اعمال و اخلاقیات پر پڑنے والے بندگی کے اثرات : لوگوں پر پڑنے والے عام اثرات

اعمال و اخلاقیات پر پڑنے والے بندگی کے اثرات : لوگوں پر پڑنے والے عام اثرات
<h2> face=Tahoma>اعمال و اخلاقیات پر پڑنے والے بندگی کے اثرات : لوگوں پر پڑنے والے عام اثرات</h2>
 <p> face=Tahoma>جس طرح سے کہ وحدانیت اور ایمان کے اثرات مومن کی شخصی زندگی پر پڑتے ہیں، بالکل
  face=Tahoma>اسی طرح سے مومن کے لوگوں کے ساتھ معاملات اور اس کے اخلاق میں اس کے اثرات ظاہر
  face=Tahoma>ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>مجھے اچھے اخلاق کی تکیمل کے لئے
  face=Tahoma>بھیجا گیا ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان اور اخلاق کو ایک دوسرے سے مربوط رکھا،
  face=Tahoma>چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:<b>&" face=Tahoma>اس شخص کا ایمان سب سے زیادہ
  face=Tahoma>مکمل ہے، جس کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نرم رویہ رکھنے والا
  face=Tahoma>ہو&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>توحید پرست مسلمان جو ہمیشہ اللہ تعالی کے حاضر و ناظر ہونے، اور اللہ تعالی
  face=Tahoma>کا بندوں کو اپنے احاطہ رحمت میں رکھنے کا یقین رکھتا ہے، وہ اپنی زندگی کے مختلف
  face=Tahoma>پہلوؤں میں لوگوں کے ساتھ زیادہ رحم و کرم اور نرمی کرنے والا ہوتا ہے:</p>
 <h3> face=Tahoma>گھر اور خاندان والوں کے ساتھ:</h3>
 <p>1- face=Tahoma>والدین کے ساتھ حسنِ سلوک: توحید پرست مسلمان سب سے زیادہ اپنے والدین کے
  face=Tahoma>حقوق کی ادائیگی کی فکر رکھتا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں وحدانیت اور والدین
  face=Tahoma>کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایک دوسرے سے مربوط بیان کیا ہے، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:<strong>{ face=Tahoma>اور
  face=Tahoma>تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سواء کسی اور کی عبادت نہ کرنا
  face=Tahoma>اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں
  face=Tahoma>بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ
  face=Tahoma>ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا۔ اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے
  face=Tahoma>تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعاء کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان پر ویسا
  face=Tahoma>ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔ جو کچھ تمہارے دلوں میں
  face=Tahoma>ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وہ تو رجوع کرنے والوں کو بخشنے
  face=Tahoma>والا ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>بنی اسرائیل: 23 - 25)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اور اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ
  face=Tahoma>اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے، ہاں اگر وہ یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک
  face=Tahoma>کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانئے۔ تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف
  face=Tahoma>ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا۔ }</strong><small>( face=Tahoma>العنکبوت:
 8)</small></p>
 <p>2- face=Tahoma>اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک:حالانکہ اولاد دنیا کی زیب و زینت کا ساماں ہے، اور
  face=Tahoma>اللہ تعالی نے اولاد کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ:<strong>{ face=Tahoma>مال و اولاد تو دنیا
  face=Tahoma>کی ہی زینت ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الکھف: 46)</small></p>
 <p> face=Tahoma>پھر بھی مومن کے دل میں پائے جانے والی توحید اس کو اپنے اولاد کی تربیت کا
  face=Tahoma>پابند بناتی ہے۔ اور اللہ تعالی نے بھی مومنوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے آپ
  face=Tahoma>کو اور اپنے اہلِ خانہ کو جہنم کی آگ سے بچائیں؛ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اے
  face=Tahoma>ایمان والے تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان
  face=Tahoma>ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالی دیتا
  face=Tahoma>ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجالاتے ہیں۔}</strong>
 <small>( face=Tahoma>التحریم: 6)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اولاد کی تربیت کو ہر ذمہ دار شخص کے حق میں واجب قرار دیا گیا ہے؛ جیساکہ آپ
  face=Tahoma>صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:<b>&" face=Tahoma>تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور تم میں ہر
  face=Tahoma>ایک سے اپنے ماتحت رہنے والے لوگوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، مرد اپنے اہلِ
  face=Tahoma>خانہ کا نگہبان ہے، اور اس سے اپنے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ عورت
  face=Tahoma>اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے، اور اس سے اپنے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے
  face=Tahoma>گا ۔ خادم اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے، اور اس سے اپنے ماتحت آنے والی چیزوں
  face=Tahoma>کے بارے میں سوال کیا جائے گا &"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا
  face=Tahoma>ہے)</small></p>
 <p>3- face=Tahoma>بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک:توحید پرست مسلمان اپنی بیوی کے حقوق ادا کرتا ہے،
  face=Tahoma>اپنی بیوی کے تئیں وہ اللہ تعالی کا خوف رکھتا ہے، اس کی حقوق کی ادائیگی اور اس
  face=Tahoma>کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے میں اللہ تعالی کو وہ ہمیشہ حاضر و ناظر سمجھتا ہے۔ اللہ
  face=Tahoma>تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور عورتوں پر ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں
  face=Tahoma>اچھائی کے ساتھ ۔}</strong><small>( face=Tahoma>البقرۃ: 228)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>تم میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جو
  face=Tahoma>اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا
  face=Tahoma>سلوک کرنے میں تم سب سے زیادہ اچھا ہوں ۔ ۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ترمذی
  face=Tahoma>نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اور جب کچھ عورتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے شوہروں کی شکایتیں
  face=Tahoma>لے کر پہنچیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>تم میں سب سے بہترین شخص
  face=Tahoma>وہ ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہو&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ابنِ
  face=Tahoma>ماجہ نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>4- face=Tahoma>شوہر کے ساتھ حسنِ سلوک:مومن عورت کے دل میں توحید اللہ تعالی کا خوف پیدا
  face=Tahoma>کرتی ہے، جو اپنے شوہر کے حقوق کی ادائیگی میں اس کی معاون ہوتی ہے، تاکہ وہ اپنے
  face=Tahoma>پروردگار کی جنت کی حقدار بن جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>جب
  face=Tahoma>عورت پانچ فرض نمازیں ادا کرلے، رمضان کے روزے رکھ لے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرلے،
  face=Tahoma>اور اپنے شوہر کی اطاعت کرلے، تو اس سے کہا جائے گا کہ تم جس دروازے سے چاہو، جنت
  face=Tahoma>میں داخل ہوجاؤ&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی نے عورت کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے شوہر سے ایسی چیزوں کا مطالبہ
  face=Tahoma>نہ کرے، جو اس کی حیثیت سے باہر ہو۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>کشادگی والے
  face=Tahoma>کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہئے
  face=Tahoma>کہ جو کچھ اللہ تعالی نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے [ face=Tahoma>اپنی حسب حیثیت] face=Tahoma>دے، کسی شخص
  face=Tahoma>کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے۔ اللہ تنگی کے بعد
  face=Tahoma>آسانی و فراغت بھی کردے گا۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الطلاق: 7)</small> </p>
 <p> face=Tahoma>اور بنا کسی تکلیف و مشقت کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے؛ آپ صلی اللہ علیہ
  face=Tahoma>وسلم کا ارشاد ہے کہ:<b>&" face=Tahoma>جس کسی عورت نے بنا کسی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ
  face=Tahoma>کیا، تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام احمد نے روایت
  face=Tahoma>کیا ہے)</small></p>
 <h3> face=Tahoma>رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک:</h3>
 <p> face=Tahoma>صلہ رحمی اور پڑوسیوں کے حقوق:اللہ تعالی نے توحید پرست مسلمانوں کے لئے وحدانیت
  face=Tahoma>اور اپنے رشتے داروں، قریبی لوگوں اور پڑوسیوں کے ساتھ ہونے والے معاملات کو ایک
  face=Tahoma>ساتھ ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور اللہ تعالی کی عبادت کرو
  face=Tahoma>اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک و احسان کرو
  face=Tahoma>اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور پہلو
  face=Tahoma>کے ساتھی سے اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں یقینا اللہ
  face=Tahoma>تعالی تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔ }</strong><small>( face=Tahoma>النساء:
 36)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز اللہ تعالی نے فرمایا:<strong>{ face=Tahoma>پس قرابت دار کو، مسکین کو، مسافر کو ہر
  face=Tahoma>ایک کو اس کا حق دیجئے، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالی کا منہ دیکھنا چاہتے
  face=Tahoma>ہوں، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔ }</strong><small>( face=Tahoma>الروم: 38)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>جو شخص اللہ تعالی پر
  face=Tahoma>اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسنِ
  face=Tahoma>سلوک کرے۔ ۔ ۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <h3> face=Tahoma>ملازمت و پیشہ اور سارے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک:</h3>
 <span> face=Tahoma>نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے یہ گمان رکھنا محال و ناممکن ہے کہ آپ
  face=Tahoma>نے اپنی امت کو استنجاء کا طریقہ سکھایا ہو، اور توحید کی حقیقت نہ بتلائی ہو۔
  face=Tahoma>توحید جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>مجھے لوگوں کے ساتھ اس وقت
  face=Tahoma>تک جہاد کرنے کا حکم دیا گیا، جب تک کہ وہ &" face=Tahoma>لا الہ اللہ&" face=Tahoma>کا اقرار نہ کرلیں ۔ ۔
  face=Tahoma>۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)</small> face=Tahoma>اور جس چیز سے مال
  face=Tahoma>و جان کی حفاظت ہو، وہ حقیقی توحید ہے۔
 <h4> face=Tahoma>امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ۔</h4>
 </span>
 <p> face=Tahoma>اللہ تعالی کی وحدانیت پر قائم شخص کے دل میں ایمان اچھے اخلاق اپنانے، لوگوں
  face=Tahoma>کی خیرخواہی کرنے اور معاملات میں سچائی پر چلنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اور اللہ
  face=Tahoma>تعالی کی قربت حاصل کرنے والے اعمال میں یہ چیزیں سب سے زیادہ افضل ہیں:</p>
 <p>1- face=Tahoma>حسنِ اخلاق:اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے
  face=Tahoma>فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اور بیشک تو بہت بڑے [ face=Tahoma>عمدہ] face=Tahoma>اخلاق پر ہے۔ }</strong><small>( face=Tahoma>القلم:
 4)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>جنت میں داخل کرنے والے اسباب میں
  face=Tahoma>سب سے اہم سبب اللہ کا خوف اور حسنِ اخلاق ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام ترمذی
  face=Tahoma>نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ کے دربار
  face=Tahoma>میں محبوب لوگ وہ ہیں، جو دیگر لوگوں کے لئے زیادہ نفع کا باعث ہوں، اور اعمال
  face=Tahoma>میں سب سے محبوب وہ خوشی ہے، جو آپ کسی مسلمان کو فراہم کرتے ہو، یا اس سے کوئی
  face=Tahoma>غم دور کرتے ہو، یا اس کا قرض ادا کردیتے ہو، یا آپ اس کی بھوک مٹاتے ہو، اور میرے
  face=Tahoma>نزدیک اس مسجد -مسجدِ نبوی- میں ایک ماہ اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب عمل
  face=Tahoma>یہ ہے کہ میں اپنے کسی بھائی کی ضرورت پورا کرنے کے لئے اس کا ساتھ دوں ۔ ۔ ۔&"</b><small>( face=Tahoma>اس
  face=Tahoma>حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>2- face=Tahoma>سچائی و صدقِ معاملہ؛ اللہ تعالی فرماتے ہیں:<strong>{ face=Tahoma>اے ایمان والو اللہ
  face=Tahoma>تعالی سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ } </strong><small>( face=Tahoma>التوبۃ: 119)</small></p>
 <p> face=Tahoma>اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>یقیناً سچائی نیکیوں کی طرف لے
  face=Tahoma>جاتی ہے، اور نیکیاں جنت کی طرف لے جاتی ہیں۔ انسان سچ بولتا ہے، یہاں تک کہ وہ
  face=Tahoma>سچّے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور یقیناً جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ
  face=Tahoma>جہنم کی طرف لے جاتے ہیں۔ اور انسان جھوٹ بولتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی کے
  face=Tahoma>دربار میں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے&"</b> <small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بخاری نے روایت
  face=Tahoma>کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بھی
  face=Tahoma>وہ منہ کھولتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے، اور جب بھی کوئی وعدہ کرتا ہے، تو اس کی خلاف
  face=Tahoma>ورزی کرتا ہے، اور جب بھی کوئی امانت اس کے پاس رکھی جاتی ہے، تو وہ اس میں خیانت
  face=Tahoma>کرتا ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p>3- face=Tahoma>خیرخواہی اور دھوکہ دہی سے اجتناب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:<b>&" face=Tahoma>جس
  face=Tahoma>کسی بندے کو اللہ تعالی نے اپنی قوم کا نگہبان بنایا ہو، اور جب بھی اس کو موت
  face=Tahoma>آنی ہو، اس وقت وہ اس حال میں مرجائے کہ وہ اپنی قوم کے حق میں دھوکہ باز رہا ہو،
  face=Tahoma>تو اللہ تعالی اس پر جنت کو حرام کردیتے ہیں&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم
  face=Tahoma>نے روایت کیا ہے)</small></p>
 <p> face=Tahoma>آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر غلّہ کے ڈھیر کے پاس سے ہوا، تو آپ نے اس ڈھیر
  face=Tahoma>میں اپنا ہاتھ ڈالا، اور آپ کی انگلیاں تَر ہوگئیں، تو آپ نے فرمایا:<b>&" face=Tahoma>اے غلّے
  face=Tahoma>کے مالک یہ کیا ہے؟ مالک نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بارش کا پانی
  face=Tahoma>ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم نے اس تَر حصے کو غلّے کے اوپر
  face=Tahoma>کیوں نہیں رکھا، تاکہ گاہک اس کو دیکھ لیں۔ - یاد رکھو- جو دھوکہ دیتا ہو، وہ ہم
  face=Tahoma>امتِ محمدیہ میں شمار نہیں ہوتا ہے&"</b><small>( face=Tahoma>اس حدیث کو امام مسلم نے روایت
  face=Tahoma>کیا ہے)</small></p>


متعلقہ: