اللہ تعالی کی ذات اور اس کے اسماء و صفات کی معیت میں گذرنے والی زندگی

اللہ تعالی کی ذات اور اس کے اسماء و صفات کی معیت میں گذرنے والی زندگی

وہ اللہ جو رحمٰن و رحیم ہے

یقینا اللہ تعالی کی ذات رحمٰن و رحیم ہے ۔ ۔ ۔

“الرحمن، الرحيم، البر، الكريم، الجواد، الرؤوف، الوهاب”: یہ سب نام قریب المعانی ہیں، اور یہ نام اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کی ذات رحم و کرم، اور جود و سخاء سے متصف ہے، نیز اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس کی رحمت اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ساری کائنات کو گھیرے ہوئے ہے، اور اس رحمت کا زیادہ حصہ مومنوں کے لئے خاص ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اور میری رحمت تمام اشیاء پر محیط ہے۔ تو وہ رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔}[الاعراف: 156] سارے انعامات اور ہر طرح کے احسانات اللہ تعالی کی رحمت، اور اس کے جود و کرم ہی کا مظہر ہیں، نیز دنیا اور آخرت کی ساری بھلائیاں اسی کی رحمت کے شاہد ہیں۔

اللہ تعالی نے اپنی ذات پر رحمت فرض کر رکھی ہے، اور اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے، نیز اس کی رحمت ہر چیز کو اپنے احاطے میں رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ {بے شک اللہ تعالی کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔ } (الاعراف: 56)

&"یقیناً اللہ تعالی رحمٰن و رحیم ہے&"۔ اللہ تعالی کی ذات ہماری ماؤں سے زیادہ ہم پر مہربان ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچے کو دودھ پلانے والی ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہا:&"کیا تم اس ماں کو دیکھ رہے ہو، جو اپنے بچے کو آگ میں جھونک رہی ہے، ہم نے کہا: نہیں، وہ اپنے بچے کو آگ میں نہ جھونکنے کی طاقت رکھتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اپنے بندوں پر اس ماں کی اپنے بچے کے لئے پائی جانے والی ممتا سے زیادہ مہربان ہے&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

یقیناً اللہ تعالی رحمٰن و رحیم ہے۔اللہ تعالی ساری کائنات پر رحم کرتا ہے، اور اس کے پاس وہ رحمت بھی جو اس کے مومن بندوں کے لئے مخصوص ہے۔{اور اللہ تعالی مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔ }(الاحزاب: 43)

یقیناً وہ رحیم ہے ۔ ۔اس کی رحمت ہی کا تقاضہ ہوا کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہانوں کے لئے رحمت کی شکل میں انسانیت کے لئے رہبر، اور ان کی دینی و دنیوی مصلحتوں کا محافظ بناکر بھیجا۔

&"یقیناً اللہ کی ذات رحیم ہے&"۔ اس کی رحمت کو اس کے علاوہ کوئی اتارنے والا نہیں ہے، اور نہ اس کے علاوہ کوئی اس کی رحمت پر گرفت رکھنے والا ہے۔ {اللہ تعالی جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے والا نہیں اور وہی غالب حکمت والا ہے۔ }(فاطر: 2)

یقیناً اللہ تعالی رحمٰن و رحیم ہے ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی وھّاب و جوّاد ہے

یقیناً اللہ تعالی وھّاب و جوّاد ہے ۔ ۔ ۔

اے نعمتوں کو عطا کرنے والے ۔ ۔ ۔ اے امیدوں کو باندھے رکھنے والے ۔ ۔ ۔ اے احسان کرنے والے۔

مجھے رضامندی کی دولت عطا فرما۔ ۔ ۔ مجھے امن و امان عطا فرما ۔ ۔ مجھے سعادت و محبت عطا فرما۔

ہم پر احسان و کرم فرما؛ تو ہی جود و کرم اور فضل و عطا کا مستحق ہے۔ {اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے۔ }(آل عمران: 8)، &"یقیناً اللہ تعالی کریم ہے، کرم و اچھے اخلاق کو پسند کرتا ہے، اور بد اخلاقی سے نفرت رکھتا ہے&"(اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے)

&"الوھّاب&" ۔ ۔ جس کو چاہے عطا کرتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔

&"الجوّاد&" ۔ ۔اس کی عطا کی کوئی انتہاء نہیں ہے، اور اس کے احسان کو کوئی روکنے والا نہیں ہے، وہ کسی چیز کو کہتا ہے:{ہوجا، بس وہ وہیں ہوجاتی ہے۔ }(البقرۃ: 117)

&"الوھّاب&" ۔ ۔ ۔وہ ظاہری و باطنی نعمتِ رزق عطا کرتا ہے، اور اپنے فضل و کرم سے عطاؤں کو نچھاور کرتا ہے۔

اللہ تعالی اپنے بندے کے دل میں جو اچھے خیالات، مفید باتیں، علم و ہدایت، توفیق و سعادت، اور اس کو دعاء کی قبولیت وغیرہ سے نوازتا ہے، ان ساری چیزوں کا تعلق اسی باطنی نعمتِ رزق سے ہے، جو اللہ تعالی بہت سے لوگوں کو اس سے نوازتا ہے۔

&"الوھّاب&"۔ ۔ دے یا اپنا ہاتھ کھینچ لے، بلند کرے یا اوندھے منہ گرادے، اور احسانوں کے سلسلے کو جاری رکھے یا اس کو منقطع کردے، اسی کے قبضہ قدرت میں ہر بھلائی ہے، وہ یقیناً ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی وھّاب اور جوّاد ہے۔ ۔ ۔


اللہ تعالی واسع ہے

یقیناً اللہ تعالی واسع ہے ۔ ۔{اللہ تعالی کشادگی اور وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔ }(البقرۃ: 115)

&"الواسع&" ۔ ۔ وہ جوّاد ہے، اس کا جود و کرم ہر سوال کو اپنے اندر سمولیتا ہے۔

&"الواسع&" ۔ ۔ اللہ تعالی اپنے صفات میں کامل و مکمل ہے۔ ۔ ۔ اپنے ناموں میں عظمت والا ہے۔ اس کی حمد و ثناء کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ وسیع عظمت و بادشاہت، سلطنت و سخاوت، اور وسیع جود و احسان کا مالک ہے۔

&"الواسع&" ۔ ۔ ساری مخلوق کو اپنے علم و عطاء، حفاظت و نگرانی، اور تدبیر سے گھیرے ہوئے ہے۔

&"الواسع&" ۔ ۔ اللہ تعالی کی ذات ساری آوازوں کو سنتی ہے، اور مختلف زبانوں سے اس کو کوئی مغالطہ نہیں ہوتا ہے۔

&"الواسع&" ۔ ۔اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے عبادت کو آسان بنادیا ہے، دین کو ان کے لئے سہولت بخش بنادیا ہے، اور اس نے بندوں کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لیا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی واسع ہے ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی ودود ہے

یقیناً اللہ تعالی ودود ہے ۔ ۔ ۔ {وہ بڑا بخشش کرنے والا اور بہت محبت کرنے والا ہے۔ }(البروج: 14)

&"الودود&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات ہے جو اپنے نبیوں، رسولوں، ان کی پیروی کرنے اور ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کرتی ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی کی ذات ان لوگوں کے دلوں میں ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے، ان کے دل اللہ کی محبت سے پُر ہیں، ان کی زبانیں اپنے پروردگار کی تعریف سے تَر ہیں، اور ان کے دل ہر طرح کے اخلاص و محبت سے اس کے دربار سے لَو لگائے ہوئے ہیں۔

اللہ تعالی اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ان سے محبت کرتا ہے، انہیں اپنے تقرب سے نوازتا ہے، ان سے خوش ہوتا ہے، اور انہیں خوش کرتا ہے۔ ۔ ۔ {جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی۔ } (المائدۃ: 54)

اللہ تعالی انہیں لوگوں کی محبت عطا کرتا ہے؛ پھر لوگ ان سے محبت کرنے لگتے ہیں، اور ان کی باتوں کو بخوشی قبول کرنے لگتے ہیں۔

&"الودود&" ۔ ۔ اللہ تعالی اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے، ان سے بہت زیادہ قریب رہتا ہے، اور اپنے بندوں کی خیرخواہی چاہتا ہے۔

&"الودود&" ۔ ۔ اللہ تعالی کے بندے اس سے محبت کرتے ہیں، اور اس سے ملاقات کا شوق رکھتے ہیں؛ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ:&"جو شخص اللہ تعالی سے ملاقات کا شوقین ہوتا ہے، اللہ تعالی بھی اس سے ملنے کا شوقین ہوتا ہے&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

&"الودود&" ۔ ۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اپنے دل کو صاف و پاک رکھو، کینہ و بغض سے اس کو دور رکھو، نیز کینہ کپٹ کی گندگی کو محبت کے پانی سے دھونے، اور حسد کی آگ کو محبت و پیار کے برف سے صاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی ودود ہیں ۔ ۔


اللہ تعالی حیّ اور قیّوم ہے

یقیناً اللہ تعالی حیّ اور قیّوم ہے ۔ ۔ ۔

یقیناً اللہ تعالی قیّوم ہے ۔ ۔ ۔ {اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے، اس کے سواء کوئی معبود نہیں جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے۔ }(آل عمران: 2)

&"الحی&" ۔ ۔ وہ اپنے آپ میں مکمل زندگی رکھنے والا ہے؛ اس کو کسی کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ دوسروں کو اس کی ضرورت ہے ۔ ۔ اور اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔

&"القیّوم&" ۔ ۔ وہ ذات جو مستقل طور پر بذاتِ خود قائم و دائم ہے، اور کسی کی وہ محتاج نہیں ہے۔

&"الحی القیوم&"۔ مکمل زندگی رکھنے والا، اپنے آپ وجود کا حامل، آسمانوں اور زمین والوں کا محافظ، ان کے رزق و دیگر تمام احوال کی تدبیر کرنے والا۔ &"الحی&" تمام ذاتی صفات کا حامل، اور &"قیوم&" یعنی دیگر تمام اچھی صفات رکھنے والا۔

&"القیّوم&" ۔ ۔ ہر انسان کے کرتوتوں کا علم رکھنے والا، ان کے اعمال و اقوال، احوال و کوائف، اور اچھائیوں اور برائیوں کا محافظ، اور ان اعمال پر انہیں آخرت میں بدلہ دینے والا۔

&"القیّوم&" ۔ ۔ بندوں کے اعمال کی گنتی رکھنے والا۔

&"القیّوم&" ۔ ۔ ساری کائنات میں سے ہر انسان کی زندگی، اس کے رزق، اس کے احوال اور اس کے معاملات کی تدبیر کرنے والا۔

&"الحی القیوم&"۔ ۔ بنا زوال ہمیشہ باقی رہنے والا۔

یقیناً اللہ تعالی ہمیشہ ہمیش زندہ و باقی ہے۔ ۔ ۔


اللہ جبّار ہے

یقیناً اللہ تعالی جبّار ہے ۔ ۔ ۔ {وہی اللہ ہے جس کے سواء کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے والا، نگہبان، غالب زور آور، اور بڑائی والا، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ } (الحشر: 23)

&"الجبار&" ۔ ۔ ۔ غمخوار کی غمخواری کرنے والا، پریشان حال کی مدد کرنے والا، محتاج کو بے نیاز بنانے والا، بھٹکنے والوں کی غلطیاں درگذر کرنے والا، گناہ گاروں کے گناہ معاف کرنے والا، عذاب کے مستحقین کو آزادی بخشنے والا، اور اخلاص کے ساتھ محبت کرنے والوں کے دلوں کو دلاسہ دینے والا۔

&"الجبار&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جس کی برتری سب سے اوپر اور اس کی نعمتیں ہر چیز سے عالی۔

&"الجبار&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جس کی ہر چیز احسان مند ہے، ہر چیز اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتی ہے، اور کسی ایک معاملے کی وجہ سے وہ دوسرے معاملات سے بے خبر نہیں ہے۔

&"الجبار&" ۔ ۔ اس کا مطلب وہ بلند و بالا ہے، نیز اس کا مطلب وہ غالب و قوی ذات ہے، اور نرمی کا معاملہ کرنے والی ذات ہے: یعنی عاجز دلوں کو دلاسہ دینے والی، کمزوروں کا مداوا کرنے والی، اور اس کے دربار سے پناہ طلب کرنے والوں کو پرسہ دینے والی ذات ہے۔

&"الجبار&"۔ ۔ ۔ سلطنت و قوت والا، بادشاہت و حکومت، اور عظمت و جلال والا۔

&"الجبار&" ۔ ۔ ۔ اس کے سامنے سارے بڑے بڑے ظالم سرِ تسلیم خم کرتے ہیں، بڑی عزت و عظمت والے لوگ جھکتے ہیں، بادشاہ و شہنشاہ اس کے دربار میں عاجزی و انکساری کرتے ہیں، اور اس کے سامنے بڑے بڑے مجرم و گنہگار سجدہ کرتے ہیں۔

یقیناً اللہ تعالی &"جبار&" ہے۔ ۔ ۔


اللہ تعالی جمیل ہیں

یقیناً اللہ تعالی جمیل و خوبصورت ہیں۔

اے پروردگار ہم تیرے مبارک چہرے کو دیکھ کر محظوظ ہونے، اور تیری ملاقات کی نعمت سے بہرہ ور ہونے کی بھیک مانگتے ہیں۔

&"الجمیل&" اللہ تعالی کے لئے سارے اچھے اچھے نام ہیں، اور اسی کے لئے ساری اچھی اچھی صفات ہیں۔

&"الجمیل&" سارے کامل و مکمل ناموں کا جمال، ساری کامل و مکمل صفات کا جمال اور کامل و مکمل کمال کا جمال سب کچھ اللہ تعالی کے لئے ہے۔ {آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے۔ }(الانعام: 115) ، وہ ذات ہے جس نے ہر چیز کو بڑے نرالے ڈھانچے میں پیدا کیا ہے۔

&"الجمیل&" کائنات کا جمال اس کے جلال وجمال کی دلیل ہے؛ اللہ تعالی کے جمال کو انسانی عقل اپنے احاطہ علم میں لا نہیں سکتی ہے، اور نہ انسانی سمجھ بوجھ اس کو بیان کرنے پر قادر ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:&"۔ ۔ میں آپ کی کماحقہ تعریف نہیں کرسکتا ہوں، آپ تو ویسے ہیں جیسے آپ نے خود اپنے بارے میں بیان کیا ہے&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

&"الجمیل&" اللہ تعالی کو کائنات کا جمال، اخلاق کا جمال، اور حسنِ ظن کا جمال میسر ہے۔

اے جمال کو پسند کرنے والی جمیل ذات ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے جمیل بنادے، ہمارے اخلاق، ہمارے دلوں اور ہماری ظاہری شکلوں کو جمال کی دولت سے مالا مال کردے۔

یقیناً اللہ تعالی جمیل ہے ۔ ۔ ۔


</div

اللہ تعالی علیم، خبیر اور محیط ہے

یقیناً اللہ تعالی علیم، خبیر اور محیط ہے ۔ ۔

&"علیم، خبیر اور محیط&" وہ ذات جس کے علم نے ظاہر و باطن، پوشیدہ و علانیہ، یقینی ومحال، اور ممکنہ چیزوں کو، نیز اوپری و نچلی دنیا کو، ماضی، حال اور مستقبل کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے، کوئی بھی چیز اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔

&"علیم و خبیر&" ۔ ۔ ۔ {بے شک اللہ تعالی ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی [بھی] نہیں جانتا کہ کل کیا [کچھ] کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ [یاد رکھو] اللہ تعالی ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔ }(لقمان: 34)

&"اللہ تعالی علیم و محیط ہے&" ۔ ۔ ۔ {وہ آسمان و زمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو وہ [سب کو] جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک جاننے والا ہے۔ }(التغابن: 4)

وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ ۔ ۔ {اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی۔ اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالی نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے۔ } (الطلاق: 12)

نیز اللہ تعالی نے فرمایا:{اور اللہ تعالی نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے۔ }(الطلاق: 12)

یقینا اللہ تعالی علیم، خبیر اور محیط ہے۔


اللہ قریب ہے

یقیناً اللہ تعالی قریب ہے۔ ۔ ۔

اے وہ ذات جو ہر اس شخص سے قریب ہے جو اس سے مانگتا ہے ۔ ۔ ۔ اے وہ ذات جو ہر اس شخص سے قریب ہے، جو اس سے لَو لگائے رکھتا ہے۔

اے وہ ذات جو ہر اس شخص سے قریب ہے جو اس سے مانگتا ہے ۔ ۔ ۔ اے وہ ذات جو شہ رگ سے بھی زیادہ ہم سے قریب ہے۔

اے قریب ذات تیری محبت و انسیت اور تیری کلام کی لذت سے ہمیں مالا مال فرما ۔ ۔ ۔ {جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں، تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں۔ }(البقرۃ: 186)

&"القریب&" اپنی بلندئ شان کے باوجود اپنے علم و آگہی سے قریب رہنے والی ذات

&"القریب&" ہر اس شخص سے اس کی ذات قریب ہے جو اس کو پکارتا ہے۔ وہ لطف و مہربانی کرتی ہے، امیدوں کی برآری کرتی ہے، مصیبتوں اور غموں کو دور کرتی ہے، اور پریشان حال کی دعائیں قبول کرتی ہے۔

&"القریب&" ۔ ۔ ہر ایک شخص سے اپنے علم و آگہی، نگرانی و خبرداری سے بالکل قریب ہے۔

&"القریب&" ہر اس شخص سے اس کی ذات قریب ہے، جو اس کے دربار میں دستِ توبہ دراز کرتا ہے، اور اس سے لَو لگائے رکھتا ہے۔ اس کے گناہ معاف کرتی ہے، اور اس کی توبہ قبول کرتی ہے۔

&"القریب&" بندہ جن عبادتوں کے ذریعے اس سے قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ قریب ذات اس کو قبول کرتی ہے، اور بندہ جس قدر اس ذات سے قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اس سے قریب ہوتی ہے۔

&"القریب&" اپنے بندوں کے احوال سے واقف ہے۔ وہ ذات اپنے علم و آگہی سے بندوں سے قریب ہے، اور کوئی بھی چیز اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔

&"القریب&" اپنے لطف و کرم، حفاظت و سلامتی، نصرت و مدد اور تائید سے قریب ہے، اور یہ قربت اس ذات کے دوستوں یعنی مومنوں کے لئے مخصوص ہے۔

&"القریب&" تمام بندے انجام کار میں اسی ذات کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ {اور ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ }(الواقعۃ: 85)

&"القریب&" دل اس ذات کی قربت سے مانوس ہوتے ہیں، اور اس کے ذکر سے شاد و آباد رہتے ہیں۔

یقیناً اللہ تعالی قریب ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی مجیب ہے

یقیناً اللہ تعالی مجیب ہیں ۔ ۔ ۔{بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ }(ھود: 61)

&"المجیب&" جب بندے اس کا وسیلہ طلب کریں، اس سے مانگیں، اور شرعی طور پر جائز اشیاء اس سے طلب کریں، تو وہ اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے، اور اسی نے اپنے بندوں کو دعاء کرنے کا حکم دیا ہے، اور قبولیتِ دعاء کا بھی اُن سے وعدہ کیا ہے۔

&"المجیب&" قیدی قیدخانے میں، ڈوبنے والا سمندر میں، محتاج اپنی محتاجگی میں، یتیم اپنی یتیمی میں، بیمار اپنی بیماری میں، اور بانجھ خاتون اپنے بانجھ پن میں اُس کی ذات سے لَو لگائے رکھے، تو وہ ان سب کو ان کی مراد عطا کرتا ہے، ان کی دعائیں قبول کرتا ہے، اور انہیں صحت و تندرستی عطا کرتا ہے۔

&"المجیب&" ۔ ۔ ۔ دعاء کرنے والے جو بھی ہوں، جہاں بھی ہوں، اور جس کسی حال میں ہوں، وہ سب کی دعائیں قبول کرتا ہے۔

&"المجیب&" تنگدست کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ ۔ ۔{بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کردیتا ہے۔ }(النمل: 62)

قبولیت کے زیادہ قریب اس بندے کی دعاء ہوتی ہے، جو اس کے اسماء حسنی اور صفاتِ عالیہ کے ذریعے اس سے مانگتے ہیں۔ کتنے ایسے لوگ ہیں، جنہوں نے قیدخانوں میں اس سے دعائیں کیں، تو اللہ تعالی نے انہیں قید سے نجات دلادی۔ کتنے ایسے لوگ ہے جنہوں نے سمندروں میں اس سے آس لگائی رکھی، تو اس نے انہیں امن کے ساحل تک پہنچادیا، ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے محتاجگی کے عالم میں اسے یاد کیا، تو اللہ تعالی نے انہیں بے نیاز کردیا اور امن و سلامتی کی دولت سے مالا مال کردیا، وہ یتیم بھی ہیں جنہوں نے اپنی یتیمی میں اسے پکارا، تو اس نے انہیں اپنی نگہداشت میں رکھا اور اپنے فضل سے انہیں بڑا بنادیا۔ وہ مریض بھی ہیں، جنہوں نے اس سے امید لگائی، تو اس نے انہیں شفاء عطا فرمائی اور ان کے لئے صحت و تندرستی مقدر کردی، اور کتنی ایسی بانجھ خواتین ہیں جنہوں نے اس کے سامنے عاجزی و انکساری کے ساتھ گڑگڑایا، تو اس نے انہیں اولاد نصیب فرمائی اور عزت و مقام سے نوازا۔

یقیناً اللہ تعالی مجیب ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی نور ہیں

یقیناً اللہ تعالی نور ہیں ۔ ۔ ۔{اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا۔}(النور: 35)

&"النور&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جس نے عارفین کے دلوں کو اپنی معرفت اور ایمان سے پُر نور بنادیا، اور ان کی روحوں کو اپنی ہدایت سے روشن کردیا۔

&"النور&" ۔ ۔ ۔ اپنے نور سے اس نے تاریکیوں کو مٹادیا، آسمانوں اور زمین کو روشن کردیا، اور سالکین کے راستے اور ان کے دلوں کو اسی نور سے مزین کردیا۔

اللہ تعالی نور ہے، اور اس کا حجاب بھی نور ہے، اور جب وہ اپنا حجاب اٹھالے، تو اس کے چہرے کی شعاعوں سے مخلوق کے سامنے موجود ساری چیزیں حدِّ نگاہ تک جل کر خاکستر ہوجائیں۔

یقیناً اللہ تعالی نور ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی حکیم ہیں

یقیناً اللہ تعالی حکیم ہیں ۔ ۔ ۔ {کیا اللہ تعالی [سب] حاکموں کا حاکم نہیں ہے۔ }(التین: 8 )

&"الحکیم&" وہ ذات جو ساری چیزوں کو اپنی گرفت میں رکھے، ان کو بخیر و خوبی انجام دے، اور اپنی تقدیر کے فیصلوں کے مطابق ان چیزوں کو ان کے مناسب مقامات پر رکھے۔

&"الحکیم&" سارے قوانین اور سارے دستور اس نے اپنی حکمت ہی کی بنیاد پر وضع کئے ہیں۔ اس کی طرف سے وضع کردہ قوانین اپنے مقاصد و مطالب، اور دنیوی و اخروی انجام کے اعتبار سے حکمت پر مبنی ہیں۔

&"الحکیم&" وہ ذات اپنے فیصلوں اور اپنی تقدیر میں حکمت والی ہے۔ وہ ذات محتاج کے لئے محتاجگی، بیمار کے لئے بیماری، اور قرضدار کے لئے تنگدستی کے فیصلوں میں حکمت والی ہے، اس کی تدبیر میں کوئی خلل ہوتا ہے اور نہ اس کے اقوال و افعال میں کوئی کمی یا لڑکڑاہٹ ہوتی ہے۔ اسی کی ذات ساری حکمتوں کا گہوارہ ہے۔

&"الحکیم&" وہ ذات جو اپنے بندوں میں حکمت و معرفت، سنجیدگی و شائستگی، اور ہر کام کو اس کے صحیح مقام پر کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

&"الحکیم&" ۔ ۔ ۔ وہی ذات ہے جس کے لئے اپنی صفتِ خلق اور اپنے اوامر میں مکمل حکمت و دانائی ہے، وہ کسی چیز کو بلا فائدہ پیدا نہیں کرتا ہے، اور نہ کسی بات کا بیکار حکم دیتا ہے۔ اول و آخر اسی کے لئے حکومت و بادشاہت ہے۔

اللہ تعالی سارے حاکموں سے زیادہ حکمت والا ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز اسی کے حکم سے وقوع پذیر ہوتی ہے، اسی کے ہاتھ میں حلال و حرام قرار دینے کی صلاحیت ہے؛ لہذا حکم وہی ہے جو اس نے نافذ کیا، اور دین وہی ہے جس کا اس نے حکم دیا اور جس سے اس نے منع کیا، اس کے حکم کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں ہے، اور نہ کوئی اس کے فیصلے اور تقدیر کو ٹھکرانے والا ہے۔

&"الحکیم&" وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے ۔ ۔ ۔ وہ اپنے اوامر و نواہی میں اور اپنی طرف سے دی جانے والی خبروں میں مکمل منصف ہے۔

یقیناً اللہ تعالی حاکم اور حکیم ہے ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی ملک، مالک اور ملیک ہے

یقیناً اللہ تعالی ملک ہے۔ ۔ ۔{بادشاہ، نہایت پاک}(الحشر: 23)

&"الملک المالک&" ۔ ۔ ۔ اسی کے لئے حکومت و سلطنت ہے، وہی ہے جو بادشاہت کی صفت سے موصوف ہے۔ اور یہ صفت عظمت و کبریائی، اور غلبہ و تدبیر کے معانی پر مشتمل ہے۔ وہ جس کے لئے مخلوق کو پیدا کرنے میں، اوامر کا نفاذ کرنے میں، اور جزاء و سزا دینے میں مکمل اختیار ہے۔ اسی کے لئے ساری اوپری و نچلی دنیا ہے، ساری مخلوق اسی کی غلام ہے، اور اسی کی محتاج ہے۔

&"الملک&" وہ عظمت و کبریائی والا ہے۔ اپنے بندوں کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، اور اس میں جیسا چاہے تصرف کرتا ہے۔ سارے بندے اس کے غلام اور اسی کے محتاج ہیں، اور وہ ان کا بادشاہ و آقا ہے۔

اسی کے لئے مکمل حکومت ہے۔ کوئی بھی بادشاہ یا آقا ہو، سب اسی کے غلام ہیں، اور آسمان وزمین میں جو کچھ بھلائی اور خیر ہے، سب اسی کے احسان و کرم کا ثمرہ ہے۔{اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ }(البقرۃ: 255)

&"الملک&" وہ بنا حساب و کتاب عطا کرتا ہے، بندوں پر اپنی عطاؤں کی بارش برساتا ہے، اور اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، اور نہ ایک چیز دوسری چیز سے اس کو بے خبر رکھتی ہے؛ چنانچہ حدیثِ قدسی میں آیا ہے:&"۔ ۔ ۔اگر تم میں سے پہلا اور آخری شخص، انسان اور جنات ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوجائیں، اور مجھ سے مانگیں، اور میں ان میں سے ہر ایک کی مراد پوری کردوں، تو اس سے میرے خزانوں میں بالکل اسی قدر کمی ہوگی، جس قدر سوئی کو سمندر میں ڈالکر نکالنے سے ہوتی ہے۔ ۔ ۔&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

&"الملک&" وہ جسے چاہتا ہے، بادشاہت عطا کرتا ہے؛ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{آپ کہہ دیجئے اے اللہ: اے تمام جہاں کے مالک: تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ }(آل عمران: 26)

&"الملیک&" وہ اپنی مخلوقات کا مالک ہے، اور دنیا و آخرت میں ان کے معاملات میں تصرف کا اختیار رکھنے والا ہے، لہذا بندے اسی کی طرف راغب رہیں، اسی کی پناہ کے طالب رہیں، اور اس کی طرف سے ملنے والی نعمتوں کو آہ و زاری، اور دعاء و بکاء کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مانگنے کی خواہش رکھیں۔

یقیناً اللہ تعالی ملک، مالک اور ملیک ہے ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی قدّوس ہیں

یقیناً اللہ تعالی قدّوس ہیں ۔ ۔ ۔

وہ اپنی بلندی و کبریائی میں مقدس و محترم ہے، اس کی تعریف بے پناہ ہے، اور اس کی نعمتیں بہت ہی عظیم ہیں ۔ ۔ ۔ {وہی اللہ ہے جس کے سواء کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف۔ }(الحشر: 23)

وہ پاک قدوس ذات فرشتوں اور جبریل امین کا پروردگار ہے ۔ ۔ ۔ وہ پاک ذات ملک و قدوس ہے۔

&"یقیناً اللہ تعالی قدوس ہیں&"۔ وہ مقدس ذات ہر عیب اور ہر کمی سے پاک ہے، نیز ہر اس صفت سے پاک ہے، جو اس کے شایانِ شان نہیں ہے۔

&"یقیناً اللہ تعالی قدوس ہیں&" وہ کمال و جمال اور جلال کی صفات کا حامل ہے۔ ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ اس کے کمال سے اعلی کوئی کمال نہیں ہے، اور نہ کوئی اس کے اسماء و صفات کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔

&"یقیناً اللہ تعالی قدوس ہے&"۔ وہ ذات جس سے دل پاک ہوگئے، اور دلوں کی ساری آرزوئیں اس سے وابستہ ہوگئیں۔ وہ ذات جس سے زبانیں پاک ہوگئیں، اور ہر وقت اسی کی پاکی میں مگن رہنے لگیں۔

&"القدوس السلام&" ۔ ۔ ۔ وہ عظیم ذات ہر طرح کے عیب و کمی سے، اور اپنی مخلوقات میں سے کسی کی شباہت سے پاک ہے۔ وہ ہر عیب سے پاک ہے، اور اس بات سے بھی پاک ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی اس کے مشابہ ہو یا کوئی اس کے کمالات میں سے کسی چیز کے قریب بھی ہو۔

&"یقیناً اللہ تعالی قدوس ہیں&"۔ وہ برکت و عطاء، اور فضل و ثناء والی ذات ہے۔ برکتیں اسی کی طرف سے شروع ہوتی ہیں، اور اسی پر ختم ہوتی ہیں۔ وہی ذات بابرکت ہے، جو اپنے بندوں کو برکتوں سے نوازتا ہے، اور چاہت کے مطابق اپنے فضل و کرم سے انہیں برکتیں عنایت کرتا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی قدوس ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی سلام ہیں

یقیناً اللہ تعالی سلام ہیں ۔ ۔ ۔

اللہ تعالی سلام ہیں، اسی سے سلامتی بٹتی ہے؛ کوئی بھی بندہ اس کی طرف سے ملنے والی سلامتی کے بغیر سلامتی سے رہ نہیں سکتا ہے، اور کوئی بھی کامیابی اس کی طرف سے ملنے والی توفیق کے بغیر پوری نہیں ہوسکتی ہے۔

یقیناً اللہ تعالی سلام ہیں۔ وہ ہر عیب و کمی سے محفوظ ہے، اور کائنات کو مصیبتوں اور آفات سے محفوظ رکھنے والا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی سلام ہیں۔ اللہ تعالی کی صفات کائنات کی صفات کے ساتھ مشابہت و مماثلت سے محفوظ ہیں، اور ہر قسم کے عیب اور ہر طرح کی کوتاہیوں سے دور ہیں۔ اس کا علم مکمل و محفوظ ہے، اس کا انصاف ساری چیزوں کو احاطہ میں رکھے ہوئے محفوظ ہے۔ اس کی بادشاہت مکمل و محفوظ ہے، اس کی حکومت محفوظ ہے، اس کے فیصلے محفوظ ہیں، اس کی کاریگری محفوظ ہے۔ وہ ذات سلام ہے، اور سلامتی اسی سے شروع ہوتی ہے۔ وہ ذات بابرکت عزت و جلال والی ہے۔

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے دونوں جہاں میں سلامتی مقدر کردی ہے۔{ابراہیم [علیہ السلام] پر سلام ہو۔ }(الصافات: 109) ، {موسیٰ اور ہارون [علیہما السلام] پر سلام ہو۔ }(الصافات: 120) ، {پیغمبروں پر سلام ہو۔ }(الصافات: 181)

اور آخرت کی سلامتی کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:{[ان سے کہا جائیگا] سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔ }(الحجر: 46)

&"السلام &"مکمل طور پر سلامتی، جس کے بعد کوئی خوف یا ڈر نہیں، اور مکمل معافی جس کے بعد کوئی خدشہ نہیں۔

وہ سلام ہے اور اسی سے سلامتی بٹتی ہے۔

یقیناً اللہ تعالی سلام ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی حق ہیں

یقیناً اللہ تعالی حق ہیں ۔ ۔ ۔ {یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے۔ }(الحج: 6)

&"اللہ تعالی حق ہیں&" ۔ ۔ ۔ اپنی ذات و صفات میں حق ہیں؛ وہ باکمال صفات و خوبیاں رکھنے والا ہے، اس کا وجود خود اپنے آپ ہے، اور اس کے بغیر کسی چیز کو وجود میسر نہیں ہے۔ وہی ہے جو اپنے جلال و جمال اور کمال کی صفتوں کے ساتھ ہمیشہ ہمیش رہنے والا ہے، اور وہی ہے جو اپنے احسان و کرم کے ساتھ دائمی رہنے والی ذات ہے۔

&"اللہ تعالی حق ہیں&" ۔ ۔ ۔ اس کی باتیں حق ہیں، اس کے کام حق ہیں، اس کا دیدار حق ہے، اس کے رسول حق ہیں، اس کی کتابیں حق ہیں، اس کا دین حق ہے، اسی کی عبادت اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹہرانا حق ہے، اور اس کی طرف منسوب ہونے والی ہر چیز حق ہے۔ {یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی مردوں کو جِلاتا ہے، اور وہ ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ } (الحج: 62)

یقینااللہ تعالی حق ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی مومن و مہیمن ہے

یقیناً اللہ تعالی مومن و مہیمن ہے ۔ ۔ ۔ {وہی اللہ ہے جس کے سواء کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے والا، نگہبان۔ }(الحشر: 23)

&"المومن&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جو وحی کے ذریعے بندوں کے درمیان امن و امان اور سکون پھیلاتی ہے۔ {اور ڈر [اور خوف] میں امن [و امان] دیا۔ }(قریش: 4)

&"المومن&"۔ ۔ ۔ وہ ذات جس نے اپنے آپ کی اپنے صفاتِ کمال اور کمالاتِ جلال و جمال کی بنیاد پر تعریف کی ہے۔ وہ ذات جن سے اپنے رسولوں کو بھیجا، اور دلائل و براہین کے ساتھ اپنی کتابیں نازل کی۔ رسولوں کے لائے ہوئے پیغام کے سچے ہونے اور خود ان رسولوں کی سچائی پر دلالت کرنے والی نشانیوں اور دلائل سے ان کی سچائی ثابت کی۔
&"المھیمن&"۔ ۔ ۔ سینوں میں خفیہ اور پوشیدہ معاملات کی خبر رکھنے والی ذات، جس کے علم نے ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لے رکھا ہے۔

&"المومن&" ۔ ۔ ۔ امن دینے والا نگہبان ہے، اور اپنی مخلوق کے سارے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔

&"المومن&" ۔ ۔ ۔ بدلے میں کوئی کمی نہیں کرتا ہے، اور سزا میں کوئی زیادتی نہیں کرتا ہے۔ وہ ذات رحم و کرم اور فضل و احسان کے زیادہ لائق ہے۔

&"المھیمن&" وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے، وہ ان پر غالب و زور آور ہے، وہ ان کے احوال و اعمال سے واقف اور ان کے لئے خیرخواہ ہے، اور اس نے ان کی زندگیوں کو اپنے علم سے گھیر رکھا ہے۔ ہر کام اس کے لئے آسان ہے، اور ہر چیز اس کی محتاج ہے۔ ۔ ۔ {اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ }(الشوریٰ: 11)

یقیناً اللہ تعالی مومن و مھیمن ہے۔


اللہ تعالی عفو، غفور اور غفار ہے

یقیناً اللہ تعالی عفو، غفور اور غفار ہے ۔ ۔ {بیشک اللہ تعالی درگزر کرنے والا بخشنے والا ہے۔ } (الحج: 60)

ا&"للہ تعالی عفو، غفور اور غفار ہے&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جو ہمیشہ ہمیشہ سے اپنی معافی سے مشہور و معروف تھی، اور جو اپنے بندوں کی مغفرت اور انہیں درگذر کرنے کی صفت سے متصف تھی۔ ہر ایک چیز اس کی مغفرت و معافی کی محتاج ہے، جیساکہ ہر ایک چیز اس کے رحم و کرم کی محتاج ہوتی ہے۔

اے وہ ذات جس نے اس شخص کے لئے مغفرت و معافی کا وعدہ کیا، جو سارے اسباب اختیار کرتے ہوئے اس کے دربار میں حاضر ہوا ہو، اللہ تعالی فرماتے ہیں:{ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے والا ہوں جو توبہ کریں، ایمان لائیں، نیک عمل کریں اور راہِ راست پر بھی رہیں۔ }(طٰہٰ: 82)

اے غفور ذات ہم تجھ سے یہ دعاء کرتے ہیں کہ ہمیں خالص توبہ کی توفیق سے نواز، جس کے بعد ہم گناہوں سے دور ہوجائیں، گناہ کرنا چھوڑدیں، پچھلے گناہوں پر نادم و پشیماں ہوجائیں، تیری اطاعت و فرمانبرداری کا، نیز تیری نافرمانی نہ کرنے کا پختہ اردہ کرلیں، اے غفور ذات ہماری مغفرت فرمادے۔

اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے، لہذا ہمیں بھی معاف فرمادے ۔ ۔ ۔ اے اللہ یقیناً تو نے ہمیں خبر دی ہے کہ تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ۔ ۔ {میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا اور بڑا ہی مہربان ہوں۔ }(الحجر: 49)

لہذا ہمارے ساتھ رحمت و مغفرت کا معاملہ فرماے اے غفور ذات۔

یقیناً اللہتعالی عفو، غفور اور غفار ہے ۔ ۔


اللہ تعالی توّاب ہے

یقیناً اللہ تعالی توّاب ہیں ۔ ۔ ۔ {بیشک اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے۔ } (التوبۃ: 118)

&"التوّاب&" ۔ ۔ ۔ جو ہمیشہ سے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور گناہ گاروں کے گناہ بخشتا ہے؛ ہر وہ انسان جو اللہ تعالی کے دربار میں خالص توبہ کرتا ہے، اللہ تعالی ضرور اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کی ذات وہ ہے جو توبہ کرنے والوں کو توبہ کی توفیق دیتے ہوئے توبہ کرنے سے پہلے بھی مہربان ہے، اور توبہ کرلینے کے بعد بھی اس کو قبول کرتے ہوئے اور ان کے گناہوں کو معاف کرتے ہوئے ان پر مہربان ہے۔

&"التوّاب&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جس نے اپنے بندوں کے لئے توبہ کو اپنے فضل و کرم اور احسان کے ذریعے مشروع کیا، بلکہ اس کے علاوہ مزید دیگر انعامات کا ان سے وعدہ کیا، چنانچہ یہ وعدہ کیا کہ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا جائے گا۔

&"التواب&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جو اپنے بندوں کو توبہ پر قائم رکھتی ہے، اور فرائض کی ادائیگی میں ان کا تعاون کرتی ہے۔

&"التواب&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جو اپنے بندوں کو توبہ کی توفیق دیتی ہے، انہیں توبہ کی طرف راغب بناتی ہے، اور توبہ کی بناء پر خود وہ ان کو اپنا محبوب بنالیتی ہے۔

&"التوّاب&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتی ہے، توبہ کرنے پر انہیں ثواب عطا کرتی ہے، ان کے درجات بلند کرتی ہے، اور ان کے گناہوں کو مٹاتی ہے۔

کیا ہی عظیم ہے وہ ذات جس کی شان بلند و بالا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی توّاب ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی واحد و احد ہیں

یقیناً اللہ تعالی واحد واحد ہیں ۔ ۔ ۔

اے وہ ذات جس کو ذاتی، صفاتی اور ناموں کے اعتبار سے وحدانیت حاصل ہے۔

ہم تجھ سے اخلاص و محبت اور رغبت مانگتے ہیں۔ ۔ ۔ اے ایک و بے نیاز ذات۔

&"الاحد&" وہ اپنے ناموں اور صفات میں ایک ہے، اس کا ہمسر یا مشابہ نہیں ہے، اور نہ کوئی اس کے مماثل ہے۔{کیا تیرے علم میں اس کا ہمنام ہم پلّہ کوئی اور بھی ہے؟ }(مریم: 65)

&"الاحد&" وہ ذات عبادت کا مستحق ہونے میں ایک ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اور ہر قسم کی عبادت چاہے چھوٹی ہو یا بڑی اس کے علاوہ کسی کے لئے نہیں کی جائے گی۔

&"واحد و احد&"وہ ذات جو اپنے تمام کمالات میں ایک ہے، ان کمالات میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے، اور بندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ زبانی، عملی اور عقلی طور پر اس کی وحدانیت کا اقرار کریں، اس طور پر کہ اس کے لئے مطلق کمال کا اعتراف کریں، اس کو ایک و یکتا مانیں، اور ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے سامنے بجا لائیں۔

&"الاحد&" وہ ذات ایک ہے، وہی مقصود ہے۔ وہ ایک پروردگار ہے، اور وہی معبود ہے۔ دلوں کی گہرائیوں نے اس کی گواہی دی، اور غیب کی چیزوں کو بخوبی جاننے والی ذات سے نگاہیں وابستہ ہوگئیں۔

&"اللہ تعالی واحد و احد ہیں&"۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو فطرتِ توحید پر پیدا کیا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ کوئی ایسا بندہ نہیں ہے، جس نے اس کے علاوہ کسی اور سے لَو لگائی ہو، اور وہ کامیاب بھی ہوگیا ہو، اور کوئی ایسا بندہ نہیں ہے، جس نے اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کی ہو اور وہ سعادت مند بھی ہوا ہو، اور کوئی ایسا بندہ نہیں ہے، جس نے کسی اور کو اس کا شریک ٹہرایا ہو، اور وہ کامیاب و کامران بن گیا ہو۔

یقیناً اللہ تعالی واحد و احد ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی صمد ہیں

یقیناً اللہ تعالی صمد ہیں ۔ ۔ ۔{آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالی ایک [ہی] ہے۔ اللہ تعالی بے نیاز ہے۔ } (الاخلاص: 1-2 )

&"الصمد&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جو اپنے اسماء و صفات میں کامل و مکمل ہے۔ اس کی ذات میں کوئی کمی اور قصور پیدا نہیں ہوتا ہے۔

&"&"الصمد&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جس کی طرف تمام بندے اپنی ضرورتوں، پریشانیوں اور برے حالات کے وقت اس سے لَو لگاتے ہیں؛ کیونکہ وہ اپنی ذات و صفات اور اسماء و اقوال میں مطلق و مکمل کمال رکھنے والی ذات ہے۔

الصمد&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات بے نیاز ہے، ہر ایک اس کا محتاج ہے، اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ {جوکہ کھانے کو دیتا ہے، اور اس کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا۔ }(الانعام: 14)

&"الصمد&" وہ تدبیر کرنے والا پروردگار اور تصرف کا اختیار رکھنے والا مالک و بادشاہ ہے۔

&"الصمد&" ضرورتوں کے وقت میں دل اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، تو وہ انہیں منع نہیں کرتا، بلکہ اپنی عطاؤں سے نوازتا ہے۔ پریشانیوں کے وقت دل اس کو پکارتے ہیں، تو وہ ان کی دعائیں قبول کرتے ہوئے ان کی پریشانیاں دور کرتا ہے۔ اس سے رشتہ نہ رکھنے والے اس کو پکارتے ہیں، تو وہ ان کو اپنے سے قریب کرلیتا ہے۔ ڈرے ہوئے لوگ اس کے سامنے دست بدعاء ہوتے ہیں، تو وہ انہیں ڈر سے نجات دلاتا ہے۔ توحید پرست اس سے امیدیں لگائے بیٹھتے ہیں، تو وہ انہیں ان کی مرادوں تک پہنچادیتا ہے۔ مصیبتوں میں گھرے لوگ اس کو بلاتے ہیں، تو وہ انہیں سلامتی سے نوازتا ہے، اور بندے اس کے سامنے عاجزی سے جھکتے ہیں، تو وہ انہیں سربلندی عطا کرتا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی صمد ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی زور آور ہے

یقیناً اللہ تعالی زور آور ہیں ۔ ۔ ۔ {اور اللہ زور آور باحکمت ہے۔ }(الانفال: 67)

اللہ تعالی زور آور، قوی اور غالب ہیں۔ وہ ذات جس کو کسی طاقتور کی طاقت نقصان نہیں پہنچاسکتی، اور نہ کسی قدرت رکھنے والے کی قدرت اس کو کمزور کرسکتی ہے۔ ۔ ۔ وہ باخبر و بلند و بالا ذات بابرکت ہے۔

&"العزیز&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جس کے لئے ہر قسم کی عزت ہے: قوت و طاقت کی عزت، غلبہ و جلال کی عزت، اور رُکے رہنے و نہ دینے کی عزت۔ چنانچہ اس نے اپنے آپ کو کائنات کے دسترس سے دور رکھا ہے، ساری مخلوقات کو اپنے قبضہ قدرت میں لے لیا ہے، ساری مخلوق اس کی احسان مند ہے، اور اس کے عظمت کے سامنے سربسجود ہے۔

&"العزیز&"۔ اسی کے لئے عزت و جلال ہے، اس کے علاوہ ہر چیز اس کے سامنے عاجز و ذلیل ہے، اور اس کے سامنے ہر قوی و طاقتور کمزور ہے۔ اس کے علاوہ ہر چیز حقیر ہے، اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے سامنے ذلیل ہے۔

&"العزیز&"۔ وہ جس کو چاہتا ہے، عزت بخشتا ہے۔ جس سے چاہتا ہے، عزت کھینچ لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ذلیل و خوار کرتا ہے، اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائی ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{تمام تر غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے۔ } (یونس: 65)

حسب و نسب، اور مال و دولت سے ملنے والی عزت عزت نہیں ہے، بلکہ عزت تو وہ ہے جو اس کے کرم سے ملی ہو۔

&"العزیز&" جو کوئی عزت والا ہو، وہ اسی کی عزت کا صدقہ ہے، اور جو کوئی مضبوط و طاقتور ہو، وہ اسی کے فضل کا طفیل ہے۔ لہذا جو پناہ مانگنا چاہتا ہو، تو اس کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی ذات سے پناہ مانگے، اور جو عزت چاہتا ہے، تو اس کو چاہئے کہ وہ صدقِ دل کے ساتھ اللہ تعالی کے دربار کی طرف متوجہ ہوجائے۔ {سنو: عزت تو صرف اللہ تعالی کے لئے، اور اس کے رسول کے لئے اور ایمان داروں کے لئے ہے۔ }(المنافقون: 8)

یقیناً اللہ تعالی عزیز ہیں۔


اللہ تعالی غالب و برتر ہیں

یقیناً اللہ تعالی غالب و برتر ہیں۔ ۔ ۔

وہ انسان و جنات پر غالب ہے:{اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے، اور وہی بڑی حکمت والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے۔ }(الانعام: 18)

&"القھّار&" وہ ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سامنے ساری کائنات عاجز ہے، اس کی عزت و عظمت اور کمالِ قوت کے سامنے ہر ایک ذلیل و خوار ہے۔

&"القھّار&"۔ وہ اپنی بلندی و برتری، کائنات کے بارے میں علم و تدبیر کرتے ہوئے، اور ان کو اپنے احاطہ قدرت میں رکھتے ہوئے ان پر غالب ہے۔ چنانچہ اس وسیع و عریض کائنات میں کوئی بھی چیز اس کی مرضی اور اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔

&"القھار&" گھمنڈی اور سرکش لوگوں کو الوہیت و ربوبیت کے مستحق ہونے پر، اور اپنے اسماء و صفات کے باکمال ہونے پر واضح دلائل سے مغلوب کردیا۔

&"القھار&" ظالم، سرکش اور گھمنڈیوں کو مغلوب بنادیا، اور اللہ تعالی ان کی مرضی کے خلاف انہیں قیامت کے دن مغلوب بناکر اکٹھا کرے گا۔ {اور سب کے سب واحد غلبے والے کے روبرو ہوں گے۔ }(ابراھیم: 48)

&"القھّار&" اللہ تعالی کی مرضی کسی بھی حال میں ہونے والی ہوتی ہے، مخلوق میں سے کسی کو، چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اس کی مرضی کے خلاف چلنے کی طاقت نہیں ہے۔ وہ اپنی کاریگری میں نایاب و انوکھا ہے، طاقتور لوگ چاہے کتنے ہی اسباب و وسائل کے وہ حامل ہوں، پھر بھی وہ اس کی کاریگری کا ایک چھوٹا حصہ بھی بنانے سے عاجز ہیں۔ اور اس کی حسنِ صنعت کی مدح سرائی میں زبان، چاہے وہ کتنے ہی فصاحت و بلاغت کی دھنی ہو، پھر بھی وہ گونگی ہے۔

یقیناً اللہ تعالی غالب و برتر ہیں۔ ۔ ۔


اللہ تعالی رزّاق ہیں

یقیناً اللہ تعالی رزّاق ہیں ۔ ۔ ۔ {اللہ تعالی تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے۔ } (الذاریات: 58)

&"الرزّاق&"۔ ۔ ۔ وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں مخلوق کا رزق اور ان کی روزی روٹی ہے۔ اللہ تعالی ہی کی وہ ذات ہے جو جسے چاہے رزق میں وسعت دیدے، وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام معاملات کا حل، اور آسمان و زمین کے کنجیاں ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالی پر ہیں، وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے، اور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی۔ }(ھود: 6)

اور اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالی ہی روزی دیتا ہے، وہ بڑا ہی سننے جاننے والا ہے۔ }(العکبوت: 60)

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:{یقیناً تیرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ۔ یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر اور خوب دیکھنے والا ہے۔ }(الاسراء: 30)

اللہ تعالی یہ بھی فرماتے ہیں:{اللہ تعالی جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔ }(البقرۃ: 212)

&"الرزّاق&" ۔ ۔ ۔ سارے لوگ اللہ تعالی کے اور اس کے رزق کے محتاج ہیں، چنانچہ وہ سارے لوگوں کو، چاہے نیک ہوں یا برے، پہلے والے ہوں یا بعد میں آنے والے، ان سب کو رزق عطا کرتا ہے ۔ ۔ ۔

&"الرزّاق&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات ہر انسان کو رزق دیتی ہے، جو خلوصِ دل سے اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اور دلوں کا اخلاص سب سے عظیم رزق و نعمت ہے۔ وہ ذات علم و یقین کے ساتھ اس سے مانگنے والوں کو غذاء اور حلال روزی عطا کرتی ہے، جو دلوں میں اخلاص کرنے پر معاون ہوتی ہے، اور وہ ذات ہر اس شخص کو دینی سدھار سے نوازتی ہے، جو اس کا طلبگار ہوتا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی رزّاق ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی لطیف ہیں

یقیناً اللہ تعالی لطیف ہیں ۔ ۔ ۔ {میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ } (یوسف: 100)

&"اللطیف&" وہ ذات جس نے اپنی لطف و عنایت اور عطف و محبت سے مخلوق کو مخلوق کے لئے مسخّر کردیا۔

&"اللطیف&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جس کے علم نے ساری خفیہ و پوشیدہ چیزوں کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے، اور وہ ذات جو چھوٹے سے چھوٹے معاملے کی، اور مخفی چیزوں کا علم رکھتی ہے، وہ ذات اپنے مومن بندوں کے ساتھ لطف و کرم کرتی ہے، اور وہ اپنے لطف و کرم سے مومن بندوں کی ساری مصلحتوں کو ایسے راستوں کے ذریعے ان تک پہنچاتی ہے، جس کا انہیں احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔

&"اللطیف&" وہ ذات جو بے پناہ نیکیاں، اور عظیم انعامات سے نوازنے والی ہے۔

&"اللطیف&" وہ اپنے بندوں کے ساتھ لطیف یعنی نرمی کا معاملہ کرنے والا ہے۔{اللہ تعالی اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے والا ہے۔}(الشوریٰ: 19)

وہ انہیں وہی چیز عطا کرتا ہے، جو ان کے دین و دنیا کے لئے بہتر ہو، اور انہیں اسی چیز سے محروم رکھتا ہے، جو ان کے دین و دنیا کے لئے بری ہو۔

&"اللطیف&" اس کو کسی کی نگاہ نہیں دیکھ سکتی ہے، اور وہ سب کی نگاہوں کو اپنے احاطے میں رکھے ہوئے ہے۔ {اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی، اور وہ سب کی نگاہوں کو محیط ہوجاتا ہے۔ }(الانعام: 103)

&"اللطیف&" وہ سارے خفیہ معاملات سے باخبر ہے، سارے دقیق کاموں کو اس نے اپنے علم سے گھیر رکھا ہے۔ رات اور دن میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے، وہ اپنے بندوں کے لئے چھوٹی سی چھوٹی اور بڑی سی بڑی مصلحت کی واقفیت رکھتا ہے، اور وہ ان کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ کرتا ہے۔

&"اللطیف&"جب بھی وہ کسی معاملے میں فیصلہ کرتا ہے، تو وہ اپنے بندوں کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ کرتا ہے۔ جب بھی کسی چیز کو مقدر کرتا ہے، تو اس میں بندوں کی معاونت کرتا ہے۔ جب بھی معاملات بگڑجاتے ہیں، اور راستے بند ہوجاتے ہیں، تو وہ ان کے لئے آسانیوں کا دروازہ کھول دیتا ہے، اور جب بھی دشواریاں بڑھ جاتی ہیں، تو وہ ان کے لئے سہولتیں پیدا کردیتا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی لطیف ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی فتّاح ہیں

یقیناً اللہ تعالی فتّاح ہیں ۔ ۔ ۔ {وہ فیصلے چکانے والا ہے اور دانا۔ }(سبا: 26)

&"الفتّاح&" وہ اپنے رحم و کرم سے ہمارے لئے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ۔ ۔

&"الفتاح&" ۔ ۔ ۔ وہ ذات جو بندوں کے درمیان اپنے شرعی احکام، تقدیر کے فیصلے، اور جزاء و سزا کے احکام نافذ کرتی ہے۔ وہ ذات جو اپنے لطف و کرم سے مخلصین کی آنکھیں کھولتی ہے، اور ان کے دلوں کو اپنی معرفت و محبت اور اپنے دربار کی طرف رجوع کرنے کے لئے کھولتی ہے۔ اپنے بندوں کے لئے ہمہ اقسام کے رزق اور رحمت کے کئی دروازے کھولتی ہے۔

اللہ تعالی جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس:{کا کوئی بند کرنے والا نہیں۔ }(فاطر: 2)

&"الفتّاح&" اللہ تعالی نے ہمارے اور آپ کے لئے برکت کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔ ۔ ۔ ہمیں اپنی عطاؤں اور کرم سے نوازا ہے ۔ ۔ ۔ اور ہم پر معافی و انعامات کی بارش برسائی ہے۔

اللہ تعالی کی ذات اُن دلوں کو ایمان و ہدایت کی کنجی سے کھولنے والی ہے، جو بند ہوجاتے ہیں۔

&"الفتاح&" وہ ذات اپنے رحمت کے دروازے کھولتی ہے، اور پھر رحمت کی بارش برساتی ہے۔ بندوں کے لئے علم و حکمت اوران کی عقول کے لئے دانائی سے پُر نور کرنے والے دروازے کھولتی ہے، اور پھر انہیں اس نور سے آرستہ کرتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی ذات دلوں کو ایمان کے لئے کھولتی ہے، اور پھر انہیں راہِ راست پر چلاتی ہے۔

&"الفتاح&" وہ ذات جو اپنے بندوں سے غم فرو کرتی ہے، ہر رنج سے چھٹکارہ دلاتی ہے، ہر پریشانی سے آرام پہنچاتی ہے، اور ہر نقصان کو دور کرتی ہے۔

&"الفتاح&" وہ ذات جو آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان انصاف کے دروازے کھولتی ہے۔ یقیناً وہ کارساز اور قابلِ ستائش ہے۔

یقیناً اللہ تعالی فتاح ہے ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی غنی و مغنی ہے

یقیناً اللہ تعالی غنی و مغنی ہے ۔ ۔ ۔

&"الغنی&" وہ اپنے آپ میں غنی ہے، اسی کے لئے مطلق و مکمل بے نیازی ہے۔ اس کی صفات و کمالات میں کسی بھی قسم کا کوئی نقص پیدا ہو نہیں سکتا، اور اس کے لئے بے نیاز ہونے کے علاوہ کچھ اور ہونا محال ہے؛ اس لئے کہ اس کی بے نیازی اس کی ذات کے لئے لازمی صفت ہے، جس طرح سے کہ اس کا خالق، رازق، قادر اور محسن ہونے کے علاوہ کچھ اور ہونا ممکن نہیں ہے۔ وہ کسی بھی شکل میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ بے نیاز ہے، اسی کے ہاتھ میں آسمان و زمین کے چابیاں ہیں، اور دنیا و آخرت کی کنجیاں ہیں۔ وہ اپنی ساری مخلوق کو عمومی طور پر بے نیاز بنانے والا ہے۔

&"الغنی&" وہ ذات اپنے بندوں سے بے نیاز ہے۔ وہ ان سے کھانا پینا نہیں مانگتا ہے۔ اس نے بندوں کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ اپنی ذات میں پائے جانے والی کمی کو ان سے پورا کرے، اور نہ اس لئے پیدا کیا کہ اپنی کمزوری کو ان سے تقویت پہنچائے، اور نہ اس لئے کہ اپنی وحشت کو دور کرنے کے لئے ان سے انسیت و محبت کرے؛ بلکہ بندے ہی اپنے کھانے پینے کے لئے، اور سارے معاملات کو حل کرنے کے لئے اسی کے محتاج ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔ }(الذاریات: 56-57)

&"المغنی&" وہ لوگوں کو ان کی ضرورتوں اور محتاجگی سے بے نیاز رکھتا ہے، وہ اپنی نوازشوں میں کمی نہیں کرتا ہے، اور نہ اس کے بندے اس کے علاوہ کسی اور کے محتاج ہیں۔ جیساکہ حدیثِ قدسی میں آیا ہے کہ:&"۔ ۔ ۔اگر تم میں سے پہلا اور آخری شخص، انسان اور جنات ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوجائیں، اور مجھ سے مانگیں، اور میں ان میں سے ہر ایک کی مراد پوری کردوں، تو اس سے میرے خزانوں میں بالکل اسی قدر کمی ہوگی، جس قدر سوئی کو سمندر میں ڈالکر نکالنے سے ہوتی ہے۔ ۔ ۔&" (اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

&"المغنی&" اپنے بعض بندوں کو ہدایت اور دلوں کے اخلاص سے بے نیاز کرتا ہے، بایں معنی کہ انہیں معرفت و محبت اور تعظیم و تکریم کی نعمت سے نوازتا ہے، اور دنیوی سدھار سے زیادہ کامل و مکمل چیزوں سے انہیں بے نیاز بنادیتا ہے۔

اے وہ ذات جس کی نوازشوں سے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ہمیں حرام سے بچاتے ہوئے حلال روزی سے بے نیاز بنادے، یقیناً تو خود بے نیاز ہے اور بے نیازی عطا کرنے والا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی غنی و مغنی ہے ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی مقیت ہیں

یقیناً اللہ تعالی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ ۔ ۔{اور اللہ تعالی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔} (النساء: 85)

&"المقیت&" وہ ذات جس نے ہر ایک مخلوق تک وہ چیزیں پہنچادی ہے، جن سے وہ اپنا پیٹ بھرتے ہیں، اس نے ہر ایک کو اس کا رزق عطا کردیا ہے، اور اپنی حکمت و مشیت سے جس طرح چاہے اس نے تقسیمِ رزق کے معاملے میں تصرف کیا ہے۔

&"المقیت&" وہ ذات جس نے تمام مخلوقات کو روزی بخشی، اور وہ چیزیں ان کے لئے پیدا کردیں، جس سے یہ مخلوقات زندہ رہتی ہیں؛ چنانچہ اس نے ایسی نوازشوں سے انہیں مالا مال کیا، جس سے وہ اپنی پیاس بجھاتے ہیں، اپنی بھوک مٹاتے ہیں، اور اپنی زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں۔

&"المقیت&" وہ ذات جو طرح طرح کے علم و معرفت سے دلوں کو قوت بخشتی ہے، پھر اس سے روحوں کو تازگی پہنچتی ہے، اور انسانی ضمیر کھل جاتے ہیں۔

اے وہ ذات جو اپنے مخلوقات کے احوال و کوائف کی ذمہ دار ہے، اور ان کے معاش و معاد کی تدبیر کرتی ہے ۔ ۔ ۔ ہم تجھ سے تیری حفاظت و سلامتی، معافی اور عافیت کے طلبگار ہیں۔ {اور اللہ تعالی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ } (النساء: 85)

یقیناً اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہیں۔ ۔ ۔


اللہ تعالی حسیب و کافی ہے

یقیناً اللہ تعالی حسیب و کافی ہے۔ ۔ ۔

اللہ تعالی اپنی مخلوق کا کارساز ہے۔ ۔ ۔ اور ان کے لئے ہر چیز سے کافی ہے۔ ۔ ۔ {کیا اللہ تعالی اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔ } (الزمر: 36)

&"الحسیب&" ۔ ۔ ۔وہ ذات جو اپنے بندوں کو بھلائی و برائی پر اپنی حکمت و علم کی بنیاد پر ہر چھوٹی بڑی چیز پر بدلہ دینے والی ہے۔

ہمارے لئے اللہ تعالی ہی کافی ہیں، اور وہ کیا ہی بہترین کارساز ہے۔ ۔ ۔ اس جملے کو اللہ کے دوست حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس وقت کہا جب وہ آگ میں پھینکے جارہے تھے؛ تو آگ ان کے لئے سلامتی والی اور ٹھنڈی بن گئی، اور اسی جملے کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اس فرمانِ الہی میں ذکر کیا ہے:{کافروں نے تمہارے لئے مقابلے پر لشکر جمع کرلئے ہیں۔ } (آل عمران: 173)

تو صحابہ نے کہا:{ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ [نتیجہ یہ ہوا کہ] اللہ کی نعمت و فضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہیں پہنچی، انہوں نے اللہ تعالی کی رضامندی کی پیروی کی۔ }(آل عمران: 173- 174)

اللہ تعالی اپنے بندوں کا حساب لینے والا ہے۔ ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے والا ہے، پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دینے والا ہے، اور اپنے کئے دھرے کے مطابق اگر اعمال اچھے ہوں تو اچھا، اور اگر برے ہوں تو برا بدلہ ملنے والا ہے۔ {اور وہ بہت جلد حساب لے گا۔ }(الانعام: 62)

&"الحسیب&" وہ اپنے مخلوق کی خفیہ و ظاہری چیزوں کو مکمل باریکی کے ساتھ اپنے احاطہ علم میں رکھے ہوئے ہے۔

&"الکافی&" وہ اپنے بندوں کے لئے ان کی ضرورتوں اور پریشانیوں سے کافی ہے، اور اس کی ذات پر ایمان رکھنے والے، اس پر بھروسہ کرنے والے، نیز اپنی دینی و دنیوی ضرورتوں میں اس سے مدد مانگنے والوں کے لئے وہ خصوصی طور پر کافی ہے۔

اے پروردگار، اے کافی ذات ہماری پریشانیوں سے ہمارے لئے کافی ہوجا، ہمیں ہدایت و رہبری کی دولت سے نوازدے، اور اے کریم ذات ہمیں بکثرت خیر و بھلائی کی طرف بڑھنے والا بنادے۔ {دراصل حساب لینے والا اللہ تعالی ہی کافی ہے۔ }(النساء: 6)

یقینا اللہ تعالی حسیب و کافی ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی مبین ہیں

یقیناً اللہ تعالی ظاہر و باہر ہیں۔ ۔ ۔ {اللہ تعالی ہی حق ہے، [اور وہی] ظاہر کرنے والا ہے۔ } (النور: 25)

اے وہ ذات جو ظاہر و باہر ہے ۔ ۔ ۔ ہمارے لئے حق کا راستہ کہاں ہے۔ اے پروردگار باطل و غلط راستے سے ہمیں حق راستے پر چلاتے ہوئے محفوظ رکھ ۔

اللہ تعالی ہر حق کو ظاہر کرنے والا اور ہر حقیقت کو کھولنے والا ہے، اور اسی وقت سارے شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے۔

اللہ تعالی اپنی وحدانیت کے معاملے میں واضح و ظاہر ہے، اور یہ بات بھی یقینی طور پر واضح ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

&"المبین&" اپنے جود و کرم، اپنے وجود اور اپنی بادشاہت کے لئے اس نے بندوں کے لئے جو حسی و باطنی، اور معنوی دلائل مہیا کئے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

&"المبین&"

وہ ذات جس نے رسول کو کتاب کے ساتھ بھیجتے ہوئے بندوں کے لئے راہِ حق واضح کردی۔ {تمہارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے۔ }(المائدۃ: 15)

اللہ تعالی کی ذات وہ ہے جو بندوں کے لئے خوش بختی کی راہ دکھاتی ہے، اور خوش بختی کو اپنی اطاعت و وحدانیت سے جوڑتی ہے۔

یقیناً اللہ تعالی مبین ہیں۔


اللہ تعالی قدیر، مقتدر اور قادر ہے

یقیناً اللہ تعالی قدیر، مقتدر اور قادر ہے۔ ۔ ۔ {اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ }(البقرۃ: 284 )

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:{راستی اور عزت والی بیٹھک میں قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ }(القمر: 55 ) ، {آپ کہئے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے۔ }(الانعام: 65)

&"القدیر&"۔ ۔ ۔ وہ مکمل قدرت والی ذات ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے تمام کائنات کو وجود بخشا۔ اپنی ہی قدرت سے اس نے کائنات کی تدبیر کی۔ قدرت ہی سے اس نے کائنات کو مضبوط و مستحکم بنایا۔ وہ قدرت ہی سے مارتا اور جِلاتا ہے۔ مرنے کے بعد بدلہ دینے کے لئے دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ نیکوکار کو اس کی نیکیوں کا، اور بدکار کو اس کی بدکاری کا بدلہ دیتا ہے۔ وہ ذات ہے جو جب کسی چیز کو وجود بخشنے کا ارادہ کرتی ہے، تو اس سے کہتی ہے &"ہوجا&"، تو وہ ہوجاتی ہے۔ اپنی قدرت ہی سے وہ دلوں کو پلٹتا ہے، اور جس طرح چاہتا ہے اس طرح دلوں کو پھیرتا ہے۔

&"المقتدر&" وہ مضبوط طاقت و قوت والا ہے، اور وہ جس طرح جو چاہتا ہے، اس پر قدرت رکھتا ہے۔

&"القادر&" وہ مکمل قدرت والا ہے، زندگی اور موت اسی نے بخشی ہے، ساری کائنات کو اسی نے وجود میں لایا ہے، وہی ان کی تدبیر کرتا ہے، اور ان کو مستحکم بناتا ہے۔

&"القدیر&" وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے، اور اپنی قدرت سے وہ لوگوں کو بدلہ دیتا ہے، اور جس طرح چاہتا ہے، دلوں کو پھیرتا ہے۔

&"القادر&" وہ مکمل قدرت رکھنے والا ہے، اور اس کامل و مکمل قدرت میں کسی بھی قسم کا نقص یا کمی نہیں ہے۔

&"القادر&" وہ ذات جو اپنی مخلوق میں سے جس کے لئے جو چاہے تدبیر کرتی ہے۔ یہ بھی اس کے کمالِ قدرت اور علمی احاطے میں شامل ہے۔

یقیناً اللہ تعالی قدیر، مقتدر اور قادر ہے۔ ۔ ۔


اللہ تعالی وارث ہیں

یقیناً اللہ تعالی وارث ہیں ۔ ۔ ۔ {ہم ہی جِلاتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی [بالآخر] وارث ہیں۔ } (الحجر: 23)

&"الوارث&" وہ ذات جو زمین اور اس پر بسنے والی ساری کائنات کی وارث و حقیقی مالک ہے، اور اس کے علاوہ کوئی چیز باقی رہنے والی نہیں ہے۔

&"الوارث&" وہ اپنی مخلوق کے فناء ہوجانے کے بعد باقی رہنے والی ہے، کیونکہ اس کی بادشاہت کامل و مکمل ہے، اور دنیا کی ساری بادشاہتیں اسی کی محتاج ہیں۔

&"الوارث&" وہ اپنے بندوں کو اس کی راہ میں خرچ کرنے پر ابھارتا ہے؛ کیونکہ مال و دولت ایک عارضی چیز ہے، اور عمر ختم ہونے والی ہے، اور انجام کار حقیقی مالک اللہ تعالی کی طرف لوٹ آنا ہے۔

&"الوارث&" وہ اپنے بندوں کو اس کی ناشکری سے باز رکھتا ہے؛ کیونکہ نعمت کا محور وہی ہے، اور اسی کے دربار سے نعمتیں بٹتی ہیں۔

&"الوارث&" زمین اور اس پر پائی جانے والی ساری چیزوں کا وہ مالک ہے، اور زمین پر رہنے والی ساری چیزیں ختم ہونے والی ہیں، اور اسی کی ذات باقی رہنے والی ہے۔ {اور ہم ہی ہیں آخر سب کچھ کے وارث۔ }(القصص: 58)

یقیناً اللہ تعالی وارث ہیں۔ ۔ ۔


اللہ تعالی سمیع و بصیر ہیں

یقیناً اللہ تعالی سمیع و بصیر ہیں ۔ ۔ ۔

اے سننے والی ذات ہماری دعائیں سن لے، اور ہماری پکار قبول کرلے؛ یقیناً تو ہمارے اعمال، ہماری کوتاہیاں، اور ہماری تیری ایک ذات کے محتاج ہونے سے باخبر ہے۔

&"السمیع البصیر&" ۔ ۔ ۔ وہ آپ کی باتیں سنتا ہے، لہذا اپنے آپ کا محاسبہ کرو۔ وہ آپ کی دعائیں سنتا ہے، لہذا اپنے رب کے سامنے گریہ و زاری کرتے رہو، اور وہ تمہارے اعمال سے با خبر ہے، اور کوئی چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے؛ لہذا اچھے اعمال کرو، کیونکہ اللہ تعالی اچھے اعمال کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔

&"اللہ تعالی سمیع ہیں&" وہ ذات ہر پست و بلند آواز سنتی ہے، اس کو ایک آواز دوسری آواز سے، اور ایک مانگنے والا دوسرے مانگنے والے سے بے خبر نہیں کرتا ہے۔

&"اللہ تعالی بصیر ہیں&" ہر چھوٹی یا بڑی، یا رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں ہر چیز کو وہ دیکھتے ہیں۔

&"السمیع&" مختلف زبانوں اور مختلف ضرورتوں پر مبنی باتوں کو وہ سنتے ہیں۔

&"البصیر&" سنسان چٹان پر کالی رات میں کالی چیونٹی کے چلنے کی آواز بھی وہ دیکھتے ہیں، وہ سات زمینوں کے نیچے رہنے والی چیزوں کو بھی دیکھتے ہیں، اور اسی طرح سات آسمانوں کے اوپر والی چیزوں کو بھی وہ دیکھتے ہیں۔

&"السمیع البصیر&" اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، اور نہ وقوع پذیر ہونے والی کوئی بھی چیز اس سے مخفی ہے۔

یقیناً اللہ تعالی سمیع و بصیر ہے ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی شاکر و شکور ہیں

یقیناً اللہ تعالی نوازنے والا قدر دان ہے۔ ۔ ۔

یقیناً اللہ تعالی قدرداں ہے۔ ۔ ۔ {اللہ قدردان اور انہیں خوب جاننے والا ہے۔ }(البقرۃ: 158) ،

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:{بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے۔ }(فاطر: 34)

وہی اللہ کی ذات ہے جو چھوٹے سے چھوٹے عمل کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہے، بڑی بڑی خطاؤں کو درگذر کرتا ہے، اور اخلاص رکھنے والوں کے اعمال بلا حساب کئی گنا بڑھاتا ہے۔

&"اللہ تعالی قدر دان ہیں&" اس کا شکر بجالانے والوں پر نوازشیں نچھاور کرتا ہے، مانگنے والوں پر فضل و کرم کرتا ہے، اس کی یاد میں رہنے والوں کو خود یاد کرتا ہے۔ شکرگذار کے لئے مزید نعمتیں ہیں، اور ناشکرے کے لئے مزید خسارہ و نقصان ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اگر تم شکرگزاری کروگے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کروگے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔ }(ابراھیم: 7)

یقیناً اللہ تعالی نوازنے والے قدرداں ہیں ۔ ۔ ۔


اللہ تعالی مجید، کبیر، عظیم اور جلیل ہیں

یقیناً اللہ تعالی مجید، کبیر، عظیم اور جلیل ہیں۔ ۔ ۔

یقیناً اللہ تعالی کی ذات کبریائی و بزرگی، اور عظمت و جلال کی صفات سے متصف ہے۔ وہ ہر چیز سے بڑا، ہر چیز سے عظیم، اور ہر چیز سے اعلی و بلند ہے۔ اس کے اولیاء و مقرب بندوں کے دلوں میں اسی کے لئے تعظیم و اکرام ہے، یقیناً ان کے دل اس کی عزت و اکرم کے جذبے سے سرشار ہیں، اور اس کی کبریائی کے سامنے سر بسجود کھڑے ہونے کے خواہاں ہیں۔

اے عظیم ذات تو کتنا ہی زیادہ پاک ہے، اور تیری عظمت کتنی ہی زیادہ بلند و بالا ہے۔ {پس تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔ }(الواقعۃ: 96)

ہم تیری تعریف، اور تیری عظمت و جلال کا احاطہ نہیں کرسکتے ہیں۔ اے بڑی و بلند ذات ۔ ۔ ۔ اے عزت و جلال والی ذات۔

وہ پاک ذات اپنی بلند صفات میں عظمت والی ہے، اور وہ اپنے اسماء و صفات میں عظیم ہے۔ {اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ }(الشوریٰ: 11)

وہ عزت و جلال والا ہے، جو کوئی اس میں سے کسی چیز میں اللہ تعالی سے جھگڑا کرے، تو اللہ تعالی اس کو ذلیل و خوار کردیں۔ جیساکہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:&"کبریائی میری چادر ہے، اور عظمت میرا تَہ بَند ہے۔ اگر ان دو میں سے کسی ایک میں بھی کوئی مجھ سے جھگڑا کرے، تو میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا&"(اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے)

یقیناً اللہ تعالی مجید، کبیر، عظیم اور جلیل ہیں۔ ۔ ۔


اللہ تعالی علی، اعلی اور متعال ہے

یقیناً اللہ تعالی بلند و بالا اور برتر ہے۔ ۔ ۔

&"اللہ تعالی بلند و بالا اور برتر ہے ۔ ۔ ۔ ہر طرح کی بلندی: ذاتی، قدرت وصفات کی بلندی، اور غلبہ و قدرت کی بلندی صرف اسی کے لئے ہے۔ {وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ }(البقرۃ: 255)

وہ عرش پر قائم ہے، وہ عظمت و کبریائی، جلال و جمال، اور غایتِ کمال کے ساتھ موصوف ہے، اور یہ ساری چیزیں اسی پر ختم ہیں۔

&"العلی الاعلیٰ&" وہ ہر اس عیب سے بلند و بالا ہے، جو اس کے شایانِ شان نہیں، اور ہر نقص اور شبہ سے دور ہے۔ وہ اپنی ذات و صفات، اور اپنی قدرت کے ذریعے بلند و بالا ہے، یقیناً اس کی ذات بلند و برتر ہے۔

یقیناً اللہ تعالی علی و اعلی اور بلند و برتر ہے۔ ۔ ۔


اللہ تعالی تنگی اور کشادگی عطا کرنے والا ہے

یقیناً اللہ تعالی تنگی اور کشادگی عطا کرنے والا ہے۔ ۔ ۔

&"اللہ تعالی قابض ہیں&" وہ کچھ قوموں کے لئے رزق میں تنگی پیدا کرتا ہے، تاکہ انہیں آزمائے، کچھ دیگر قوموں سے رزق روک لیتا ہے، تاکہ انہیں مغلوب کرے، اور کچھ قوموں کا رزق محفوظ رکھتا ہے، تاکہ ان کے درجات بلند کرے۔

&"اللہ تعالی باسط ہیں&" اللہ تعالی رزق میں کشادگی پیدا کرتا ہے، اور دلوں کی معرفت میں بھی کشادگی پیدا کرتا ہے۔ اور یہ سب اس کی حکمت و رحمت، اور جود و کرم کے تقاضوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

یقیناً اللہ تعالی تنگی و کشادگی پیدا کرنے والا ہے۔ ۔ ۔


اللہ تعالی دینے اور چھیننے والا ہے

یقیناً اللہ تعالی دینے اور چھیںنے والا ہے ۔ ۔ ۔

&"اللہ تعالی معطی و مانع ہے&" جس کو اللہ تعالی عطا کردے، تو کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے، اور جس کو دینے سے وہ باز رہے، تو کوئی اس کو دینے والا نہیں ہے۔ ساری مصلحتیں اور منافع اسی سے طلب کئے جاسکتے ہیں، اور اسی کی طرف سے یہ ساری چیزیں بٹتی ہیں، اور وہی ذات ہے جس کو چاہے یہ چیزیں عطا کرتی ہے، اور اپنی حکمت و رحمت کی بنیاد پر جس سے چاہے، روک لیتی ہے۔

ساری تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں۔ وہ اسی طرح ہے جس طرح خود اس نے اپنی وصف بیانی کی ہے، اور وہ مخلوق کی وصف بیانی سے بہت بلند و بالا ہے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ

اے کشادگی پیدا کرنے والی ذات ہم پر اپنی رحمتوں کو کشادہ کردے، ہمیں اپنی نوازشوں سے نوازدے، اور اے روکنے والی ذات ہم سے برائیوں کو روک لے، اور اے منع کرنے والی ذات ہم سے شرور و فتن کو دور کردے۔

یقیناً اللہ تعالی دینے اور چھیننے والا ہے۔ ۔ ۔