اللہ تعالی پر ایمان لانے کا مفہوم اور اس کی حقیقت1

اللہ تعالی پر ایمان لانے کا مفہوم اور اس کی حقیقت1

اللہ تعالی پر ایمان لانے کا مفہوم اور اس کی حقیقت

سچا ایمان روح کی غذاء اور خوشی کا ساماں ہے

دلی سکون صرف اللہ تعالی پر ایمان لانے سے میسر ہوتا ہے، اور ایمان نہ رکھنے والا دل سدا ڈر و خوف میں مبتلا رہتا ہے، کمزوری اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے، اور کبھی اس کو قرار نہیں ملتا ہے۔ وہ ایمان جس سے انسان کو نجات ملتی ہے وہ اللہ کی ذات پر یقین ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ سچے دل کے ساتھ یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالی ہر چیز کا پروردگار ہے، وہی اس کا مالک و خالق ہے، وہی تنہا اس بات کا مستحق ہے کہ اسی کے لئے نماز و روزہ رکھا جائے، دعاء و دواء کے لئے اسی کو پکارا جائے، امید و بیم اور خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کی جائے۔ وہی ساری باکمال صفات سے متصف ہے، اور ہر کمی و عیب سے پاک ہے۔

اللہ تعالی پر ایمان لانے میں اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن، اور اچھی و بری تقدیر پر ایمان لانا بھی شامل ہے۔ یہی ایمان انسان کی سعادت و خوش نصیبی کا اہم محور ہے، بلکہ مومن کے لئے یہ دنیا میں ملنے والی جنت ہے، اور اس کا انجام ان شاء اللہ تعالی آخرت میں ملنے والی جنت پر ہوگا۔

اللہ تعالی کی ذات پر ایمان: انصاف، آزادی، علم و معرفت، ہدایت، راحت و سکون اور روحانی اطمینان کی طرف لیجانے والا نور ہے

شريعت ميں:ايمان دل سے اعتقاد، زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل كا نام ہے، جو اطاعت سے ز?ادہ اور نافرمان? سے كم ہوتا ہے.

جب یہ بات معلوم ہوگئی، تو اب یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ کے دربار میں عمل کے قبولیت کی بنیاد ایمان ہے؛ اس لئے کہ اللہ تعالی نے فرمایا:{پھر جو بھی نیک عمل کرے، اور وہ مومن (بھی) ہو } (الانبیاء: 94)

ایمان کی اہمیت و فضیلت

اللہ کے ہاں سب سے افضل و پاک عمل ایمان ہے، چنانچہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا:&"اے اللہ کے رسول: کونسا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے کہا: اللہ تعالی کی ذات پر ایمان رکھنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا&" &"(اس حدیث کو امام مسلم نےروایت کیا ہے)

ایمان دنیوی و اخروی سعادت و ہدایت کا ذریعہ ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:{سو جس شخص کو اللہ تعالی راستے پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے }(الانعام: 125)

ایمان مومن کو گناہوں سے دور رکھتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{یقینا جو لوگ ایمان ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔}(الاعراف: 201)

ایمان عمل کے قبولیت کی شرط ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{یقینا تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے ( کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلا شبہ تیرا عمل ضائع ہوجائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا۔ }(الزمر: 65)

سچے ایمان سے اللہ تعالی عمل میں برکت پیدا کرتے ہیں اور دعاؤں کو قبولیت سے نوازتے ہیں۔


ایمان کے نتائج

اللہ تعالی فرماتے ہیں:{کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی نے پاکیزہ بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی، مثل ایک پاکیزہ درخت کے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں۔ جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت اپنے پھل لاتا ہے۔ }(ابراھیم: 24 – 25) ، ایمان سے حاصل ہونے والے کچھ درجِ ذیل ثمرات:

1-سچا ایمان نفسیاتی راحت و سکون اور انشراحِ صدر کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالی کے درجِ ذیل قول کا مصداق یہی ہے:{یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں }(یونس: 62)

2-مومنوں کو اللہ تعالی کی خصوصی معیت نصیب ہوتی ہے، یعنی ایمان مومنوں کو کفر و شرک کی تبارہ کاریوں سے ایمان و ثواب کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔

3-اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی اور وہ جنت ملتی ہے، جس کا سچا ایمان رکھنے والوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{ان ایمان دار مردوں اور عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وہ ہمشیہ ہمیش رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزہ محلات کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے، یہی زبردست کامیابی ہے۔ }(التوبۃ: 72)

4-اللہ تعالی اپنے دوستوں، اپنی جماعت اور اپنے محبوب مومن بندوں کا دفاع کرتا ہے:{سن رکھو یقینا سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالی ہٹادیتا ہے۔}(الحج: 38)

اسی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ ہجرت کے اوقات میں دفاع کیا، اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کا اس وقت دفاع کیا، جبکہ وہ آگ میں ڈالے جاچکے تھے۔

5- دین میں بلندی و امامت نصیب ہوتی ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا:{اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے۔ }(السجدۃ: 24)

دیندار اور اللہ پر یقین رکھنے والوں کی امامت کی سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے ذکر کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھ دیا، اور ان کے کارناموں کو زندہ جاوید بنادیا، جبکہ وہ لوگ مٹی میں سوئے ہیں اور ان کے جسم ناپید ہوچکے ہیں، لیکن ان کی باتیں اور ان کی زندگی کے حالات آج تک باقی ہیں۔

اللہ تعالی پر ایمان رکھنا کمزور انسان اور اس کے پروردگار کے درمیان ایک رشتہ ہے، اور اسی طرح طاقتور انسان اسی ایمان سے اپنے آپ کو تقویت پہنچاتا ہے۔

6-مومنوں کو ملنے والی اللہ تعالی کی محبت، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{جو اللہ کی محبوب ہوں گے اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتے ہوں گے۔ }(المائدۃ: 54)

اور اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا کہ:{بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کئے ہیں ان کے لئے اللہ رحمٰن محبت پیدا کردے گا۔ }(مریم: 96)

7-دنیا و آخرت میں خوشگوار زندگی، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔ }(النحل: 97) ، بہتر زندگی اور خوش نصیبی کی تلاش کرنے والے کہاں ہیں؟

ایمان کے بناء زندگی یقینی موت ہے ۔ ۔ ایمان کے بناء آنکھ اندھی ہے ۔ ۔ ایمان کے بناء زبان گونگی ہے ۔ ۔ ایمان کے بناء ہاتھ مفلوج ہیں ۔ ۔

8 -مومن اور اللہ تعالی کے درمیان پیدا ہونے والی دو طرفہ محبت، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{جو اللہ کی محبوب ہوں گے اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتے ہوں گے۔} (المائدۃ: 54) ، یعنی اللہ تعالی ان سے محبت کرتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کرتا ہے۔

9-ایمان والوں کو اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والی عزت کی خوشخبری، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے۔ }(التوبۃ: 112)

خوشخبری صرف بڑی بڑی چیزوں کی ہوتی ہے، جس کا اثر واضح طور پر چہرے پر نظر آتا ہے، اسی لئے اس کا نام بشارت یعنی خوشخبری رکھا گیا ہے، اور اللہ تعالی کی رحمت و خوشنودی اور جنت سے بڑھ کر کوئی اور چیز بڑی نہیں ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور ایمان والوں کو اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبریاں دو، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ }(البقرۃ:25)

10-ایمان ثابت قدمی کا اہم وسیلہ ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{وہ لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابل پر لشکر جمع کرلئے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھادیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ }(آل عمران: 173) ، ثابت قدمی کی سب سے واضح دلیل انبیاء، صحابہ، تابعین اور ان کے پیروکاروں کے وہ کارنامے ہیں، جن کو تاریخ نے محفوظ رکھا ہے۔

11-نصیحتوں سے سبق حاصل کرنا، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور نصیحت کرتے رہیں یقینا یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی } (الذاریات: 55) ، چنانچہ نصیحت صرف اور صرف مومن ہی حاصل کرتے ہیں۔

12-ہر حال میں مومن کے لئے خیر کا فیصلہ کیا گیا ہے، چنانچہ تنگی اور خوشحالی دونوں حالتوں میں خیر مومن کا ساتھی و مددگار ہوتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:&"مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے، کہ اس کی ہر چیز میں خیر رکھا گیا ہے، اور مومن کے علاوہ کسی کو یہ شرف حاصل نہیں ہے۔ اگر مومن کو کوئی خوشی پہنچے، اور وہ شکر ادا کرے، تو یہ اس کے لئے خیر ہے، اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس تکلیف پر صبر کرلے، تو یہ بھی اس کے لئے خیر ہی کا ضامن ہے۔&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے) ، ایمان بندے کو مصیبتوں میں صبر اور راحتوں میں شکر کا عادی بناتا ہے۔

13-مومن کبیرہ گناہوں سے دور رہتا ہے، چنانچہ صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول مروی ہے کہ:&"کوئی زانی وقتِ زنا حالتِ ایمان میں نہیں ہوتا ہے ۔ ۔&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے) ، یہ ایمان کے بیش بہا اور عظیم نتائج ہیں، تو خوش بختی، دلی سکون اور راحت کی متلاشی کہاں ہیں؟

ایمان کے اثرات:

اللہ تعالی پر ایمان رکھنا یقینی زندگی ہے ۔ ۔ اور اللہ تعالی کے ساتھ زندگی گذارنا یقینی طور پر ایمان ہے۔

مومن کی زندگی پر پڑنے والے ایمان کے اثرات:

1-مومن کے دل میں یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ زیادہ شریعتِ مطہرہ کی پیروی کرے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ: {ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ان میں فیصلہ کردے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ }(النور: 51) ، ایمان بندے کو اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرنے اور اس کی فرمانبرداری کرنے میں پہل کرنے کا عادی بناتا ہے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں:{سو قسم ہے تیرے پروردگار کی، یہ مومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں، ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔ }(النساء: 65) ، بلکہ ایمان تو بندے کو اللہ تعالی کے احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے اور اس سے راضی رہنے پر ابھارتا ہے۔

2-اللہ تعالی بندے کو شرکِ جلی اور شرکِ خفی سے محفوظ رکھتے ہیں، اسی کی ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو اپنا مددگار نہیں بناتا ہے، اور نہ اس کےعلاوہ کسی سے کچھ مانگتا ہے؛ کیونکہ نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ عز و جل کی ذات گرامی ہے:{اور اگر تجھ کو اللہ تعالی کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالی کے اور کوئی نہیں ہے۔ }(الانعام: 17)

اے ایمان والو ایمان لے آؤ، اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو ایمان کی دعوت دی، اور اس پر ابھارا، کیونکہ ایمان کا مقام و مرتبہ بہت اونچا ہے۔

3-اللہ کے لئے محبت اور اللہ ہی کے لئے نفرت رکھنا: یہ ایمان کی سب سے مضبوط رسّی ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ }(الحجرات: 10)

اس بھائی چارگی کی سب سے زیادہ واضح دلیل انصاری صحابہ اور مہاجرین کے درمیان پیدا ہونے والی بھائی چارگی، اور انصاری صحابہ کا اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے اپنا جان و مال خرچ کرنے کا جذبہ ہے۔ یقینا رسولِ معصوم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&"اُس وقت تک کوئی شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہ سب کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

4-اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے کے درمیان صبر و تحمل سے کام لینا، اور اس کو راضی کرنے کے لئے اپنی ہر عمدہ و قیمتی چیزوں کو خرچ کرنا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر - پکا - ایمان لائیں پھر شک و شبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، - اپنے دعوائے ایمان میں – یہی سچے اور راست گو ہیں۔ }(الحجرات: 15)

5-اللہ کی ذات، اس کی طرف سے کئے ہوئے وعدے، اللہ کے پاس ملنے والی نعمتوں اور سعادتوں سے دل کا مربوط ہونا: چنانچہ مومن بندے کے لئے دنیا میں ملنے والی جنت، ایمان اور خدائے رحمان کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ وہ تو اللہ آخرت کی اُس جنت کا متمنی ہوتا ہے، جس کا اللہ تعالی نے اس سے وعدہ کیا ہے، بلکہ وہ تو خود کو پہنچنے والی ہر مصیبت و تکلیف اور مشقت پر اللہ تعالی کی طرف سے ثواب کی امید رکھتا ہے، اور اس کا یقین ہوتا ہے کہ ان مصبیتوں پر صبر کرنے پر ملنے والا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں، اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں، یہ اس سبب سے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو تکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لئے موجبِ غیظ ہوا ہو اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی، ان سب پر ان کے نام - ایک ایک – نیک کام لکھا گیا۔ یقینا اللہ تعالی مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ }(التوبۃ: 120-121)

یہ سارا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے، جو اللہ تعالی کی ذات پر ایمان رکھتے ہیں ، اور صدقِ دل سے اس کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔

6-اللہ تعالی اور اس کے رسول کی دوستی مقدر ہوتی ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{(مسلمانو!) تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور وہ رکوع (خشوع و خضوع) کرنے والے ہیں۔ }(المائدۃ: 55)

اور اللہ تعالی کی دوستی کا مطلب اس کی محبت، اپنے دین کی نصرت، اپنے دوستوں سے محبت اور مخالفین یعنی اللہ کے دشمنوں سے براءت ہے، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبے (قبیلے) کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالی نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا، جن کی نیچے نہریں بَہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں، یہ خدائی لشکر ہے، آگاہ رہو بیشک اللہ کے گروہ والے ہی کامیاب لوگ ہیں۔ }(المجادلۃ: 22)

بلکہ مومن تو اللہ تعالی، اس کے رسول اور دیگر مومنوں کا ہی دوست ہوتا ہے، اور کبھی کسی کافر کو ہرگز اپنا دوست نہیں بناتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ }(آل عمران: 28)

7-مومن کا اعلی معیاری اخلاق والا ہونا۔ یقینا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:&"حیاء اور ایمان دونوں ایک ساتھ ملے ہوئے ہیں، جب ان میں سے کوئی ایک چیز ختم ہوجاتی ہے، تو دوسری چیز بھی خود بخود ختم ہوجاتی ہے&"(اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے)

حسنِ اخلاق کا سب سے بڑا مظہر حیاء ہے۔ چنانچہ مومن بندہ اپنے بھائیوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے، تاکہ وہ مسائل و مشاکل اور لڑائی جھگڑوں سے خالی دنیوی زندگی گزارے ۔ ۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مومن ہے، اور یہ صرف مومن ہی کی شان ہے۔

8-حقیقی خوش بختی اور دلی سکون؛ جس سے کہ مومن بندے میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ سعادت و راحت کی دنیوی جنت میں جی رہا ہے؛ کیونکہ اس کا پروردگار ایک اللہ ہے، اس کا نبی ایک محمد بن عبداللہ ہے، اس کے لئے ایک ہی راستہ یعنی اللہ کی خوشنودی کی جستجو ہے، اور اس کا واحد مقصد آسمان و زمین کی چوڑائی رکھنے والی جنت کا حصول ہے۔

آپ اپنے دائیں بائیں نفسیاتی مریضوں کے کئی ہسپتال دیکھتے ہیں، جن میں مریضوں کی تعداد بھری پڑی ہوتی ہے۔ آپ لوگوں سے ان کی دکھ بھری داستان، تکالیف، پریشانیاں، نیند کی کمی، اوہام و خیالات کے واقعات جب بھی سنتے ہیں، تو آپ یہ یقین کرلیں کہ ان سب کی وجہ صرف اور صرف اللہ تعالی سے دوری، دنیا سے لگاؤ اور اس کے پیچھے بھاگنا ہے، کیونکہ مادہ پرستی روحانیت پر غالب آچکی ہے، اور انسان کو روحانی غذاء کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ روحانی غذاء صرف اللہ سے لَو لگانے، اس کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے، ہمیشہ اس کی یاد میں غرق رہنے، فرشتوں پر، اللہ کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اچھی و بری اور میٹھی و کڑوی تقدیر پر ایمان رکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دل کے علاج سے، قلبی راحت سے، اور دنیا میں ملنے والی جنت سے غافل رہتے ہوئے فانی دنیا کے ساز و سامان کے پیچھے بھاگے چلے جارہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نہ اپنی مراد کو پاتے ہیں، اور نہ وہ دنیوی راہ میں سِرے سے سکون حاصل کرپاتے ہیں۔

روحانیت کو صرف ایمان سے سیراب کیا جاسکتا ہے، اس لئے کہ روح اللہ تعالی کے پاس سے ملی ہوئی نعمت ہے، اور جسم کو تو اللہ تعالی نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ جب بھی آپ اپنی روحانیت کو سیراب کرلیں گے، تو آپ اپنے آپ کو بلندی کی طرف گامزن پائیں گے، آپ کو سکون و اطمینان نصیب ہوگا، اور گندی و گھٹیا چیزوں سے آپ کے دل میں کراہت پیدا ہوجائے گی۔ اور جب بھی آپ روحانیت سے کنارہ کشی کریں گے، تو آپ مادہ پرستی و حیوانیت کی طرف بڑھنے لگیں گے، آپ تنگئ نفس اور پریشانیوں کے شکار رہیں گے، اور ان پریشانیوں کے سامنے آپ کی دنیا تاریک ہوجائے گی۔


خدا کی پہچان کروانے والے رسولوں پر ایمان لانا

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو یونہی بلامقصد نہیں پیدا کیا ہے، اور نہ انہیں یونہی بیکار چھوڑا ہے، چنانچہ اللہ نے بندوں کے پاس اپنے رسول بھیجے، جو اُن کو اپنے رب کی عزت و عظمت اور اس کی شریعت سے روشناس کرواتے ہیں۔ اللہ تعالی نے انسانوں میں سے ہی کئی رسول بندوں کے پاس بھیجے ۔ ۔ ۔ حضرت نوح، ابراھیم، موسی اور عیسی علیھم السلام کو بھیجا، اور رسالت کے سلسلے کو افضل الرسل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مہر بند کیا۔ ان رسولوں کے ساتھ ان کی سچے ہونے کی ساری نشانیاں بھی نازل کیں۔ رسولوں نے خود کو دی ہوئی امانت کا حق ادا کیا، اپنا پیغام پہنچایا، اور بندوں کو ان کے پروردگار و خالق سے روشناس کروایا۔ اب جو ان رسولوں کی رسالت اور ان کے سچے ہونے پر ایمان نہیں لاتا ہے، وہ یقینی طور پر اللہ تعالی پر بھی ایمان رکھنے والا نہیں ہے؛ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالی کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے، یہ سب اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ } (البقرۃ: 285)

چونکہ یہ انبیاء اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے مبلغ ہیں، اس لئے ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ: {اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے۔ }(البقرۃ: 285)

اللہ تعالی نے رسولوں کے ساتھ کتابیں بھی نازل کیں، تاکہ انسانوں کے لئے یہ کتابیں نور و ہدایت ہوں، چنانچہ اللہ تعالی نے ابراہیم کے ساتھ صحیفے نازل کئے، داؤد کے ساتھ زبور، موسی کے ساتھ تورات، عیسی کے ساتھ انجیل، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا معجزانہ کلام قرآن کریم نازل کیا؛ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے۔ }(ھود: 1)

اللہ تعالی نے قرآن کریم کو نور و ہدایت، برکت اور برہان بناکر نازل کیا ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیر و برکت والی، سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو۔ }(الانعام: 155)

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آ پہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتاردیا ہے۔ }(النساء: 174)

اللہ تعالی نے خاتم الانبیاء و افضل البشر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور آپ کی رسالت پر ایمان لانے کو کلمہ شہادت &"اشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا رسول الله&" میں اپنی وحدانیت پر ایمان لانے کے ساتھ جوڑدیا ہے۔ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے، اور اسی رحمت کا نتیجہ ہے کہ آپ انسانوں کو تاریکیوں سے نور کی طرف، جہالت سے علم کی طرف، اور گمراہی سے ہدایت و ایمان کی طرف لے آ‍‌‌ئے، آپ نے امانتِ نبوت کا پورا پورا حق ادا کیا، اور امت کی خیرخواہی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی منفعت کے بڑے خواہشمند تھے، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں، جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ }(التوبۃ: 128)

اللہ تعالی نے اپنے نبی و رسول کو ان کے شایانِ شان حقوق دیئے، کیونکہ آپ سارے انسانوں میں سب سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:&"آدم کی ساری اولاد کا سردار ہوں اور مجھے اس پے کو‎ئی فخر نہیں&" (اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض حقوق یہ ہیں:

1-یہ یقین رکھنا کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو ساری دنیا کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے، اور آپ نے امانتِ نبوت کا پورا پورا حق ادا کیا، اور اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{سو تم اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ ۔}(التغابن: 8)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:&"اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، اس امت کا کوئی بھی شخص، یہودی ہو یا نصرانی، جو بھی میری نبوت کے بارے میں سنے، پھر اس کی موت ہوجائے، اور وہ میرے لائے ہوئے پیغام پر ایمان نہ لایا ہو، تو وہ ضرور جہنم رسید ہوگا&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

2-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے سامنے پیش کیا ہے، اس کی تصدیق کرنا اور اس کو قبول کرنا، نیز یہ یقین رکھنا کہ آپ نے بلا شک و شبہ اللہ تعالی کی طرف سے حق کا پیغام پہنچایا ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر پکا ایمان لائیں اور پھر شک و شبہ نہ کریں }(الحجرات: 15)

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔ }(النساء: 65)

3-آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا؛ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{آپ کَہ دیجیئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالی اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ }(التوبۃ: 24)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&"اس وقت تک کوئی شخص مومنِ کامل نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کی نظر میں اپنی اولاد، والدین اور سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

4-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تقدس؛ اللہ تعالی نے فرمایا:{تاکہ (مسلمانو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو۔ }(الفتح: 9)

نیز اللہ تعالی نے فرمایا:{سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجاگیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔}(الاعراف: 157)

5-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے یعنی اُن اہلِ بیت کی تعظیم اور ان سے محبت رکھنا، جنہوں نے اسلام قبول کیا، آپ کی سنتوں پر عمل کیا، اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو صحیح طور پر سمجھا، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:&"میں اپنے گھر والوں کے بارے میں تمہیں اللہ کا خوف یاد دلاتا ہوں،&"میں اپنے گھر والوں کے بارے میں تمہیں اللہ کا خوف یاد دلاتا ہوں،&"میں اپنے گھر والوں کے بارے میں تمہیں اللہ کا خوف یاد دلاتا ہوں&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

اہلِ بیت لوگوں میں سب سے زیادہ معزز و مکرم مخلوق ہیں، جیسے آپ کی ازواجِ مطہرات، آپ کی اولاد، اور آپ کے وہ رشتے دار جن کے لئے صدقہ کھانا حرام ہے۔ اہلِ بیت کی شان میں گستاخی کرنا، یا انہیں گالی دنیا جائز نہیں ہے، نیز اسی طرح ان لوگوں کو معصوم یا گناہوں سے پاک سمجھنا، یا اللہ کو چھوڑکر ان سے دعائیں مانگنا بھی جائز نہیں ہے۔

6-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ سے محبت کرنا، جنہوں نے آپ پر ایمان لایا، اور آپ کو سچا مانا اور ان صحابہ کرام کے بارے میں غلط بیانی میں نہ پڑنا، کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی مدح سرائی سے نوازا ہے۔

7-جن صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا، اور آپ کو سچا مانا ہے، ان کے بارے میں غلط بیانی میں نہ پڑنا، کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی مدح سرائی سے نوازا ہے۔ {محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کررہے ہیں اللہ تعالی کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے۔ }(الفتح: 29)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے بارے میں یہ فرمایا کہ:&"میرے صحابہ کو گالی مت دو، میرے صحابہ کو گالی مت دو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کردے، تو بھی وہ میرے صحابہ میں سے کسی ایک کے قَد تک، بلکہ اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ پائیگا۔&" (اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

صحابہ میں سب سے افضل و اشرف خلفاء راشدین: حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، اور علی رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں؛ جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ }(التوبۃ: 100)

ان سارے صحابہ کرام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہونے والی ساری باتیں پہنچائی، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ علم و معرفت تک ہماری رسائی ہوئی۔


اللہ تعالی سے ملاقات ہونے پر ایمان رکھنا

ساری مخلوقات اللہ تعالی ہی کی طرف لوٹنے والی ہے، اور یہی ان کا آخری ٹھکانہ و ملجا ہے۔ اس بات پر ایمان رکھنا اللہ تعالی کی ذات پر ایمان رکھنے کا اہم و بنیادی جزو، بلکہ یہ تو ایمان کا ایک رکن ہے، چنانچہ ایمان کے ارکان میں یہ ہے کہ آخرت کے دن پر ایمان رکھا جائے۔ حدیث میں یہ ثابت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے درمیان ان کو تعلیم دینے کی غرض سے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ایمان کے ارکان کے بارے میں سوال کیا، تو جبرئیل نے آپ سے کہا:&"ایمان کے ارکان یہ ہیں کہ آپ اللہ تعالی پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اور اچھی و بری تقدیر پر ایمان رکھیں&" (اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

آخرت کو آخری دن اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن آنے والا نہیں ہے، چنانچہ اس دن کے بعد جنت والے جنت میں، اور جہنم والے جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں تک پہنچ جائیں گے۔ آخرت کے دن کے قرآن کریم میں کئی اور نام بھی ہیں، جس سے اس دن کی عظمت و اہمیت اور اس دن رونما ہونے والے واقعات کی ہولناکی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس دن کا ایک نام: &"واقعۃ&" بھی ہے، اس لئے کہ اس دن کا واقع ہونا یقینی ہے۔ اس کا ایک نام: پست کرنےوالی اور بلند کرنے والی&" ہے؛ اس لئے کہ اس دن کسی قوم کے مقدر میں بلندی ہوگی، تو کسی دوسری قوم کے حق میں پستی و ذلت کے ساتھ جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس دن کا ایک نام: حساب، بدلہ اور جزاء کا دن بھی ہے۔ ایک اور نام &"حاقۃ&" ہے، کیونکہ اس دن اللہ کی طرف سے بتائی ہوئی ساری خبریں درست ثابت ہوجائیں گی۔ اس کا ایک نام: &"طامۃ&" یعنی وہ دن جو ہر چیز پر غالب ہے۔ ایک اور نام &"صاخۃ&" ہے، اس لئے کہ جب صور پھونک دیا جائے گا، تو اس کی وجہ سے سارے کان بَہرے ہوجائیں گے۔ اس کا ایک نام &"یومِ وعید&" بھی ہے، کیونکہ اس دن کافروں کے حق میں اللہ تعالی کی طرف سے ملی ہوئی ساری وعیدیں سچ ثابت ہوجائیں گی۔ اس کا ایک نام &"ملنے کا دن&" ہے، اس لئے کہ اس دن سارے لوگ ایک ہی جگہ پر اکٹھا ہوں گے۔ اس دن کا ایک نام قریب والا دن ہے، کیونکہ وہ لوگوں سے بہت زیادہ قریب ہے۔ ایک اور نام بلاوے کا دن ہے، کیونکہ اس دن لوگ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے رہیں گے، چنانچہ جنت والے جنت والوں کو، اور جہنم والے جہنم والوں کو آواز دیں گے۔ اس دن کا ایک نام: &"بانجھ دن&" ہے، کیونکہ اس دن کے بعد کوئی اور دن آنے والا نہیں ہے۔ &"دار الآخرۃ&"، &"دار القرار&" بھی اس کا نام ہے۔ اور ایک اور نام &"ڈھانپنے والا دن&" ہے، اس لئے کہ یہ دن سارے لوگوں کو اپنے دامن سے ڈھانپ لے گا۔ اس کے علاوہ اس دن کے اور بھی کئی نام ہیں۔

آخرت پر ایمان رکھنے میں شامل ہونے والی چیزیں:

موت کے بعد والی زندگی پر ایمان رکھنا

قبر کی آزمائش: قبر کی آزمائش یہ ہے کہ میت کو دفن کئے جانے کے بعد میت سے اس کے رب، اس کے دین، اور اس کے نبی کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور اس وقت اللہ تعالی ایمان والوں کو سچی بات پر ثابت قدمی عطا فرمائے گا، چنانچہ بندہ کہے گا: میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے، اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور اس وقت اللہ تعالی ظلم کرنے والے کافروں کو گمراہ کردے گا، چنانچہ کافر کہے گا: &"افسوس، ہائے افسوس، میں کچھ نہیں جانتا&"۔ اور اس وقت منافق یا شک میں پڑے رہنے والا شخص یہ کہے گا: &"میں کچھ نہیں جانتا ہوں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کی کچھ باتیں کہتے سنا تھا، اس لئے میں نے بھی وہی کہا تھا&"۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب کبھی کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے، تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تَر ہوجاتی۔ راوی کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت عثمان سے یہ کہا کہ: آپ کے سامنے جنت وجہنم کا تذکرہ کیا جاتا ہے، تو آپ نہیں روتے، اور قبر کے سامنے کھڑے ہوکر آپ رونے لگتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ: یقینا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:&"بیشک قبر آخرت کی منزلوں میں سب سے پہلی منزل ہے۔ جب انسان اس منزل میں نجات پالے، تو اس کے بعد کی ساری منزلیں اس کے لئے بہت ہی زیادہ آسان ہوجائیں گی، اور جب اس منزل ہی پر انسان کے حق میں نجات مقدر نہ ہوئی، تو پھر اس کے بعد کی ساری منزلیں اس سے کہیں زیادہ سخت ہوں گی&"۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے یہ بھی کہا کہ: &"میں نے قبر سے زیادہ خطرناک یا خوفناک کوئی اور منظر نہیں دیکھا ہے&" (اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔)

قبر کا عذاب اور اس کی نعمتیں: قبر کا عذاب کافروں، منافقوں، اپنے آپ پر شرک کرتے ہوئے ظلم کرنے والوں، اور بعض مومن گنہگاروں پر ہوگا، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالی پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی اور جو شخص یوں کہے کہ جیسا کلام اللہ نے نازل کیا ہے اسی طرح کا میں بھی لاتا ہوں اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھارہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو۔ آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی اس سبب سے کہ تم اللہ تعالی کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے، اور تم اللہ تعالی کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔ }(الانعام: 93)

اللہ تعالی نے آلِ فرعون کے بارے میں یہ فرمایا کہ:{آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو۔ }(غافر: 46)

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&"اگر لوگوں کے درمیان دفن کرنے کا رواج نہ پایا جاتا، تو ضرور میں اللہ تعالی سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں قبر کا وہ عذاب سنائے، جو میں سنتا ہوں&"، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف پوری طرح متوجہ ہوئے، اور فرمایا: &"تم عذابِ قبر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگو&"، تو ہم سب نے کہا: ہم عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، پھر آپ نے کہا: &"تم عذابِ قبر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگو&"، تو ہم سب نے کہا: ہم عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تم ظاہری و باطنی فتنوں و برائیوں سے اللہ تعالی کی پناہ مانگو، ہم سب نے کہا: ہم ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تم دجّال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

اور جہاں تک قبر کی نعمتوں کا سوال ہے، تو وہ صرف سچے مومنوں کا مقدر ہیں، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ: {(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو۔ }(فصلت: 30)

نیز اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو۔ ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔ پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں۔ اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ۔ پس جو کوئی بارگاہ الہی سے قریب کیا ہوا ہوگا، اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے۔ اور جو شخص داہنے (ہاتھ) والوں میں سے ہے۔ تو بھی سلامتی ہے تیرے لئے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے۔ لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے، تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ہے۔ اور دوزخ میں جانا ہے۔ یہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے۔ پس تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔}(الواقعۃ: 83-96)

اور اللہ تعالی نے قبر میں منکر نکیر کے سوالات کا صحیح جواب دینے والے بندہ مومن کے بارے میں یہ فرمایا ہے: &"آسمان سے ایک منادی آواز دے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے، لہذا تم اس کے لئے جنت کا فرش بچھاؤ، اس کو جنت کا لباس پہناؤ، اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دو۔ فرمایا کہ: جنت کی پُر نَم ہوائیں، اور خوشبو اس مومن بندے کی قبر میں پھیل جاتی ہیں، اور حدّ نگاہ تک اس کی قبر کو کشادہ کردیا جاتا ہے&"(اس حدیث کو امام احمد، اور امام ابوداؤد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں روایت کیا ہے)

موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان رکھنا:

یعنی دوبارہ صور پھونکے جانے کے بعد مُردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھنا۔ اُس وقت سارے مُردے اپنی اپنی قبروں سے ساری دنیا کے پالنہار کے سامنے اٹھ کھڑے ہوں گے، وہ ننگے پیر اور ننگے جسم ہوں گے، اور بے ختنہ ہوں گے، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کرکے (ہی) رہِیں گے۔ }(الانبیاء: 104)

موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ایک یقینی حقیقت ہے، جس کی واضح دلیل قرآن کریم، احادیثِ نبویہ اور اجماعِ امت ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مرجانے والے ہو۔ پھر قیامت کے دن بلاشبہ تم سب اٹھائے جاؤگے۔ } (المؤمنون: 15-16)

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:&"قیامت کے دن لوگ ننگے پیر اور بے ختنہ اکٹھا کئے جائیں گے&" (اس حدیث پر امام بخاری و مسلم متفق ہیں)

موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر سارے مسلمان متفق ہیں، اور یہی حکمت کا تقاضہ بھی ہے، کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کے لوٹنے کے لئے کوئی ایسا دن متعین کرے، جس دن وہ اپنے رسولوں کی زبانی بھیجے ہوئے احکامات پرعمل کے مطابق انہیں بدلہ دے۔ جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤگے۔ }(المؤمنون:115)

اللہ تعالی اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:{جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لانے والا ہے۔ }(القصص: 85)

قیامت کی رونما ہونے والی نشانیوں اور علامتوں پر ایمان رکھنا:

یہ وہ نشانیاں یا علامتیں ہیں جو قیامت کے قائم ہونے سے پہلے پہلے ظاہر ہوں گی، اور قربِ قیامت کی دلیل ہوں گی۔ شرعی اصطلاح میں ان علامتوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے: &"صُغریٰ&" اور &"کُبریٰ&"۔

&"صُغریٰ&" یعنی چھوٹی چھوٹی علامتیں:

یہ وہ علامتیں ہیں جو عمومی طور پر قیامت کے قائم ہونے سے کئی سالوں پہلے رونما ہوں گی۔ ان میں سے کچھ علامتیں تو ظاہر ہوگئیں اور مٹ بھی گئیں، لیکن ہوسکتا ہے کہ پھر وہ دوبارہ ظاہر ہوں۔ ان میں سے کچھ علامتیں ظاہر ہوئیں، اور پے در پے ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ اور ان میں سے کچھ وہ علامتیں بھی جو اب تک ظاہر ہی نہیں ہوئی ہیں، لیکن وہ عنقریب ظاہر ہوں گی، جیساکہ نبئ صادق و مصدوق نے اس کی خبر دی ہے۔ مثال کے طور پر چھوٹی چھوٹی بعض علامتیں یہ ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت و رسالت اور آپ کا اس دنیا سے پردہ فرماجانا۔ بیت المقدس پر مسلمانوں کا فتح یاب ہونا۔ فتنوں اور برائیوں کا پھیلنا۔ امانت کی پاسداری کا خیال نہ رہنا۔ علم کی کمی اور جہالت کا عام ہونا۔ زنا اور سود کا انتشار ہونا۔ موسیقی کا رواج ہونا۔ شراب نوشی بکثرت ہونا۔ چرواہوں کا اونچی انچی عمارتوں کی تعمیر پر فخر کرنا۔ اولاد کا اپنی ماؤں کی نافرمانی کرنا، یہاں تک کہ ان کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کرنا۔ قتل و غارت گری اور زلزلوں کی کثرت ہونا۔ انسانی خلقت میں تبدیلی، زمین کی گہرائیوں تک پہنچنے اور آپس میں ایک دوسرے پر تہمت لگانے کا رجحان عام ہونا۔ ننگے بدن والی عورتوں کی کثرت ہونا۔ جھوٹی گواہی دینے، اور سچی گواہی چھپانے کا رواج ہونا۔ ۔ ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی چھوٹی چھوٹی علامتیں ہیں، جن کو قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ میں ذکر کیا گیا ہے۔

قیامت کی بڑی علامتیں:

یہ بہت بڑی بڑی چیزیں ہیں، اور ان کا رونما ہونا قیامت کے قریب ہونے، اور ہولناک دن کے زیادہ دور نہ ہونے کی علامت ہے۔ یہ بڑی علامتیں دس ہیں: دجّال، عیسیٰ بن مریم کا نزول، یاجوج ماجوج، تین چاند گرہن ہونا: ایک مشرق میں، ایک مغرب میں، اور ایک جزیرہ عرب میں۔ دھواں پھیلنا، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، کیڑے مکوڑوں کا عام ہونا، اور اس آگ کا پھیلنا جو لوگوں کو ان کے ٹھکانوں تک لا پہنچائے گی۔ یہ ساری علامتیں پے در پے ظاہر ہوں گی، چنانچہ جب ان میں سے پہلی علامت رونما ہوگئی تو پھردوسری علامت اس کے فوری بعد رونما ہوگی۔

قیامت کی ہولناکی اور اس دن رونما ہونے والی مصیبتوں پر ایمان رکھنا:

1-اونچے اونچے پہاڑوں کو چکنا چور کرکے اس کو مٹی میں ملادینا، اور ان پہاڑوں کو زمین کے برابر کردینا۔ جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور آپ پہاڑوں کو دیکھ کر اپنی جگہ جمے ہوئے خیال کرتے ہیں لیکن وہ بھی بادل کی طرح اڑتے پھریں گے۔ }(النمل: 88)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔ }(الواقعۃ: 5-6)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور پہاڑ مثل رنگین اون کے ہوجائیں گے۔ }(المعارج: 9)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{وہ آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیجئے کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑادے گا۔ اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کرکے چھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کہیں موڑ توڑ دیکھے گا نہ اونچ نیچ۔ }(طٰہٰ: 105-107)

2-سمندروں کا پھٹ پڑنا، اور ان کا بھڑکنا، چنانچہ ہماری اس زمین کے اکثر حصے کو اپنے گھیرے میں رکھنے والے یہ بڑے بڑے سمندر اس ہولناک دن بھڑک اٹھیں گے۔ جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{اور جب سمندر بَہہ نکلیں گے۔ } (الانفطار: 3) ، {اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔ }(التکویر: 6)

3-جس زمین پر لوگ آباد ہیں، اور اسی طرح جس آسمان تلے لوگ جی رہے ہیں، ان کو بدل دیا جائیگا، چنانچہ لوگ ایک ایسی زمین پر دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، جن کا انہیں کچھ علم نہیں ہوگا، اور نہ کبھی وہ اس کے بارے میں کچھ سنے ہوں گے: جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی، اور سب کے سب اللہ واحد غلبے والے کے روبرو ہوں گے۔ }(ابراھیم: 48)

فرمایا کہ:&"قیامت کے دن لوگوں کو ایک ایسی زمین پر اکٹھا کیا جائے گا، جو سرخی مائل اور سفید ہوگی، جیساکہ صاف و شفاف ٹھیکری ہوتی ہے، اور اس زمین میں کسی کے لئے کوئی علامت نہیں ہوگی&"(اس حدیث پر امام بخاری و مسلم کا اتفاق ہے) ، وہ زمین سفید سپاٹ ہوجائے گی، اس میں کوئی علامت جیسے پہاڑ، راستے، سڑکیں اور وادیاں نہیں ہوں گی۔

4-اُس دن لوگ وہ سب کچھ دیکھیں گے، جو انہوں نے پہلے کبھی نہں دیکھا، جیسے وہ سورج اور چاند کو اکٹھا دیکھیں گے، جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں خوف و دہشت اور بڑھ جائے گی؛ جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{پس جس وقت کہ نگاہ پتھرا جائے گی۔ اور چاند بے نور ہوجائے گا۔ اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے۔ اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ }(القیامۃ: 7-10 )

5-صور پھونکا جائیگا، اور یہی اس دنیوی زندگی کا خاتمہ ہے۔ جب قیامت کا دن آجائے گا تو صور پھونک دیا جائیگا، اور اس صور کی وجہ سے آسمان و زمین کی زندگی تھم جائے گی۔{اور صور پھونک دیا جائیگا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے ۔}(الزمر: 68)

یہ بہت خوفناک و خطرناک ہوگا، انسان اس کی آواز سننے کے بعد نہ کسی چیز کے بارے میں کچھ کہنے کی صلاحیت رکھے گا، اور نہ اپنے اہلِ خانہ و دوستوں کے پاس لوٹ پائے گا۔{انہیں صرف ایک سخت چیخ کا انتظار ہے جو انہیں آ پکڑے گی اور یہ باہم لڑائی جھگڑے میں ہی ہوں گے۔ اس وقت نہ تو یہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ سکیں گے۔ }(یٰس: 49 – 50)

فرمایا کہ:&"پھر صور پھونک دیا جائے گا، جس کو سننے والا ہر شخص اپنی گردن اوپر نیچے کرنے لگے گا- فرمایا: صور کو سننے والا پہلا شخص وہ ہوگا جو اپنی اونٹنی کی صفائی میں لگا ہوگا – فرمایا: وہ چیخنے چلانے لگے گا، تو لوگ بھی اس کے ساتھ چیخنے لگیں گے&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

6-ارضِ محشر پر اللہ کی مخلوقات میں پہلے پیدا ہونے والے شخص سے لیکر آخر میں آنے والے شخص کو اکٹھا کیا جائے گا۔ سارے انسان، جنات، بلکہ حیوانات بھی اس زمین پر اکٹھا کیے جائیں گے، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ ، وہ دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے۔ }(ھود: 103)

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{آپ کَہہ دیجئے کہ یقیناً سب اگلے اور پچھلے ضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت۔ } (الواقعۃ: 49-50)

7-لوگوں کو مادر زاد ننگا اٹھایا جائے گا، جیساکہ اللہ تعالی انہیں پیدا کیا تھا، لیکن قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے لوگوں کو اپنے ننگے پن کا احساس بھی نہیں ہوگا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات سے بڑا تعجب بھی ہوا، چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ:&"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم لوگ قیامت کے دن ننگے پیر، ننگے بدن اور بے ختنہ اٹھائے جاؤگے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول، کیا مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: قیامت کی ہولناکی کے سامنے ننگے پَن کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی ہے&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

8-ظالم سے مظلوم کا بدلہ لیا جائے گا، یہاں تک کہ جانوروں کے درمیان بھی یہ معاملہ کیا جائے گا، جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&"قیامت کے دن حقداروں کو ان کا حق لوٹادیا جائے گا، یہاں تک کہ بے سینگھ بکری کا بدلہ سینگھ والی بکری سے لیا جائے گا&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ:&"جس شخص نے اپنے کسی بھائی پر اس کی عزت و آبرو، یا کسی اور چیز میں ظلم کیا ہو، تو وہ آج ہی اس کو معاف کروالے، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس دن نہ دینار ہوگا نہ درہم۔ اگر اس شخص کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی ہو، تو اس کے ظلم کے بقدر یہ نیکی اس سے چھین لی جائے گی، اور اگر اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ہو، تو پھر مظلوم کی برائیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جائیں گے&"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

9-سورج لوگوں سے کچھ اس حد تک قریب ہوگا کہ لوگ اپنے اپنے اعمال کے بقدر پسینوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&"قیامت کے دن سورج مخلوق سے بے انتہاء قریب ہوگا، یہاں تک کہ بعض لوگوں سے ایک میل کے فاصلے پر ہی ہوگا۔ روائ حدیث سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ: خدا کی قسم مجھے یہ نہیں معلوم کہ اللہ کے رسول نے میل سے کیا مراد لیا ہے: آپ کی مراد ایک میل کی مسافت ہے، یا پھر میل سے وہ لکڑی مراد ہے جس سے سُرمہ لگایا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: چنانچہ لوگ اپنے اپنے اعمال کے بقدر پسینوں میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، کوئی اپنے ٹخنوں تک ڈوبا ہوگا۔ کوئی اپنے گھٹنوں تک ڈوبا ہوگا۔ کوئی اپنی کمر تک، اور کسی کو پسینے کی لگام لگائی جائے گی۔ روای کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری جملے میں ہاتھوں سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ کیا&"(اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

10-کسی کو اپنا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ملے گا، تو کسی کو بائیں ہاتھ میں۔ لوگ حیرت وپریشانی اور خوف و دہشت کے عالم میں پڑے رہیں گے، یہاں تک کہ ہر ایک کے ہاتھ میں اپنا اپنا نامہ اعمال پہنچ جائے گا؛ چنانچہ جب مومنوں کے داہنے ہاتھوں میں ان کا نامہ اعمال مل جائے گا، تو انہیں اس بات کی خوشی ہونے لگے گی کہ اب اپنی نجات بہت قریب ہے، دوسری طرف جب کافروں اور منافقوں کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھوں میں دیا جائے گا، تو ان کا غم پر غم بڑھتا جائے گا، اسی بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{سو جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہنے لگے گا کہ لو میرا نامہ اعمال پڑھو۔ مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے۔ پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔ بلند و بالا جنت میں۔ جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے۔ (ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کئے۔ لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وہ تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی۔ اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے۔ کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کردیتی۔ میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا۔ میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا۔ }(الحاقۃ: 19-29)

11-لوگوں میں اس قدر خوف و دہشت پیدا ہوجائے گی کہ کوئی کسی کے بارے میں کچھ نہیں جاننے کی کوشش کرے گا، اس کو تو بس اپنی فکر لگی رہے گی، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی۔ }(الشعراء: 88)

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اس دن آدمی اپنے بھائی سے۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی۔ }(عبس: 34)

حساب و کتاب اور بدلہ ملنے پر ایمان رکھنا:

بندوں کا ان کے اعمال پر حساب کتاب لیا جائے گا، اور انہیں ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر بیشک ہمارے ذمہ ان سے حساب لینا۔} (الغاشیۃ: 25-26)

نیز فرمایا کہ:{جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا۔ }(الانعام: 160)

اور اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائیگا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے لا حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔ }(الانبیاء: 47)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&"یقینا اللہ تعالی مومن بندے کو اپنے آپ سے قریب کرتا ہے، پھر اس کے ساتھ پردہ پوشی کا معاملہ کرتا ہے۔ اللہ کہتا ہے: کیا تم نے یہ گناہ نہیں کیا؟ کیا تم نے وہ گناہ نہیں کیا؟ تو بندہ کہے گا: ہاں میرے پروردگار میں نے یہ گناہ کئے ہیں، یہاں تک کہ بندہ اپنے سارے گناہوں کا اقرار کرلے گا، اور یہ خیال کرنے لگا گا، کہ اب تو میں ہلاک و برباد ہوگیا۔ پھر اللہ اس سے کہیں گے کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں کی پردہ پوشی کی ہے، اور آج بھی میں تیرے ساتھ پردہ پوشی کا معاملہ کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: پھر اس کے بعد نیکیوں کا رجسٹر اس کو دیا جائیگا۔ اور جہاں تک کافروں اور منافقوں کی بات ہے، تو ساری مخلوقات کے سامنے انہیں بلایا جائے گا۔ {یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا، خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔} (ھود: 18)&"(اس حدیث پر امام بخاری و مسلم متفق ہیں)

صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے نقل کرتے ہوئے یہ کہا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:&"یقیناً اللہ تعالی نیکیاں اور برائیاں دونوں لکھتے ہیں، پھر ان کی وضاحت کرتے ہیں۔ جس شخص نے کو‎‎ئی نیکی کرنے کا ارادہ تو کیا، لیکن اس نے وہ نیکی نہیں کی، تو اللہ تعالی اس کے نامہ اعمال میں ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے۔ اور اگر کسی شخص نے نیکی کا ارادہ کیا، اور اس پر عمل بھی کیا، تو اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں دس سے ستّر گنا، بلکہ اس سے بھی کئی گنا بڑھ کر ثواب لکھ دیتا ہے۔ اگر کسی شخص نے برائی کا ارادہ تو کیا، لیکن اس برائی پر عمل نہیں کیا، تو اللہ تعالی اس کے نامہ اعمال میں ایک مکمل نیکی لکھدے گا، اور اگر کسی نے برائی کا ارادہ کیا اور اس کے مطابق عمل بھی کیا، تو اللہ تعالی اس کے نامہ اعمال میں صرف ایک گناہ لکھیں گے۔ &"(اس حدیث پر امام بخاری و مسلم متفق ہیں)

سارے مسلمان حساب و کتاب اور اعمال پر ملنے والے بدلے کا متفقہ طور پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ حکمت کا تقاضہ بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے کتابیں نازل کیں، رسولوں کو بھیجا، بندوں پر یہ فرض کیا کہ وہ ان رسولوں پر ایمان لائیں، ان کی اطاعت کریں، اور اللہ کی اطاعت سے روگردانی کرنے والے، اس پر ایمان نہ لانے والے، اور رسولوں کی بات نہ ماننے والے شخص کے حق میں سخت عذاب اور دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے۔ اگر کوئی حساب کتاب نہ ہوتا، اور اعمال پر بدلہ نہ دیا جاتا، تو یہ ایک بیکار کام ہوگا، جس سے کہ اللہ تعالی مکمل طور پر بری ہیں۔ اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں یہ فرمایا کہ: {پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے۔ پھر ہم چونکہ پوری خبر رکھتے ہیں ان کے روبرو بیان کردیں گے۔ اور ہم کچھ بے خبر نہ تھے۔ }(الاعراف: 6-7)

جنت و جہنم پر ایمان رکھنا :

امام حسن بصری سے یہ سوال کیا گیا کہ: ہم نے تو تابعین کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ عبادت کرتے دیکھا ہے، تو پھر صحابہ کس بناء پر تابعین سے رتبے میں آگے ہیں؟ تو حسن بصری نے کہا: یہ تابعین عبادت تو کرتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں دنیا ہوتی ہے۔ جبکہ صحابہ کرام عبادت کرتے تھے، اور انکے دلوں میں آخرت کی فکر ہوتی تھی۔

جنت و جہنم مخلوق کے لئے ہمیشگی کا ٹھکانہ ہے؛ جنت جو کہ (اُن نعمتوں کا گھر ہے جن کا وعدہ اللہ تعالی نے تقوی رکھنے والے ایمان والوں کے ساتھ کیا ہے، جنہوں نے اللہ کی طرف سے فرض کی ہوئی ساری چیزوں پر ایمان لایا، اور اللہ کے لئے دل میں اخلاص رکھتے ہوئے، اور رسول کی اطاعت کے جذبے سے ان دونوں کی اطاعت کی) اس میں کئی طرح کی نعمتیں ہیں: &"جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، اور نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے، اور نہ کسی دل میں ان کا کبھی کوئی خیال پیدا ہوا ہے&"۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔ ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بَہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ اللہ تعالی ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔ }(البینۃ: 7-8)

نیز اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کر رکھی ہے۔ جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔ }(السجدۃ: 17)

جنت کی سب سے بڑی نعمت اللہ کا دیدار ہوگی۔ جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اس روز بہت سے چہرے تر وتازہ اور بارونق ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ }(القیامۃ: 22-23)

اور اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی۔ } (یونس: 26)

&"حُسنیٰ&" سے مراد جنت ہے، اور &"زیادۃ&" سے مراد اللہ تعالی کا دیدار ہے۔ جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&"جب جنت والے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ فرمایا کہ اللہ تعالی فرمائیں گے کہ: کیا تم مزید کسی اور چیز کی خواہش رکھتے ہو؟ تو جنتی لوگ کہیں گے: کیا آپ نے ہمارے چہروں کو پُر نور نہیں کردیا؟ کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کردیا، اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دلوادی؟ فرمایا کہ: اس وقت اللہ تعالی اپنے آپ کو پردے سے باہر کریں گے۔ یقیناً جنتیوں کو ملنے والی ساری نعمتوں میں اللہ کے دیدار سے زیادہ محبوب ان کے لئے کوئی اور چیز نہیں ہوگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی۔ }(یونس: 26)&" (اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے)

جبکہ جہنم اس عذاب کا گھر ہے، جس کا وعدہ اللہ تعالی نے ان کافروں اور ظالموں سے کیا ہے، جنہوں نے اللہ تعالی کا انکار کیا، اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ جہنم میں کئی طرح کے عذاب اور ایسی ایسی سزائیں ہیں، جو کبھی کسی کے دل میں خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ } (آل عمران: 131)

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{ظالموں کے لئے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گے۔ اگر وہ فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا جو چہرے بھون دے گا، بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاہ (دوزخ) ہے۔ }(الکھف: 29)

مزید اللہ تعالی یہ فرماتے ہیں کہ:{اللہ تعالی نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ وہ کوئی حامی و مددگار نہ پائیں گے۔ اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ (حسرت و افسوس سے) کہیں گے کہ کاش ہم اللہ تعالی اور رسول کی اطاعت کرتے۔ }(الاحزاب: 64-66)

جہنمیوں کو ملنے والے عذاب (اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے) میں سب سے کم درجے کا عذاب یہ ہوگا، جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:&" جہنمیوں میں سب سے کم درجے کے عذاب والا شخص وہ ہوگا، جس کے قدموں کی چھوٹی انگلیوں میں چنگاری رکھی جائے گی، اور اس کی حرارت و شدت سے اس کا دماغ بھی اُبال لے رہا ہوگا۔ &"(اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)

آخرت کے دن پر ایمان رکھنے سے حاصل ہونے والے نتائج:

1-ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن کا وجود یقینی ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی پر ایمان اسی وقت کامل ہوگا، جب آخرت پر بھی ایمان رکھا جائے۔ چنانچہ آخرت پر ایمان لانا ایمان کا ایک رکن ہے، اسی لئے اللہ تعالی نے ہم پر ان لوگوں کے ساتھ جہاد کرنا فرض کیا ہے، جو آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے }(التوبۃ: 29)

2-دنیا و آخرت میں سلامتی، اور اجرِ عظیم کا وعدہ، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔ }(یونس: 62)

3-اجرِ عظیم کا وعدہ، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{مسلمان ہوں، یہودی ہوں، نصاری ہوں یا صابی ہوں، جو کوئی بھی اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔ }(البقرۃ: 62)

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک خاتون سے یہ کہا کہ: تم موت کو بکثرت یاد کرو، کیونکہ اس سے تمہارا دل نرم ہوجائے گا۔

4-نیکیوں کی طرف رغبت، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالی کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالی کی طرف اور رسول کی طرف ، اگر تمہیں اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور با اعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ }(النساء: 59)

اور اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{اللہ کی مسجدوں کی رونق آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں۔ }(التوبۃ: 18)

نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے، اور بکثرت اللہ تعالی کی یاد کرتا ہے۔ }(الاحزاب: 21)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{یقیناً تمہارے لئے ان میں اچھا نمونہ (اور عمدہ پیروی ہے خاص کر) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو۔ }(الممتحنۃ: 6)

اللہ تعالی یہ بھی فرماتے ہیں کہ:{اور اللہ کی رضامندی کے لئے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ یہی ہے وہ جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ }(الطلاق: 2)

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جو شخص موت کی حقیقت پہچان لے، تو دنیا کی ساری مصیبتیں اس کے لئے آسان ہوجائیں گی۔

5-برائیوں سے دوری: جیساکہ ہمارے پروردگار نے فرمایا کہ:{انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہے اسے چھپائیں، اگر انہیں اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ }(البقرۃ: 228)

نیز فرمایا کہ:{اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر یقین و ایمان ہو۔ }(البقرۃ: 232)

فرمایا کہ:{اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے تو مالی اور جانی جہاد سے رکے رہنے کی کبھی بھی تجھ سے اجازت طلب نہیں کریں گے، اور اللہ تعالی پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔ یہ اجازت تو تجھ سے وہی طلب کرتے ہیں جنہیں نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت کے دن کا یقین ہے، جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں، اور وہ اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں۔ }(التوبۃ: 44-45)

چنانچہ اسی وجہ سے جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ہے، وہ برائیوں کے ارتکاب سے باز نہیں رہتا ہے، اور نہ اس میں حیاء ہوتی ہے : {کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روزِ) جزاء کو جھٹلاتا ہے؟ یہی وہ ہے جو یتیم کو دکھ دیتا ہے۔ اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ }(الماعون: 1-3)

یقیناً دل میں نہ سدھار پیدا ہوتا ہے، نہ کامیابی ملتی ہے، نہ خوشی محسوس ہوتی ہے، نہ لذتیں اچھی لگتی ہیں، نہ سرور و کیف ملتا ہے، اور نہ قرار نصیب ہوتا ہے، مگر ہاں اللہ کی عبادت اور اس کی طرف رجوع کرلینے سے دل کو یہ ساری نعمتیں میسر ہوجاتی ہے۔

شیخ الاسلام

6-دنیا میں مومن کو میسر نہ ہونے والی چیزوں پر آخرت میں ملنے والی نعمتوں سے دلاسہ دینا، کیونکہ جنت کا حصول ہی تو سب سے بڑی کامیابی ہے، اور یہ دنیا تو ایک دھوکے کا سامان ہے، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤگے، پس جو شخص آگ سے ہٹادیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے بے شک وہ کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔ }(آل عمران: 185)

نیز اللہ تعالی نے فرمایا کہ:{آپ کہہ دیجئے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ جس شخص سے اس روز وہ عذاب ہٹایاجائے تو اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہ صریح کامیابی ہے۔ } (الانعام: 15-16)

اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا کہ:{اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقاء والی ہے۔ }(الاعلیٰ: 17)

دنیا میں مومن کو میسر نہ ہونے والی چیزوں پر آخرت میں ملنے والی نعمتوں اور ثواب سے دلاسہ دینا، کیونکہ جنت کا حصول ہی تو سب سے بڑی کامیابی ہے، اور یہ دنیا تو ایک دھوکے کا سامان ہے، جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:{ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤگے، پس جو شخص آگ سے ہٹادیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے بے شک وہ کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔ }(آل عمران: 185)

اور اللہ تعالی نے یہ فرمایا کہ:{آپ کہدیجئے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ جس شخص سے اس روز وہ عذاب ہٹایاجائے تو اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہ صریح کامیابی ہے۔ } (الانعام: 15-16)

نیز اللہ تعالی نے یہ کہا:{اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقاء والی ہے }(الاعلیٰ: 17 )