصلتیں جس کسی شخص میں پائی جائیں گی، وہ ضرور ایمان کی مٹھاس محسوس
  face=Tahoma>کرلے گا:اس کے دل میں اللہ تعالی اور اس کا رسول ان دونوں کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ
  face=Arial>محبوب ہوں۔ انسان اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے، اور
  face=Arial>ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اسی طرح ناپسند کرے، جس طرح کہ وہ آگ میں گرنا
  face=Tahoma>پسند نہیں کرتا ہے&"</b><small>( face=Arial>اس حدیث کو امام بخاری، امام مسلم اور امام نسائی
  face=Arial>نے روایت کیا)</small></p>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنے والے اسباب:</h3>
 <p> face=Tahoma>ہمارا پروردگار اُس سے محبت کرنے والوں اور اس سے قربت حاصل کرنے والوں کو پسند
  face=Tahoma>کرتا ہے، اور اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنے والا سب سے پہلا سبب یہ ہے کہ بندہ
  face=Arial>اپنے پروردگار سے ساری مخلوق سے زیادہ محبت کرے۔ اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنے
  face=Arial>والے اسباب کی تفصیل درجِ ذیل ہے:</p>
 <p>1- face=Arial>قرآن کریم کی غور و فکر، سمجھ بوجھ اور اس کی مراد کو سمجھتے ہوئے تلاوت کرنا۔
  face=Arial>جو شخص اللہ کی کتاب کی تلاوت کو اپنا شغلِ شاغل بنالے اور اس پر عمل کرے، تو اس
  face=Tahoma>کا دل اللہ کی محبت سے آباد ہوجاتا ہے۔</p>
 <p>2- face=Arial>فرائض کی ادائیگی کی بعد نوافل کے ذریعے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا:<b>&" face=Arial>میرا
  face=Arial>بندہ نفلی عبادتوں کے ذریعے مجھ سے قربت حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس
  face=Arial>سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، تو میں اس کا وہ
  face=Tahoma>کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، وہ آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے،
  face=Arial>وہ ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اور وہ پاؤں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا
  face=Tahoma>ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اس کو عطا کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے پناہ
  face=Arial>مانگتا ہے، تو میں اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں&"</b><small>( face=Arial>حدیثِ قدسی۔ اس
  face=Arial>حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>3- face=Arial>زبان و دل، اور عمل و کردار سے ہر حال میں اللہ تعالی کا دائمی طور پر ذکر
  face=Tahoma>کرنا۔</p>
 <span><strong>{ face=Arial>جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی۔}</strong><small>( face=Arial>المائدۃ:
 54)</small></span>
 <p>4- face=Arial>اپنی نفسانی خواہشات اور رغبتوں کے سامنے اللہ تعالی کی محبوب چیزوں کو فوقیت
  face=Arial>دینا۔</p>
 <p>5- face=Arial>اللہ تعالی کے اسماء و صفات اور اس کی معرفت کو ہمیشہ دل میں مستحضر رکھنا۔</p>
 <p>6- face=Arial>اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والی ظاہری و باطنی نعمتوں، اس کے احسانوں اور
  face=Arial>اس کے خیر کو ہمیشہ مدِ نظر رکھنا۔</p>
 <p>7- face=Arial>اللہ تعالی کے روبرو دل کی گہرائیوں کے ساتھ عاجزی اختیار کرنا۔</p>
 <p>8- face=Arial>رات کے آخری تہائی حصے میں، جبکہ اللہ تعالی آسمانِ دنیا پر اتر آتے ہیں،
  face=Arial>اللہ تعالی کے ساتھ تنہائی میں مناجات کرنا۔ تنہائی میں اللہ تعالی کے روبرو گڑگڑانا،
  face=Arial>قرآن کریم کی تلاوت کرنا، حالتِ نماز میں کھڑے ہوکر اس کا ادب و احترام کرنا، پھر
  face=Arial>توبہ و استغفار سے اپنی عبادت کو ختم کرنا۔</p>
 <p>9- face=Arial>سچے و مخلص لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا، ان کی اچھی اچھی باتوں سے عبرت حاصل
  face=Tahoma>کرنا، جس طرح سے کہ اچھے اچھے پھلوں کو توڑا جاتا ہے۔ اسی وقت بات کرنا، جب اپنی
  face=Arial>بات حالات کے لئے مزید وضاحت، اور دوسروں کے لئے باعثِ منفعت ہو۔</p>
 <p>10- face=Tahoma>ہر اس چیز سے دور رہنا جو اللہ تعالی اور دل کے درمیان حائل و مانع بنتی
  face=Tahoma>ہو۔</p>
 <h3> face=Arial>اللہ تعالی کی محبت سے بندے کو ملنے والے بعض فوائد:</h3>
 <p>- face=Arial>اللہ تعالی جس سے محبت کرتے ہیں، اس کو راہِ راست پر چلاتے ہیں، اور اس کو
  face=Arial>اپنے دربار کا قریبی بناتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Arial>اللہ
  face=Arial>تعالی فرماتے ہیں: میں بندے کے ساتھ میرے بارے میں اس کے گمان کے مطابق معاملہ
  face=Tahoma>کرتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اس کے ساتھ ہوجاتا ہوں۔ اگر وہ مجھے
  face=Arial>اپنے دل دل میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اس کو اپنے دل دل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر
  face=Arial>وہ بھری جماعت میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کا تذکرہ
  face=Tahoma>کرتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے بالشت بھر قریب ہوتا ہے، تو میں اس سے ایک ہاتھ برابر
  face=Arial>قریب ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے ہاتھ برابر قریب ہوتا ہے، تو میں اس سے میٹر برابر
  face=Arial>قریب ہوتا ہو، اور اگر وہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے، تو میں اس کی پاس دوڑتے ہوئے
  face=Tahoma>چلا آتا ہوں&"</b> <small>( face=Arial>صحیح بخاری)</small></p>
 <p> face=Arial>بندہ جتنا اپنے پروردگار کا خوف رکھتا ہے، اسی قدر وہ اخروی ہدایت کے درجات
  face=Tahoma>چڑھتا جائے گا۔ اللہ تعالی بندے سے جتنی زیادہ محبت کرتا ہے، اسی قدر وہ اس کو
  face=Arial>راہِ راست پر چلاتا ہے، اور بندہ جس قدر راہِ راست پرگامزن رہتا ہے، اسی قدر اس
  face=Tahoma>کے اندر تقوی پیدا ہوگا۔</p>
 <p>- face=Arial>اللہ تعالی جس بندے سے محبت کرتا ہے، اس کے لئے زمین پر قبولیت مقدر کردیتا
  face=Tahoma>ہے:اللہ کے محبوب بندے کے لئے قبولیت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اس کی طرف جھکے چلے
  face=Arial>آئیں گے، اس سے خوش رہیں گے، اس کی مدح سرائی کریں گے، اور ہر چیز اس سے محبت کرنے
  face=Arial>لگے گی، ہاں کافر اس سے محبت نہیں کرے گا، اس لئے کہ کافر نے تو اللہ تعالی کی
  face=Arial>محبت ہی کو دھتکارا ہے، تو پھر کیسے وہ اللہ کے محبوب بندوں سے محبت کرے گا؟ اللہ
  face=Tahoma>کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>یقیناً اللہ تعالی جب کسی بندے سے محبت
  face=Tahoma>کرتا ہے، تو جبرئیل سے یہ کہتا ہے کہ میں اپنے فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تم
  face=Tahoma>بھی اس سے محبت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل اس
  face=Tahoma>سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ آسمانوں میں صدا دیتے ہیں کہ سن لو، اللہ تعالی
  face=Tahoma>فلاں بندے سے محبت کرتے ہیں، لہذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی
  face=Tahoma>اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر اس بندے
  face=Tahoma>کے لئے زمین میں قبولیت مقدر کردی جاتی ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم نے
  face=Tahoma>روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں، تو اپنی خاص عنایت و کرم
  face=Tahoma>سے اس کو ڈھانک لیتے ہیں، ہر چیز کو اس کے لئے فرمانبردار بنادیتے ہیں، ہر مشکل
  face=Tahoma>کو آسان بنادیتے ہیں، ہر مسافت قریب کردیتے ہیں، اور دنیوی معاملات آسان کردیتے
  face=Tahoma>ہیں، چنانچہ وہ اپنے معاملات میں کوئی پریشانی یا تکلیف کا احساس نہیں کرتا ہے۔
  face=Tahoma>اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>بیشک جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے شائستہ اعمال
  face=Tahoma>کئے ہیں ان کے لئے اللہ رحمن محبت پیدا کردے گا۔ }</strong><small>( face=Tahoma>مریم: 96)</small>
 </p>
 <span> face=Tahoma>سچا ایمان روح کی غذاء اور خوشیوں کا محور ہے، اور اللہ تعالی کی ذات کا
  face=Tahoma>انکار کرنا روح کے لئے موت سے پہلے موت اور غموں کا مرکز ہے۔</span>
 <p>- face=Tahoma>جب اللہ تعالی کسی کو اپنا محبوب بناتے ہیں، تو ہمیشہ وہ اس کے ساتھ رہتے ہیں:
  face=Tahoma>جب اللہ تعالی کسی بندے کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو وہ ہمیشہ اپنی عنایت و کرم
  face=Tahoma>سے اس کو گھیرے رکھتے ہیں، اور اس بندے پر کسی ایسے شخص کو مسلط ہونے نہیں دیتے
  face=Tahoma>ہیں، جو اس کو تکلیف یا اذیت پہنچائے۔ حدیثِ قدسی میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی
  face=Tahoma>اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>بیشک اللہ تعالی نے کہا: جو میرے محبوب سے دشمنی
  face=Tahoma>کرے، میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ فرائض سے ہٹ کر میری محبوب چیزوں میں
  face=Tahoma>سے کسی ایک کے ذریعہ جب بندہ میرا قرب حاصل کرتا ہے، تو اس سے زیادہ میرے لئے کوئی
  face=Tahoma>چیز محبوب نہیں ہے۔ میرا بندے نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرنے کی سعی میں لگا
  face=Tahoma>رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ اور جب میں اس سے محبت کرنے
  face=Tahoma>لگتا ہوں، تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، وہ آنکھ بن جاتا
  face=Tahoma>ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، وہ ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اور وہ پاؤں
  face=Tahoma>بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے، تو میں اس کو عطا کرتا
  face=Tahoma>ہوں، اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے، تو میں اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں۔
  face=Tahoma>اور میں اپنے فیصلوں میں سے کسی بھی چیز کے کرنے میں اس قدر پس و پیش کا شکار نہیں
  face=Tahoma>ہوتا ہوں، جس قدر کہ مومن بندے کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہوں، کیونکہ وہ موت کو
  face=Tahoma>ناپسند کرتا ہے، اور مجھے اس کو تکلیف پہنچانا ناپسند ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو
  face=Tahoma>امام بخاری نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>- face=Tahoma>اللہ تعالی جس کو اپنا محبوب بنالیتا ہے، اس کی دعائیں قبول کرتا ہے:مومن بندوں
  face=Tahoma>سے اللہ تعالی کی محبت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالی ان کی دعائیں قبول کرتا
  face=Tahoma>ہے، اور محض ہاتھ اٹھاکر اس سے مانگنے اور &" face=Tahoma>یا رب&" face=Tahoma>کہنے پر ہی ان پر اپنی نعمتوں
  face=Tahoma>کی بارش برسا دیتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>جب میرے بندے میرے بارے
  face=Tahoma>میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں۔ ہر پکارنے والے کی
  face=Tahoma>پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں، اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ میری
  face=Tahoma>بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ:
 186)</small></p>
 <p> face=Tahoma>حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ
  face=Tahoma>علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>یقینا اللہ تعالی زندہ اور سخی ہے، اس کو اس بات سے حیاء
  face=Tahoma>محسوس ہوتی ہے کہ کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ اٹھائے اور وہ اس کو خالی ہاتھ لوٹادے۔&"</b>
 <small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>جب اللہ تعالی کسی بندے کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو فرشتوں کو ان کے لئے
  face=Tahoma>مغفرت کا طلب گار بنادیتا ہے: فرشتے اس شخص کے لئے مغفرت کے طالب رہتے ہیں جس سے
  face=Tahoma>اللہ تعالی محبت کرتے ہیں، اور اس کے لئے اللہ تعالی سے نزولِ رحمت کی دعائیں مانگتے
  face=Tahoma>ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس کے (فرشتے)
  face=Tahoma>اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان
  face=Tahoma>والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہر چیز کو
  face=Tahoma>اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری
  face=Tahoma>راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچالے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>غافر:
 7)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>قریب ہے آسمان ان کے اوپر سے پھٹ پڑیں۔
  face=Tahoma>اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں، زمین والوں کے
  face=Tahoma>لیے استغفار کر رہے ہیں۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالی ہی معاف فرمانے والا رحمت
  face=Tahoma>والا ہے۔} </strong><small>( face=Tahoma>الشوریٰ: 5)</small></p>
 <p> face=Tahoma>جب اللہ تعالی کسی کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو خاتمہ بالخیر کی نعمت سے اس
  face=Tahoma>کو نوازتے ہیں: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:<b>&" face=Tahoma>جب اللہ تعالی
  face=Tahoma>کسی بندے سے بھلائی کا اردہ رکھتے ہیں، تو اس کی زندگی میں مٹھاس پیدا کردیتا ہے۔
  face=Tahoma>پوچھاگیا کہ مٹھاس پیدا کرنے کا کیا مطلب؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا
  face=Tahoma>کہ: اللہ تعالی اس کے لئے موت سے پہلے نیک اعمال کے دروازے کھول دیتا ہے، اور اسی
  face=Tahoma>پر اس کو موت ہوتی ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>- face=Tahoma>جب اللہ تعالی کسی کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو موت کے وقت اس کو مامون رکھتے
  face=Tahoma>ہیں: جب اللہ تعالی کسی کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو دنیا میں اس کو امن و امان،
  face=Tahoma>اور موت کے وقت اس کو ثابت قدمی و راحت کی دولت سے نوازتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی
  face=Tahoma>فرشتوں کو اس کے پاس بھیجتے ہیں، جو بسہولت و آسانی اس کی روح قبض کرتے ہیں، موت
  face=Tahoma>کے وقت اس کو استقرار عطاء کرتے ہیں، اور جنت کا مژدہ اسے سناتے ہیں۔ اللہ تعالی
  face=Tahoma>فرماتے ہیں:<strong>{( face=Tahoma>واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروروگار اللہ ہے پھر اسی
  face=Tahoma>پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے(یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم
  face=Tahoma>نہ کرو۔ اس جنت کی بشارت سن لو جس کاتم وعدہ دئے گتے ہو۔ }</strong><small>( face=Tahoma>فصلت:
 30)</small></p>
 <p>- face=Tahoma>جب اللہ تعالی کسی بندے کو اپنا محبوب بنالیتے ہیں، تو ہمیشہ کے لئے اس کا
  face=Tahoma>ٹھکانہ جنت بنادیتے ہیں: جو اللہ کا محبوب بن جائے، آخرت میں اس کا ٹھکانہ جنت
  face=Tahoma>ہوگا۔ آخرت میں اللہ تعالی کا جو لطف و کرم اپنے محبوب بندوں پر ہوگا، اس کا خیال
  face=Tahoma>نہ کسی بشر کے دل میں کبھی پیدا ہوا ہے، اور نہ کبھی ہوگا؛ کیونکہ اللہ تعالی نے
  face=Tahoma>اپنے محبوب بندوں کے لئے ایسی جنت کا وعدہ کیا ہے، جس میں انسانی چاہت کے مطابق
  face=Tahoma>ہر چیز ہوگی، جیساکہ حدیثِ قدسی میں آیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
  face=Tahoma>کہ:<b>&" face=Tahoma>اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں رکھی
  face=Tahoma>ہیں، جن کو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے، اور نہ کبھی کسی
  face=Tahoma>انسان کے دل میں اس کا خیال پیدا ہوا ہے۔ اگر تم چاہو تو قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت
  face=Tahoma>کرلو: <strong>{ face=Tahoma>کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے
  face=Tahoma>لئے پوشیدہ رکھی ہے۔ }</strong>&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا
  face=Tahoma>ہے)</small></p>
 <span> face=Tahoma>دنیا کی خوبصورتی صرف اللہ تعالی کی محبت و اطاعت میں پنہاں ہے، اور جنت
  face=Tahoma>کا جمال اللہ تعالی کے دیدار میں مضمر ہے۔</span>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی کا محبوب بندہ بننے کا ایک ثمرہ یہ ملتا ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے
  face=Tahoma>دیدار سے بہرہ ور ہوتا ہے:اللہ تعالی اپنے محبوب بندوں کے لئے اپنے نور کے ساتھ
  face=Tahoma>تجلی فرمائیں گے، چنانچہ یہ لوگ اس سے زیادہ محبوب چیز کبھی نہیں دیکھیں گے، اس
  face=Tahoma>لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی گئی کہ آپ نے ایک چاندنی رات میں
  face=Tahoma>چاند کی طرف دیکھا، پھر فرمایا:<b>&" face=Tahoma>یقیناً تم اپنے پروردگار کو اسی طرح دیکھوگے،
  face=Tahoma>جس طرح سے کہ آج تم یہ چاند دیکھ رہے ہو۔ اگر تم طلوعِ شمس اور غروبِ شمس سے پہلے
  face=Tahoma>والی نمازوں کو فوت ہونے نہ دے سکو، تو ضرور ایسے ہی کرو، یعنی فوت ہونے نہ دو،
  face=Tahoma>پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی: <strong>{ face=Tahoma>اور اپنے
  face=Tahoma>رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے
  face=Tahoma>سے پہلے بھی۔ }</strong>&"</b><small>( face=Tahoma>صحیح بخاری)</small></p>
 <h3> face=Tahoma>محبت کے باب میں کچھ ہدایات و احکام:</h3>
 <p>1- face=Tahoma>بندے کا اللہ تعالی کے محبوب بن جانے سے بلائیں و آزمائش اس سے دور نہیں ہوتی
  face=Tahoma>ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>بیشک آزمائش جتنی زیادہ بڑی ہوگی، اسی
  face=Tahoma>قدر بدلہ بھی بڑا ملے گا۔ یقیناً جب اللہ تعالی کسی قوم کو اپنا محبوب بناتا ہے،
  face=Tahoma>تو اس کو آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے، اب جو ان آزمائشوں سے راضی و خوش رہے، تو
  face=Tahoma>اس کو اللہ کی رضامندی حاصل ہوگی، اور جو ناراض رہے، اس کے مقدر میں اللہ کی ناراضگی
  face=Tahoma>ہوگی&"</b><small>( face=Tahoma>س حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی بندے کو طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے، یہاں تک کہ گناہوں
  face=Tahoma>سے اس کو پاک کردیتا ہے، اور اس دنیا کی محبت سے اس کے دل کو خالی کردیتا ہے، اللہ
  face=Tahoma>تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>یقیناً ہم تمہارا امتحان کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد
  face=Tahoma>کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ظاہر کردیں اور ہم تمہاری حالتوں کی بھی جانچ
  face=Tahoma>کرلیں۔ }</strong><small>( face=Tahoma>محمد: 31)</small> </p>
 <p> face=Tahoma>نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور
  face=Tahoma>کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ان
  face=Tahoma>صبر کرنے والوں کو خو شخبری دے دیجئے، جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ
  face=Tahoma>دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالی کی ملیکت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے
  face=Tahoma>ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔}</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ:
 155-157)</small></p>
 <span> face=Tahoma>آزادی کا مطلب دل کا شرک، شبہات اور شہوتوں سے آزاد ہونا، اور بندگی کا مطلب
  face=Tahoma>دل کی غلامی ہے، یعنی دل اللہ تعالی کے علاوہ کسی کی غلامی نہ کرے</span>
 <p>2- face=Tahoma>بندے کا اپنے پروردگار کی نافرمانی کرنا محبت کی کمی اور زوال کا سبب ہے۔
  face=Tahoma>محبت کے لئے بھی بالکل ایمان کی طرح کچھ اصول اور کچھ کمالات ہیں۔ چنانچہ گناہوں
  face=Tahoma>کے بقدر ان کمالات میں کمی آجاتی ہے، اور جب انسان شک اور نفاقِ اکبر کے مرحلے
  face=Tahoma>میں داخل ہوجائے، تو محبت کی جڑ ہی اکھڑ آتی ہے، اور محبت ناپید ہوجاتی ہے۔ جس
  face=Tahoma>شخص کے دل میں اللہ تعالی کی محبت نہ ہو، وہ کافر، مرتد اور منافق ہے، دین میں
  face=Tahoma>اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ جہاں تک گنہگار لوگوں کی بات ہے، تو ان کے بارے میں یہ
  face=Tahoma>کہنا ناممکن ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالی کی محبت نہیں ہے، البتہ یہ کہا جاسکتا
  face=Tahoma>ہے کہ اللہ تعالی سے ان کی محبت ناقص ہے، اور اسی نقص و کمی کے بنیاد پر ان کے
  face=Tahoma>ساتھ معاملہ کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>اگر تم لوگ گناہ
  face=Tahoma>نہ کرتے، تو اللہ تعالی کسی دوسری قوم کو پیدا کرتے، جو گناہ کرتی، اور اللہ تعالی
  face=Tahoma>ان کی مغفرت کرتے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>3- face=Tahoma>اللہ تعالی کی محبت اس فطری محبت کے منافی نہیں ہے، جس کی طرف انسانی نفس
  face=Tahoma>مائل ہوتا ہے، جیسے کھانے، پینے اور عورتوں وغیرہ کی محبت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
  face=Tahoma>نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>میرے لئے دنیا کی چیزوں میں عورت اور حلال و پاک مال کو محبوب بنایا
  face=Tahoma>گیا&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>تو معلوم یہ ہوا کہ دنیا میں کچھ ایسی چیزیں ہیں، جن سے محبت کرنا شرک نہیں
  face=Tahoma>ہے، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے محبت کی ہے، اور اسی لئے انسان کے
  face=Tahoma>لئے یہ جائز ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں سے محبت کرے، بشرطیکہ وہ حرام نہ ہوں۔</p>
 <span> face=Tahoma>آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>بیشک اللہ تعالی کا سب سے زیادہ پسندیدہ
  face=Tahoma>عمل یہ ہے کہ اللہ تعالی کے لئے کسی سے محبت کی جائے ،اور اسی کے لئے کسی سے نفرت
  face=Tahoma>کی جائے&" face=Tahoma>۔</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔) </small></span>
 <p>4- face=Tahoma>جو شخص کسی انسان سے اس قدر محبت کرے، جیساکہ اللہ تعالی سے محبت کی جاتی
  face=Tahoma>ہے، تو وہ مشرک ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ
  face=Tahoma>کے شریک اوروں کو ٹھراکر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہئے۔
  face=Tahoma>اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں، کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ
  face=Tahoma>اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالی
  face=Tahoma>سخت عذاب دینے والا ہے(تو ہرگز شرک نہ کرتے) }</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ: 165)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اس آیت کریمہ میں اس شخص کے حق میں سخت وعید آئی ہے، جو عبادت و عظمت کے باب
  face=Tahoma>میں کسی انسان کو اللہ تعالی کے مساوی مانے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>آپ
  face=Tahoma>کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں
  face=Tahoma>اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم
  face=Tahoma>ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے
  face=Tahoma>رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ
  face=Tahoma>تعالی اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ }</strong><small>( face=Tahoma>التوبۃ:
 24)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اس آیت میں اس شخص کے حق میں سخت وعید آئی ہے، جس کی نظر میں یہ آٹھ امور اللہ
  face=Tahoma>تعالی کی محبت سے زیادہ عزیز ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں
  face=Tahoma>کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:<b>&" face=Tahoma>کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں
  face=Tahoma>ہوسکتا، جب تک کہ وہ مجھے اپنی اولاد، والدین اور سارے لوگوں سے زیادہ اپنا محبوب
  face=Tahoma>نہ بنالے&"</b> <small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>5- face=Tahoma>مومنوں کے بجائے مشرکوں سے محبت اور ان سے دوستی کرنا اللہ تعالی کی ذات سے
  face=Tahoma>محبت کے منافی ہے، کیونکہ مشرک شرک میں مبتلا ہے، اور اس کا مذہب اسلام نہیں ہے۔
  face=Tahoma>چنانچہ اللہ کے لئے محبت کرنا اور اسی کے لئے نفرت رکھنا ایمان کے اصولوں میں سب
  face=Tahoma>سے زیادہ اہم اصول ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>مومنوں کو چاہئے کہ ایمان
  face=Tahoma>والوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں، اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالی
  face=Tahoma>کی کسی بھی حمایت میں نہیں، مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو، اور
  face=Tahoma>اللہ تعالی ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>آلِ عمران: 28)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی نے مومنوں کو کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کیا، اوربڑی تاکید
  face=Tahoma>کے ساتھ یہ بیان کیا کہ جو ان سے دوستی کرتا ہے، تو وہ کسی بھی طرح سے اللہ تعالی
  face=Tahoma>کی ولایت و ذمہ داری سے خارج ہے؛ کیونکہ محبوب سے دوستی کرنا اور اس کے دشمن سے
  face=Tahoma>بھی دوستی کرنا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے منافی ہیں:<strong>{ face=Tahoma>مگر یہ کہ ان کے
  face=Tahoma>شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو۔ }</strong><small>( face=Tahoma>آلِ عمران: 28)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی نے کافروں سے دوستی کرنے کی اس وقت چھوٹ دی ہے، جبکہ مومن کو اس
  face=Tahoma>بات کا خوف ہو کہ کافر دوستی کے بنا ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کریں گے، تو اس
  face=Tahoma>جیسی حالت میں ظاہری طور پر ان کے ساتھ میل ملاپ رکھنا جائز ہوگا، لیکن شرط یہ
  face=Tahoma>ہوگی کہ دل ایمان سے مطمئن ہو، اور دل میں کفر سے کراہت پائی جاتی ہو، جیساکہ اللہ
  face=Tahoma>تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر
  face=Tahoma>برقرار ہو۔ }</strong><small>( face=Tahoma>النحل: 106)</small></p>
 <h3> face=Tahoma>محبت کی روشنی اور چمک:</h3>
 <span> face=Tahoma>اللہ تعالی کی ذات سے محبت کی علامت یہ ہے کہ زبان ہمیشہ اس کے ذکر سے تَر
  face=Tahoma>رہے، اور دل میں ہمیشہ اس سے ملنے کی رغبت ہو، کیونکہ اصول ہے کہ جو جس چیز سے
  face=Tahoma>محبت کرتا ہے، اس کو وہ بکثرت یاد کرتا ہے، اور اس سے ملاقات کا شوقین رہتا ہے۔
 <h4> face=Tahoma>ربیع بن انس</h4></span>
 <p> face=Tahoma>جب ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیوی زندگی اور اللہ تعالی سے ملاقات
  face=Tahoma>کے درمیان اختیار دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>بلکہ مجھے تو
  face=Tahoma>رفیقِ اعلی سے ملنا ہے&"</b> <small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی محبت، اور اس سے ملاقات
  face=Tahoma>کی چاہت کو پسند فرمایا، بلکہ دنیا کی لذتوں، خواہشوں اور ساز و سامان پر محبتِ
  face=Tahoma>الہی کو ترحیح و فوقیت دی۔</p>


متعلقہ: